اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

صابر فقیر افضل ہے یا شاکر غنی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں: ایمان کی دو شقیں ہیں۔
ایمان کا پہلا حصہ شکر ہے اور دوسرا حصہ صبر سے عبارت ہے۔
اہل علم کے مابین صابر فقیر اور شاکر غنی کے درمیان تقابلی موازنہ کرنے کے بارے میں اختلاف پایاجاتا ہے کہ ان دونوں میں سے کون افضل و برتر ہے؟ 

بعض اہل علم کے نزدیک صحت وعافیت کے عالم میں شکر کی ادائیگی ابتلا و آزمائش کی حالت میں صبر کرنے سے کہیں بہتر اور افضل ہے۔
اس سلسلے میں حضرت مطرف بن عبداللہؒ کا قول ہے کہ میں صحت و عافیت اور تندرستی کے عالم میں اللہ کا شکر بجالاؤں، مجھے اس بات سے کہیں زیادہ مرغوب ہے کہ مصائب و آلام میں گرفتار ہو کر اور گردش ایام کی زد میں آکر صبر کروں۔

مزید پڑھیں

اس سے مرادیہ ہے کہ مجھے نعمتوں سے محظوظ ہوتے ہوئے شکر کی توفیق نصیب ہوجائے یہ میرے لئے اس بات سے کہیں زیادہ مرغوب و محبوب ہے کہ میں آزمائش وابتلا کے گرداب میں پھنس کر صبر کروں، اسی لئے نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو وصیت کی ہے کہ ہر فرد اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر اورصحت وعافیت کی دعا مانگا کرے۔ 

اس موقع سے آپﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے مصائب

وابتلاء سے دوچار ہونے کی دعا کرو تاکہ اس پر صبر کرنا پڑے۔
بعض علما کا رجحان ہے کہ ابتلا و آزمائش کے ساتھ صبر صحت و عافیت کے موقع پر شکر سے بہتر و افضل ہے لیکن دل کو چھوتی ہوئی بات یہ ہے کہ صبر و شکر میں سے دونوں کے دونوں موقع ومحل کے اعتبار سے اپنے قرین کے حق میں افضلیت کا مقام رکھتے ہیں۔ 

اس بنیاد پر غنی اور مالدار شخص کیلئے شکر افضل ترین چیز ہے اور مفلس و فقیر کے حق میں صبر کا مرتبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

87945

حضرت ابو سہل صعلوکی ؒ سے صبر و شکر کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ ان دونوں میں کون افضل و برتر ہے؟ تو انہوں نے برجستہ جواب دیا: 

دونوں کے دونوں بذات خود اپنی کیفیت کے اعتبار سے برابر کا درجہ رکھتے ہیں یہ اور بات ہے کہ شکر مالداروں کا کام ہے اور صبر تنگ دستوں کی بیساکھی ہے۔

مصائب و شدائد سے دوچار ہونے والے کے لئے صبر و تحمل کے بجائے اس پر اللہ کی شگر گزاری ادا کرنے کا عظیم مقام ومرتبہ ہے۔

کسی عربی شاعر کا قول ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:

میرے نفس کے لئے اس کے مرض کا راز فاش ہوگیا تو اس نے اس کو منظر عام پر لانے سے روگردانی کا رویہ اختیار کیا اور شکر و حمد کا دامن پکڑ کر اس سے دل کھول کر اپنے شکوے گلے بیان کر ڈالے۔

965

حقیقت میں مصیبت و ابتلا بھی اپنے پہلو میں نعمت چھپائے ہوئے ہوتی ہے جس کا بندے کے لئے شکر ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

امام الحرمین علامہ جوینیؒ فرماتے ہیں:

دنیا کے مصائب و شدائد بھی بندے سے شکر کے متقاضی ہوا کرتے ہیں۔ 

بلاشبہ بندۂ مؤمن پر جس کی شکر گزاری لازم ہوتی ہے کیونکہ در حقیقت مصائب و آلام بھی بندے کے لئے نعمت ہی ہوا کرتے ہیں بلکہ شدائد و محن حصول نعمت کی منہ بولتی دلیل ہوا کرتے ہیں۔

اسی لئے کہا گیا ہے کہ مصائب و شدائد بندے کے لئے بہت سے فوائد و منافع کا پیش خیمہ ہوتے ہیں اور حد سے زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔ 

اس سے بہت سی امیدیں برآتی ہیں اور اس سے بڑے اغراض ومقاصد وابستہ ہوتے ہیں جس کے سائے میں مصائب و شدائد کی سختی ماند پڑ جاتی ہے اوراس کی چھاؤں تلے مصائب و آلام کی تپش سرد پڑ کر کافور ہوجاتی ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے