مفتی تنظیم عالم قاسمی
حیدر آباد دکن
رمضان المبارک اپنی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ آتا ہے اور بہت جلد گزر بھی جاتا ہے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا پیغام چھوڑ جاتا ہے جو پوری زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ مہینہ ایک مسلمان کو ایمان اور عمل کے اعتبار سے مضبوط بناتا ہے، اس کے دل میں اللہ کا خوف، عبادت کا شوق اور نیکی کی طرف رغبت پیدا کرتا ہے۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ رمضان کے بعد بھی یہی کیفیت باقی رہے۔
مزید پڑھیں
قرآن کریم کے مطابق روزوں کا اصل مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے۔
رمضان میں انسان نماز، تلاوت، صدقہ اور دیگر نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
مگر افسوس کہ رمضان کے بعد اکثر لوگوں کی عبادات میں کمی آجاتی ہے، مسجدیں خالی ہو جاتی ہیں اور قرآن کی تلاوت بھی کم ہو جاتی ہےJ رمضان اس لیے نہیں دیا گیا کہ صرف ایک مہینے کے لیے تبدیلی آئے۔
ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ رمضان کے بعد بھی فرائض کے ساتھ نوافل کا اہتمام جاری رکھے۔
عبادت کو عادت بنائے اور گناہوں سے توبہ کر کے ان سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے۔ جھوٹ، دھوکہ، غیبت، حسد اور ظلم جیسی برائیوں سے بچنا ضروری ہے۔
اگر کسی نے رمضان میں ان چیزوں سے توبہ کی ہے تو اسے اس پر قائم رہنا چاہیے کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان کی زندگی میں مستقل تبدیلی آ جائے۔
رمضان انسان میں اللہ کے وجود اور اس کی نگرانی کا احساس پیدا کرتا ہے۔
روزہ دار سخت بھوک اور پیاس کے باوجود اس لیے کچھ نہیں کھاتا کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
یہی احساس رمضان کے بعد بھی باقی رہنا چاہیے۔
اگر انسان کے دل میں یہ یقین مضبوط ہو جائے تو وہ گناہوں سے خود بخود بچنے لگتا ہے اور اس کی زندگی میں پاکیزگی آجاتی ہے۔
رمضان دراصل ایک تربیتی مہینہ ہے، جس میں انسان کو صبر، برداشت اور اللہ کی اطاعت کی عادت ڈالی جاتی ہے۔
جب انسان ایک مہینے تک کھانے پینے جیسی بنیادی چیزوں سے اللہ کے حکم پر رک سکتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ رمضان کے بعد بھی ان تمام چیزوں سے بچے جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔
اس طرح رمضان کی تربیت اس کی زندگی میں مستقل تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔
رمضان کا ایک اہم تحفہ قرآن مجید سے تعلق بھی ہے۔
اس مہینے میں مسلمان کثرت سے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور تراویح میں پورا قرآن سنتے ہیں۔ یہ پیغام ہے کہ قرآن سے تعلق صرف رمضان تک محدود نہ رہے بلکہ پورا سال جاری رہے۔
روزانہ تھوڑی سی تلاوت کو معمول بنایا جائے اور اس کے معانی اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ قرآن ہی انسان کی زندگی کا صحیح راستہ دکھاتا ہے۔
اسی طرح رمضان ہمیں ہمدردی اور غمخواری کا سبق بھی دیتا ہے۔
اس مہینے میں لوگ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں، انہیں افطار کراتے ہیں اور ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
مگر یہ جذبہ رمضان کے بعد بھی باقی رہنا چاہیے۔
ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسیوں اور معاشرے کے ضرورت مند افراد کا خیال رکھے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرے۔
آج کل بہت سے لوگ رمضان میں تو نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، مگر رمضان کے بعد وہی جذبہ باقی نہیں رہتا۔
حالانکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان رمضان کے بعد بھی نیکیوں کو جاری رکھے اور برائیوں سے بچتا رہے۔
اگر عبادات، قرآن سے تعلق اور دوسروں کی مدد کا جذبہ برقرار رہے تو سمجھنا چاہیے کہ رمضان کا مقصد حاصل ہو گیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ رمضان ایک تربیتی مہینہ ہے جو انسان کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔
اگر ہم اس مہینے کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں قائم رکھیں، عبادت کو معمول بنائیں، قرآن سے تعلق مضبوط کریں اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اپنائیں تو ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
یہی رمضان کا اصل پیغام ہے اور اسی میں ایک مسلمان کی حقیقی کامیابی پوشیدہ ہے۔