اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

زمزم کا کنواں: پہلی بار تہہ تک پہنچنے والے مصری کے حیران کن انکشافات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مکہ مکرمہ میں زمزم کا کنواں اور اس کے تاریخی ڈھانچے کا اندرونی منظر
(فوٹو: نیوز روم)

زمزم کا کنواں دنیا کے قدیم و مقدس ترین چشموں میں سے ایک ہے او راس کا پانی اپنی برکت و صحت بخش خصوصیات کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ چشمہ اُس وقت اللہ کے حکم سے پھوٹا جب حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنا پردہ زمین پر مارا، تاکہ پیاس سے تڑپتے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہما السلام کی ضرورت پوری ہو سکے۔

توسیعِ حرم اور غیر متوقع دریافت

1978ء میں جب سعودی حکومت نے حرم مکی کی توسیع کا فیصلہ کیا، 

تو کھدائی کے دوران اچانک زمین سے پانی ابل پڑا۔

منصوبے کے انچارج انجینئر یحییٰ کوشک اس خدشے کے پیشِ نظر پریشان ہو گئے کہ کہیں ان کی وجہ سے تاریخی زمزم کے کنویں کو نقصان نہ پہنچ گیا ہو۔ 

انہوں نے فوری طور پر کھدائی رکوائی اور پانی کے اصل منبع کا پتا لگانے کے لیے جدہ کی بندرگاہ سے ماہر غوطہ خوروں کی خدمات حاصل کیں۔ 

ان میں ایک مصری غوطہ خور محمد یونس اور ان کے ایک پاکستانی ساتھی شامل تھے، جنہیں اس تاریخی مشن کی ذمہ داری سونپی گئی۔

مکہ مکرمہ میں زمزم کا کنواں اور اس کے تاریخی ڈھانچے کا اندرونی منظر
(فوٹو: نیوز روم)

کمپاس غیر فعال اور برمودا ٹرائینگل جیسا منظر

جب غوطہ خور کنویں میں 19 میٹر کی گہرائی تک پہنچے تو ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔

ان کے پاس موجود قطب نما (کمپاس) نے سمتیں بتانا بند کر دیں اور اس کی سوئی بے ترتیب گھومنے لگی۔ 

ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی پراسرار برمودا ٹرائینگل میں کھڑے ہوں۔ غوطہ خوروں نے سمجھا کہ شاید کمپاس خراب ہو گیا ہے، لیکن جب دوسرا آلہ منگوایا گیا تو اس نے بھی وہی برتاؤ کیا۔

بعد ازاں ویڈیو فوٹیج کے باریک بینی سے جائزے کے بعد معلوم ہوا کہ کنویں کی تہہ میں لوہے کے قدیم پائپوں کا ڈھیر جمع تھا، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مقناطیسی خلل نے قطب نما کو ناکارہ بنا دیا تھا۔

صفائی میں مشکلات اور دودھ کا استعمال

کنویں کی صفائی کا کام طویل اور کٹھن تھا، جس میں غوطہ خوروں کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے اوپر سے ایک پائپ نیچے بھیجا گیا تھا۔

اس عمل میں ایک مشکل یہ پیش آئی کہ آکسیجن پمپ سے نکلنے والی چکنائی (آئل) ہوا کے ساتھ مکس ہو کر غوطہ خوروں کے حلق میں جاتی تھی، جس سے شدید جلن پیدا ہوتی۔ 

اس کا ایک دیسی حل یہ نکالا گیا کہ جب غوطہ خور باہر آتے تو انہیں کثرت سے دودھ پلایا جاتا تاکہ حلق کی جلن کم ہو سکے۔

مکہ مکرمہ میں زمزم کا کنواں اور اس کے تاریخی ڈھانچے کا اندرونی منظر
زمزم کے کنویں کی تہہ سے متعلق اہم راز

کنویں کی تہہ سے برآمد عجیب و غریب اشیاء

غوطہ خوروں نے کنویں کی تہہ سے تقریباً 10 میٹر کی بلندی تک جمع ہونے والا ملبہ اور اشیا نکالیں۔ صفائی کے دوران جو اشیاء برآمد ہوئیں وہ حیران کن تھیں:

  • جادو ٹونے کے اثرات: بکریوں کے سینگ اور دانت، جن کے بارے میں گمان ہے کہ وہ سحر و آسیب کے لیے ڈالے گئے تھے۔
  • تبرکات: مختلف انگوٹھیاں اور قیمتی پتھر جن پر نام کندہ تھے، جو غالباً زائرین نے برکت کے لیے ڈالے تھے۔
  • جدید اشیاء: چائے کے برتن، کولڈ ڈرنکس کے ڈبے اور شیشے کے پائپ، جو ممکنہ طور پر سیلاب کے پانی کے ساتھ بہہ کر اندر پہنچے تھے۔
  • تاریخی سکے: عثمانی دور اور برطانوی عہد کے قدیم سکے، مٹی کے برتن، تسبیحات اور دیگر نوادرات۔

اصل گہرائی اور پانی کا شور

اس مہم کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ ملبے کی وجہ سے زمزم کے کنویں کی جو گہرائی کم لگ رہی تھی، وہ صفائی کے بعد مکمل 30 میٹر نکلی۔

جب غوطہ خوروں نے آخری رکاوٹیں ہٹائیں تو زمزم کے چشموں سے پانی اتنی قوت اور شور کے ساتھ ابل رہا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ 

یہ انکشافات نہ صرف زمزم کے کنویں کی قدامت کو ثابت کرتے ہیں بلکہ انسانی تاریخ اور عقیدت کے مختلف رنگوں کو بھی واضح کرتے ہیں۔