یہ پہاڑ 5 کلو میٹر
250 مربع میٹر
کے دائرے میں
پھیلا ہوا ہے
غار حراء جبل نور کی چوٹی کے بائیں جانب ہے۔ 4 ہاتھ لمبا ہے اور عرض ایک ہاتھ اور 3 چوتھائی ہے۔
اس میں تنومند مرد کی گنجائش ہے۔
دراز قامت مرد اس میں کھڑا ہوسکتا ہے۔
اس میں کئی مرد بیک وقت نماز ادا کرسکتے اور بیٹھ سکتے ہیں۔
غار میں داخل ہونے والے کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے۔
اس کی اونچائی متوسط درجے کی ہے۔
غار کا دروازہ بڑی چٹانوں سے عبارت ہے، یہ ایک دوسرے کے اوپر رکھی ہوئی ہیں۔
چٹانوں کے درمیان چھوٹا سا شگاف ہے یعنی 3 میٹر طویل ہے۔
عجیب وغریب دَر سے داخل ہونے کے بعد ایک ہموار چٹان نظر آتی ہے جو یہ ایک انسان کے لئے کافی ہے۔
یہ داخل ہونے والے کے بائیں جانب پڑتی ہے۔
اس جگہ پہاڑ کی چھت سایہ کئے رکھتی ہے۔
رات کے وقت سردی اور دن کے وقت گرمی سے محفوظ رکھتی ہے۔
چند قدموں پر چھوٹا سا صحن ہے جہاں سے کھڑے ہوکر پہاڑ کے جنوب اور مغرب میں واقع وادیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔
جبل ثور
یہ مسجد الحرام کے جنوب میں وادی المفجر ’مشرق‘ اور بطحاء قریش ’مغرب‘ کے درمیان واقع ہے۔
یہ الحجرہ محلہ پر سایہ فگن ہے۔
یہ مکہ مکرمہ کے انتہائی مشہور پہاڑوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ تاریخی پہاڑ شہر سے 4 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
قدیم زمانے میں مکہ مکرمہ سے جو راستہ یمن کو جاتا تھا اس کے قریب سے گزرتا تھا۔
اس کی اونچائی جبل نور سے بہت زیادہ ہے۔
اس پہاڑسے سیرت طیبہ کا عظیم الشان تاریخی واقعہ جڑا ہوا ہے۔
اسی میں وہ غار ہے جہاں مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرتے وقت رسول اللہﷺ اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پناہ لی تھی۔
کفار مکہ ان دونوں کے قتل کے در پے تھے، اسی پہاڑ کے غار سے دونوں حضرات نے مدینہ منورہ سفر کیا تھا۔
جبل ثور
بیل کی شکل کا ہے
اس کی اونچائی
755 میٹر ہے
کہا جاتا ہے کہ جبل ثور کا نام پہلے جبل اطحل ہوا کرتا تھا لیکن جب ثور بن عبد مناف نے اس میں سکونت اختیار کی تو ان کے نام سے منسوب ہوگیا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ بیل کی شکل کا ہے۔
عربی میں ثور ، بیل کے لئے بولا جاتا ہے۔
اس پہاڑ کی اونچائی 755 میٹر ہے۔
یہ 10 مربع کلومیٹر کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے۔
غار ثور پہاڑ کے عین اوپر چوٹی کے پاس ہے۔
بہت کم لوگ اس پر چڑھنے کی ہمت کر پاتے ہیں۔
جو لوگ جاتے ہیں وہ کھانا پانی ساتھ لے کر ہی چڑھنا شروع کرتے ہیں، دوپہر تک غار تک پہنچ پاتے ہیں حالانکہ اسکی چڑھائی ایک سے ڈیڑھ میل تک ہے۔
جبل ثور کے اردگرد کے بہت سے پہاڑ ایسے ہیں جو شکل وصورت اور اونچائی میں اس سے ملتے جلتے ہیں۔
اس غار کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے کیا گیا تھا۔
یہ بھی امکان ہے کہ رسول اللہﷺ اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ کے پہاڑوں سے واقفیت کے باعث اسی غار کو چھپنے کیلئے جان بوجھ کر منتخب کیا ہو کہ کفار مکہ نبی کریمﷺ کو مدینہ کے راستے پر تلاش کرتے رہے۔
یہ بعثت کے 13 ویں سال کا واقعہ ہے۔
ہجرت کی رات غار ثور خاردار جھاڑیوں ،مٹی ،کنکروں اور پتھروں سے اٹا پڑا تھا۔
وہ انتہائی بھیانک اور ڈراؤنا منظر تھا۔
نا تراشیدہ پتھروں کی کالی کالی چٹانیں، سنگریزوں کے بے ترتیب ڈھیر۔
کہیں اونچا اور کہیں نیچا۔
دیواروں میں سوراخ اور لمبی دارڑیں تھیں۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے غار کو جھاڑ کر صاف کیا تاکہ زمین بیٹھنے کے قابل ہوجائے پھر بدن کے کپڑے پھا ڑ پھاڑ کر سوراخوں کو بند کیا تاکہ کوئی موذی جانور رسول اللہﷺ کو ستانے نہ پائے۔
جب ہر طرف سے اطمینان ہوگیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غار سے باہر آئے اور آپﷺ کو اندر چلنے کی درخواست کی۔
غار ثور سے رسول اللہﷺ اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قافلہ 4 ربیع الاول بروز پیر مطابق 20 ستمبر 622ء کو روانہ ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے غار ثور کا تذکرہ سور ۃ التوبہ کی آیت نمبر 40 میں کیا ہے۔
یہ تذکرہ ہجرت مبارکہ کے واقعہ کے ضمن میں آیا ہے۔
جبل ابو قبیس
یہ مسجد الحرام کے مشرق میں واقع ہے۔
مشرق کی جانب سے حرم شریف پر سایہ فگن ہے۔
یہ صفا کے سامنے پڑتا ہے۔
جبل ابو قبیس جبال السد اور شعب علی کے درمیان واقعہ ہے۔
یہ خندما پہاڑی سلسلہ کی توسیع ہے۔
مسجد الحرام سے قربت کے باعث تاریخ میں نام پیدا کئے ہوئے ہے۔
اس کی چوٹی پر مسجد بلال رضی اللہ عنہ بنی ہوئی ہے۔
بعض علماء کی رائے ہے کہ جبل ابو قبیس مکہ مکرمہ کا سب سے افضل پہاڑ ہے۔
ایسا اس لئے ہے کہ یہ خانہ کعبہ کے بے حد قریب ہے اور رسول اللہﷺکے ارشاد گرامی کے مطابق دنیا کا پہلا پہاڑ ہے۔
ارشاد رسالتﷺ ہے:
زمین پر قائم کیا جانے والا پہلا حصہ خانہ کعبہ کا ہے، پھر اس سے پوری زمین بنائی گئی، اللہ تعالیٰ نے زمین پر سب سے پہلا پہاڑ ابو قبیس بنایا پھر اس سے سارے پہاڑ نکالے گئے، یہ مکہ مکرمہ کے دو حصوں میں سے ایک ہے۔
جبل ابو قبیس
مکہ مکرمہ کا
سب سے افضل
پہاڑ ہے
یہ پہاڑ 420 میٹر اونچا ہے۔
زمانہ جاہلیت میں جبل ابو قبیس کو الامین کہا جاتا تھا کیونکہ حجر اسود طوفان کے موقع پر اسی میں ٹھہرا ہوا تھا۔
جب ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کیا تو جبل ابو قبیس نے صدا لگائی کہ حجر اسود میرے فلاں حصے میں محفوظ ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اسے جبل ابو قبیس سے لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے اور اسے ان کے حوالے کردیا تھا۔
اسے ابو قبیس کہنے کی وجہ یہ بیا ن کی جاتی ہے کہ حجر اسود اسی سے لیا گیا۔
جبل ابو قبیس دیگر پہاڑوں سے کئی حوالوں سے منفرد ہے۔
پہلی وجہ تو یہی ہے کہ یہ کرہ ارض کا پہلا پہاڑ ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ طوفان نوح علیہ السلام کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے حجر اسود جبل ابو قبیس میں محفوظ کردیا تھا۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ خانہ کعبہ کے سامنے واقعہ ہے اور خانہ کعبہ جس چٹان پر تعمیر ہے وہ جبل ابوقبیس سے جڑا ہوا ہے۔
ایک وجہ یہ ہے کہ چاند کے شق ہونے کا معجزہ اسی پہاڑ پر دیکھا گیا تھا۔
جبل قیقعان
یہ مسجد الحرام کے مغرب میں واقعہ ہے۔
یہ 430 میٹر اونچا ہے۔
آجکل اسے جبل ہندی کہا جاتا ہے۔
اسے جبل قیقعان اس وجہ سے کہا جاتا ہے کیونکہ جب جرہم اور قطورا کی جنگ ہوئی تھی تو اسی پہاڑ کی بدولت ہتھیار گرے تھے۔
یہ دونوں قبیلے مکہ کے تھے۔
جرہم مکہ کے بالائی علاقے میں سکونت پذیر تھے اور قیقعان اور ان کا بادشاہ مضاض بن عمرو قطورا مکہ کے زیریں علاقے میں تھے۔
جبل قیقعان عظیم پہاڑ ہے، یہ کافی دور تک پھیلا ہوا ہے۔
اس کے اندر ہی مروہ واقع ہے۔
قیقعان پہاڑی سلسلہ کے نام ہے۔
مسجد الحرام کے شمال اور شمال مغرب سے مشرق میں وادی ابراہیم کے بالائی علاقے تک ہے اور مغرب میں وادی طویٰ واقع ہے۔
جبل ثبیر
جبل ثبیر، مکہ سے منیٰ جاتے ہوئے بائیں جانب پڑتا ہے۔
یہ جبل حراء کے بالمقابل واقع ہے۔
وہاں سے اس کا سلسلہ منیٰ کے آخر تک چلا گیا۔
جبل ثبیر ہی وہ پہاڑ ہے جس پر قربانی کا مینڈھا نازل کیا گیا تھا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس کی قربانی ہوئی تھی۔
جبل ثبیر ہی سے جبل الرخم نکلتا ہے جو معابدہ سے نظر آتا ہے۔
اسے جبل ثبیر اسلئے کہا جاتا ہے کیونکہ رخم نامی پرندے آسمان سے اسی پر اترتے ہیں۔ اس کی چوٹی کے اوپر پرندوں جیسی سفیدی نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سفیدی بنیادی طور پر پہاڑ کی سفیدی ہے۔ اس کا تعلق پرندوں کی سفیدی سے نہیں کیونکہ ایسا ہوتا تو بارش سے سفید رنگ مٹ چکا ہوتا۔
جبل السیدہ
یہ حجون میں مسجد الحرام کے شمال میں واقع ہے۔
اس کے نیچے المعلیٰ قبرستان ہے۔
اس قبرستان میں اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قبر ہے، انہی کے نام سے یہ پہاڑ منسوب ہے، یہ پہاڑ 400 میٹر اونچا ہے۔
جبل عمر
یہ زمانہ جاہلیت میں ذَا اَعاصیر کہا جاتا تھا۔
بعض اہل مکہ اسے الفسطاط کہتے ہیں۔
یہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب ہے۔
یہ الشبیکہ سے المسفلہ تک پھیلا ہوا ہے، یہ مکہ کے مغرب میں واقع ہے۔
الغازی سے منقول ہے کہ اس پہاڑ پر ایک جگہ کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جائے پیدائش بتایا جاتا ہے۔
ان پہاڑوں کے علاوہ مکہ مکرمہ میں اجیاد الصغیر، ثنیہ اذاخر، الاخشبان، جبل الال، الحجون، جبل خلیفہ، جبل خندمہ، شعب ابی دب، ثنیہ کداء، کدی، جبل قزح، ، جبل مسلم، جبل المطابح، جبل کعبہ، جبل قلعہ اجیاد قابل ذکر ہیں۔