ایران کے اندر جاسوسوں اور ایجنٹوں کی بھرتی محض اتفاق نہیں بلکہ اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے ’موساد‘ کی جانب سے کی جانے والی ایک طویل، پیچیدہ اور انتہائی منظم کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
مزید پڑھیں
فرانسیسی جریدے ’لیکسپریس‘ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایران کے اندر ایک ایسا ’مکڑی کا جالا‘ بن رکھا ہے جس نے جون 2025 میں ’رائزنگ لائن‘ (Rising Lion) جیسے بڑے آپریشنز کو ممکن بنایا۔
اس آپریشن میں نہ صرف ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا بلکہ پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ ترین افسران کو بھی ٹھکانے لگایا گیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ موساد اتنے حساس معاشرے میں داخل کیسے ہوتا ہے؟
نادانستہ بھرتی: موساد کا خطرناک ترین ہتھیار
الیگزینڈرا ساویانا کی رپورٹ کے مطابق موساد کا سب سے خوفناک حربہ یہ ہے کہ وہ ایسے افراد کو بھرتی کرتا ہے جنہیں زندگی بھر یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اس طریقے کو ’فالس فلیگ‘ (False Flag) آپریشن کہا جاتا ہے۔
- فرضی تنظیمیں: موساد بیرونِ ملک موجود ایرانی اپوزیشن گروہوں یا فرضی کمپنیوں کے نام پر ایجنٹ بھرتی کرتا ہے۔ ہدف یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر کسی سیاسی تبدیلی یا ’انقلاب‘ کے لیے کام کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ موساد کے کسی بڑے مشن کا مہرہ ہوتا ہے۔
- نطنز دھماکہ (2021) :اس کی ایک بڑی مثال نطنز کی ایٹمی تنصیب میں ہونے والا دھماکہ ہے، جس میں 10 ایرانی سائنسدان شامل تھے۔ ان سائنسدانوں نے کھانے کے ڈبوں میں بارودی مواد پلانٹ کے اندر پہنچایا اور وہ آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ وہ بیرونِ ملک مقیم ’ایرانی اپوزیشن‘ کی مدد کر رہے ہیں، جبکہ اصل ماسٹر مائنڈ تل ابیب میں بیٹھا تھا۔
صبر اور انتظار: موساد کی کامیابی کا راز
موساد کی کامیابی کا راز اس کا غیر معمولی صبر اور انتظار ہے۔
مثلاً محسن فخری زادہ کے قتل جیسے آپریشنز کے لیے 14، 14 سال تک تیاری کی جاتی ہے۔ بھرتی کے عمل کا آغاز ’سماجی نقشے‘ (Social Map) کی تیاری سے ہوتا ہے۔
- مظاہروں کی نگرانی: انٹیلی جنس اہلکار ایران میں ہونے والے ہر چھوٹے بڑے احتجاج کی نگرانی کرتے ہیں اور ان کے قائدین یا متحرک نوجوانوں کی فہرستیں بناتے ہیں۔
- محروم طبقات پر توجہ: ایران کی 40 فیصد آبادی اقلیتوں (آذری، کرد اور بلوچ) پر مشتمل ہے۔ موساد ان طبقات میں پائے جانے والے احساسِ محرومی کو استعمال کر کے انہیں اپنے جال میں پھنساتا ہے۔
- طلبہ اور سیاسی مخالفین: طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں اور سیاسی باغیوں کے غصے کو انٹیلی جنس تعاون میں بدلنا موساد کی ترجیحات میں شامل ہے۔
نفسیاتی دباؤ، پیسہ اور بلیک میلنگ
جہاں نظریاتی ہمدردی کام نہیں کرتی، وہاں موساد انسانی کمزوریوں کا سہارا لیتا ہے:
- مالی لالچ: معاشی بدحالی کے شکار افراد کو بھاری رقوم کے عوض معلومات فراہم کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔
- بلیک میلنگ: موساد کے اہلکار ہدف کے بارے میں ایک بنیادی سوال کا جواب ڈھونڈتے ہیں: ’اس شخص کو کس بات پر شرمندگی ہو سکتی ہے؟‘ چاہے وہ خفیہ تعلقات ہوں، قرضے ہوں یا کوئی جرم۔ موساد ان رازوں کو استعمال کر کے فرد کو تعاون پر مجبور کرتا ہے۔
- انسانی ہمدردی: بعض اوقات ہدف کا اعتماد جیتنے کے لیے ان کے کسی بیمار عزیز کا بیرونِ ملک علاج کروانے جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ وہ احسان تلے دب کر وفاداری کا دم بھرے۔
مصنوعی ذہانت اور ’طرزِ زندگی‘ کا تجزیہ
حالیہ برسوں میں موساد نے انسانی مخبروں کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کا بھرپور استعمال شروع کیا ہے۔
اب الگورتھمز کے ذریعے ہدف کے ’طرزِ زندگی‘کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل ڈیٹا اور زمینی معلومات کو جوڑ کر ایسی تصاویر تیار کی جاتی ہیں جن سے کسی شخص کی اگلی حرکت کا پہلے ہی اندازہ ہو جاتا ہے۔
اسی ٹیکنالوجی کی بدولت اسرائیل نے 100 سے زائد مقامات پر بیک وقت حملے کیے اور پاسدارانِ انقلاب کے افسران کو ان کی محفوظ پناہ گاہوں میں نشانہ بنایا۔
اعصاب کی جنگ اور نفسیاتی دباؤ
موساد صرف خاموشی سے کام نہیں کرتا، بلکہ وہ نفسیاتی جنگ کے ذریعے ایرانی حکام کے اعصاب بھی توڑتا ہے۔
آپریشنز کے دوران ایرانی افسران کو براہِ راست دھمکی آمیز کالز کرنا اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اسرائیل کا رسوخ کتنا گہرا ہے۔
موساد کا ایران میں داخلہ صرف جاسوسی تک محدود نہیں، بلکہ یہ دھوکہ دہی، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی نفسیات کے گہرے ادراک کا ایک خطرناک مرکب ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب کوئی شخص خود کو ’محبِ وطن‘ سمجھ کر اپنے ہی ملک کے خلاف کام کر رہا ہو، تو انٹیلی جنس کا یہ سب سے خطرناک اور کامیاب ترین درجہ کہلاتا ہے۔