مارکو روبیو نے
کہا ہے کہ
آپریشن ایپک ریج
ختم ہوچکا ہے
دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ ’آپریشن ایپک ریج‘ کا جنگی مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور امریکہ اب دفاعی پوزیشن اختیار کر رہا ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن ازخود حملہ نہیں کرے گا، لیکن اگر امریکی افواج یا جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو فیصلہ کن اور مہلک جواب دیا جائے گا۔
روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے کہ ایران کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائیاں ختم کردی گئی ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا جب کانگریس کی جانب سے وائٹ ہاؤس پر دباؤ بڑھ رہا تھا کہ اگر جنگ 60 دن سے زیادہ جاری رکھنی ہے تو قانونی منظوری حاصل کی جائے۔
روبیو نے تہران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور شرائط قبول کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندے وٹکوف اور جارید کوشنر سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں ان جوہری مواد کا معاملہ بھی شامل ہونا چاہئے جو ایران کے پاس اب بھی موجود ہیں اور کسی گہری جگہ میں دفن کئے گئے ہیں۔
روبیو نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن کے امکان کا بھی ذکر کیا تاہم ان کے مطابق اصل مسئلہ اسرائیل یا لبنان نہیں بلکہ حزب اللہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان میں جو کچھ ہونا چاہئے اور جسے ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے، وہ ایک ایسی لبنانی حکومت ہے جو حزب اللہ کا مقابلہ کرنے اور اسے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی اصل طاقت استعمال نہیں کی۔
ان کے مطابق تہران آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئی حکمت عملی نافذ کر رہا ہے جس سے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔