ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی
ریاض
ماہِ شوال کے چھ روزے رکھنا اسلام میں ایک عظیم سنت ہے، جس کی بڑی فضیلت احادیثِ نبویہ میں بیان کی گئی ہے۔
یہ روزے فرض یا واجب نہیں بلکہ سنت ہیں اور جمہور علماء کا اسی پر اتفاق ہے۔
اگرچہ بعض آراء میں عید الفطر کے فوراً بعد مسلسل روزے رکھنے کو ناپسند کہا گیا لیکن مجموعی طور پر ان روزوں کا رکھنا مستحب اور باعثِ اجر ہے۔
مزید پڑھیں
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے 6 روزے رکھتا ہے، اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نیکی کا ثواب کم از کم 10 گنا ملتا ہے، رمضان کے روزے 10 مہینوں کے برابر اور شوال کے 6 روزے مزید دو مہینوں کے برابر ہو جاتے ہیں، یوں ایک سال کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔
علمائے کرام کے مطابق ان روزوں کی ایک اور اہم فضیلت یہ ہے کہ یہ رمضان کے روزوں میں رہ جانے والی کمی یا کوتاہی کو پورا کرتے ہیں، جیسے نوافل نمازیں فرض نمازوں کی کمی کو پورا کرتی ہیں۔
ان 6 روزوں کے حوالے سے یہ بات بھی واضح ہے کہ انہیں مسلسل رکھنا ضروری نہیں۔ عیدالفطر کے بعد پورے ماہِ شوال میں کبھی بھی رکھے جا سکتے ہیں، چاہے لگاتار ہوں یا درمیان میں وقفہ کر کے۔
اگر کسی کے رمضان کے کچھ روزے رہ گئے ہوں تو وہ پہلے قضا رکھے یا شوال کے روزے، دونوں صورتیں جائز ہیں کیونکہ رمضان کے روزوں کی قضا فوراً لازم نہیں بلکہ بعد میں بھی ادا کی جا سکتی ہے۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر کوئی شخص ہر سال یہ روزے رکھتا ہے لیکن کسی سال نہ رکھ سکے یا مکمل نہ کر سکے تو وہ گناہگار نہیں ہوگا، کیونکہ یہ روزے فرض نہیں بلکہ سنت ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ شوال کے 6 روزے ایک عظیم نعمت اور اجر کا ذریعہ ہیں، جو رمضان کے بعد بھی عبادت کے تسلسل کو قائم رکھنے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔