مفتی تنظیم عالم قا سمی
حیدرآباد دکن
رمضان کا مہینہ جلدی گزرتا ہے اور انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس مہینے میں روزہ، نماز، تراویح، اعتکاف اور شب بیداری کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے۔
لیکن اکثر یہ منصوبے مکمل نہیں ہو پاتے اور انسان کو افسوس رہتا ہے کہ رمضان مختصر تھا اور اس میں وہ جتنا عمل کرنا چاہتا، نہ کر سکا۔
اللہ تعالیٰ سے معافی اور قبولیت طلب کرنا اس احساس کی علامت ہے لیکن یہ کافی نہیں۔
مزید پڑھیں
رمضان میں عبادات کا رجحان بڑھتا ہے، مسجدیں بھرجاتی ہیں اور لوگ اللہ کے خوف اور تقویٰ کے جذبے سے عبادت کرتے ہیں۔
یہی جذبہ رمضان کے بعد بھی باقی رہنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر وقت موجود ہے، سنتا اور دیکھتا ہے۔
اگر رمضان کے بعد انسان نماز اور عبادات میں سستی دکھائے، تو وہ اپنی روح اور روزے کے اصل مقصد کو سمجھنے میں ناکام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروکاروں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ (البقرہ 183)
اس سے واضح ہے کہ روزے کا مقصد صرف بھوک و پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ دل و دماغ میں اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرنا ہے، گناہوں سے دور رہنا اور نیک معاشرہ قائم کرنا ہے۔
رمضان میں روزہ رکھنے والا جانتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، یہی شعور اسے ہر برائی سے روکتا ہے اور نماز و ذکر کو معمول بناتا ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ رمضان کے بعد بھی وہی عبادات، صبر اور ہمدردی برقرار رکھے۔
رمضان صبر اور ہمدردی کی مشق کا مہینہ ہے۔
روزے کے دوران انسان کو نفسانی خواہشات اور غصے پر قابو پانے کی تربیت ملتی ہے اور غربا، محتاجوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
عید کے بعد اگر انسان اپنے اعمال میں تبدیلی نہ لائے، جھوٹ، ظلم، رشوت، بد نظری اور دیگر برائیوں کی طرف واپس لوٹ جائے، تو رمضان کا اصل مقصد ضائع ہو گیا۔
رمضان کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ عبادات اور بھوک و پیاس کے کناروں کے ساتھ انسان کی زندگی میں مسلسل روحانی تبدیلی آئے۔
ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ رمضان کے بعد بھی اپنی زندگی کو صاف، نیک اور عبادت گزار رکھیں، مسجدیں آباد کریں، صبر اور ہمدردی کے اصولوں پر عمل کریں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے قریب رہنے کی کوشش کریں۔
اگر یہ جذبہ پیدا ہو جائے، تو دنیا و آخرت میں کامیابی ممکن ہے، اور یہ اسلام کا حقیقی پیغام ہے۔