ایک انجیکشن جو وزن گھٹاتا ہے، وہی اب دنیا کی بڑی دوا ساز کمپنیوں کی قسمت بھی بدل رہا ہے۔
مزید پڑھیں
مٹاپے اور وزن میں کمی کی جدید ادویات کی مارکیٹ صرف ایک سال میں تقریباً 66 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ تجزیہ کار اسے 2030 تک سالانہ 100 ارب ڈالر سے بڑی صنعت بنتا دیکھ رہے ہیں۔
وزن کم ہوا، کمپنیوں کی قدر بڑھ گئی
اس انقلاب کے 2 سب سے بڑے نام ڈنمارک کی نوو نارڈسک اور امریکی ایلی للی ہیں۔ Wegovy، Ozempic، Mounjaro اور Zepbound
جیسے نام چند برس میں عام گفتگو کا حصہ بن گئے۔
اس عروج نے نوو نارڈسک کو ایک وقت یورپ کی سب سے قیمتی کمپنی بنا دیا، جبکہ ایلی للی ایک ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ویلیو عبور کرنے والی پہلی دوا ساز کمپنی بن گئی۔
اس کی وجہ صرف خوبصورتی یا پتلا جسم نہیں ہے، بلکہ جدید GLP-1 ادویات بعض مریضوں میں جسمانی وزن تقریباً 20 فیصد تک کم کر سکتی ہیں۔
Wegovy کو دل کے دورے اور فالج کے خطرات کم کرنے، جبکہ Zepbound کو مٹاپے کے شکار بعض مریضوں میں سلیپ ایپنیا کے علاج کی منظوری بھی مل چکی ہے۔
اصل کاروبار دوا چھوڑنے کے بعد شروع ہوتا ہے
یہاں ایک ایسا سوال پیدا ہوتا ہے جو مریض سے زیادہ سرمایہ کار کو دلچسپ لگ سکتا ہے کہ اگر دوا چھوڑتے ہی وزن واپس آنے لگے تو کیا ہوگا؟
Semaglutide پر ہونے والی STEP-1 تحقیق میں دوا بند کرنے کے ایک سال بعد شرکا نے پہلے کم کیے گئے وزن کا تقریباً دو تہائی دوبارہ حاصل کر لیا۔
یہی وجہ ہے کہ مٹاپے کو اب عارضی مسئلے کے بجائے طویل مدتی بیماری سمجھا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت بھی GLP-1 ادویات کو مناسب مریضوں کے لیے طویل مدتی علاج کا حصہ قرار دیتا ہے۔
اربوں ڈالر کی نئی جنگ
اس منافع بخش میدان میں اب نئے کھلاڑی تیزی سے داخل ہو رہے ہیں۔ فائزر نے سخت بولی کی جنگ کے بعد مٹاپے کی ادویات تیار کرنے والی Metsera کا حصول مکمل کیا، جس سے معاہدے کی ممکنہ قدر تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
اُدھر AstraZeneca نے چینی کمپنی CSPC Pharmaceuticals کے ساتھ اگلی نسل کی مٹاپا اور ذیابیطس ادویات پر بڑا معاہدہ کیا ہے۔
کمپنی نے 1.2 ارب ڈالر فوری ادائیگی اور 3.5 ارب ڈالر تک ترقی و منظوری سے متعلق ادائیگیوں کے علاوہ مزید تجارتی ادائیگیوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل سوال: قیمت کتنی ہوگی؟
ماہرین کے مطابق سب سے بڑی تبدیلی پیٹنٹس ختم ہونے سے آ سکتی ہے۔
بھارت میں semaglutide کا پیٹنٹ مارچ 2026 میں ختم ہونے کے بعد مقامی کمپنیاں سستے متبادل تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں، جن کی قیمت اصل برانڈ سے نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے یہی مرحلہ اہم ہوگا، جہاں قیمت کے ساتھ دوا کا معیار، ڈاکٹر کی نگرانی، اصل اور جعلی پروڈکٹ میں فرق اور مناسب کولڈ چین بھی بڑے مسائل بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ WHO بھی خبردار کر چکا ہے کہ زبردست عالمی طلب نے جعلی اور غیر معیاری GLP-1 مصنوعات کے خطرے کو بڑھایا ہے۔
اس طرح وزن گھٹانے کی جنگ اب صرف نمبروں سے نہیں بلکہ اسٹاک مارکیٹ، لیبارٹری اور پیٹنٹ آفس میں لڑی جا رہی ہے، کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ مریض کتنے کلو کم کرے گا، بلکہ اس کے ہر کم ہوتے کلو سے دوا ساز صنعت کتنے ارب کمائے گی؟