مٹاپے کے اثرات کا مطالعہ کرنے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جسمانی وزن میں اضافے کے خطرات مردوں اور خواتین میں یکساں نہیں ہوتے۔
مزید پڑھیں
جریدے ’سائنس ڈیلی‘ کی رپورٹ کے مطابق مردوں میں اعضا کے گرد خطرناک چربی جمع ہونے کا رجحان زیادہ ہے، جبکہ خواتین میں سوزش اور کولیسٹرول کی سطح بڑھنے کے امکانات زیادہ دیکھے گئے ہیں۔
مردوں میں اندرونی اعضا کو لاحق خطرات
تحقیق کے مطابق مٹاپے کا شکار مردوں کی کمر کا اوسط سائز 120cm ہوتا ہے، جو خواتین کے 108cm کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
یہ اضافی چربی اندرونی اعضا کے گرد جمع ہوتی ہے، جو دل اور میٹابولزم کے نظام کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور جگر پر بھی دباؤ ڈالتی ہے۔
خواتین میں سوزش اور کولیسٹرول کے مسائل
دوسری جانب خواتین میں مجموعی کولیسٹرول اور ’ایل ڈی ایل‘ کولیسٹرول کی سطح زیادہ پائی گئی۔
تازہ تحقیق کے نتائج میں یہ بھی دیکھا گیا کہ خواتین کے جسم میں سوزش کے اشاریے، جیسا کہ ’سی ری ایکٹیو پروٹین‘ زیادہ ہوتے ہیں، جو جسم میں مضبوط سوزشی ردعمل اور دائمی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
حیاتیاتی اختلافات اور ہارمونز
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق حیاتیاتی عوامل، ہارمونز اور چربی کے ذخیرہ کرنے کے انداز کی وجہ سے ہے۔
مردوں میں چربی پیٹ کے حصے میں جمع ہوتی ہے، جبکہ خواتین میں یہ جلد کے نیچے ذخیرہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کا مدافعتی نظام زیادہ سوزشی سرگرمی دکھاتا ہے۔
علاج کے لیے منفرد طبی طریقہ کار
یہ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مٹاپے کے علاج کے لیے اب ایک ہی طرح کے فارمولے کے بجائے صنفی امتیاز کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
دِل کی بیماریوں اور ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ طبی حکمت عملی اپنانا وقت کا تقاضا ہے۔