اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

’پروجیکٹ فریڈم‘ معطل، فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز
ٹرمپ کے مطابق فیصلہ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا (فوٹو: الجزیرہ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی امریکی فوجی نگرانی کے لیے شروع کیے گئے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران نے اس اہم عالمی بحری گزرگاہ میں جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے نیا نظام نافذ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکی، اسرائیلی اور ایرانی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں کئی برس کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ پروجیکٹ فریڈم کو مختصر مدت کے لیے روکا جا رہا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا جاری مذاکرات کو حتمی شکل دے کر معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر فریق نے باہمی اتفاق سے اس آپریشن کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ایران پر عائد بحری محاصرہ پوری طاقت کے ساتھ برقرار رہے گا۔

امریکی صدر کے مطابق اس فیصلے میں پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ فوجی کارروائیوں میں امریکہ نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اب صورتحال ایک ممکنہ جامع معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ntitled
امریکہ نے بحری محاصرہ برقرار رہے گا (فوٹو: الجزیرہ)

امریکہ نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے خصوصی آپریشن شروع کرے گا۔ 

واشنگٹن نے اس اقدام کو ’انسانی ہمدردی کی کوشش‘ قرار دیا تھا، جس کا مقصد ان غیر جانبدار ممالک کی مدد کرنا تھا جو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا حصہ نہیں ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے بھی اس کارروائی میں شرکت کی تصدیق کی تھی۔

مارکو روبیو نے
کہا ہے کہ
آپریشن ایپک ریج
ختم ہوچکا ہے

دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ ’آپریشن ایپک ریج‘ کا جنگی مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور امریکہ اب دفاعی پوزیشن اختیار کر رہا ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن ازخود حملہ نہیں کرے گا، لیکن اگر امریکی افواج یا جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو فیصلہ کن اور مہلک جواب دیا جائے گا۔
روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے کہ ایران کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائیاں ختم کردی گئی ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا جب کانگریس کی جانب سے وائٹ ہاؤس پر دباؤ بڑھ رہا تھا کہ اگر جنگ 60 دن سے زیادہ جاری رکھنی ہے تو قانونی منظوری حاصل کی جائے۔

روبیو نے تہران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور شرائط قبول کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندے وٹکوف اور جارید کوشنر سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں ان جوہری مواد کا معاملہ بھی شامل ہونا چاہئے جو ایران کے پاس اب بھی موجود ہیں اور کسی گہری جگہ میں دفن کئے گئے ہیں۔

546456 1
واشنگٹن نے خود کو اب ’دفاعی مرحلے‘ میں قرار دیا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

روبیو نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن کے امکان کا بھی ذکر کیا تاہم ان کے مطابق اصل مسئلہ اسرائیل یا لبنان نہیں بلکہ حزب اللہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں جو کچھ ہونا چاہئے اور جسے ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے، وہ ایک ایسی لبنانی حکومت ہے جو حزب اللہ کا مقابلہ کرنے اور اسے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی اصل طاقت استعمال نہیں کی۔ 

ان کے مطابق تہران آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئی حکمت عملی نافذ کر رہا ہے جس سے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے نیا کنٹرول سسٹم نافذ کردیا ہے۔ 

اس نظام کے تحت ہر تجارتی جہاز کو آبنائے عبور کرنے سے پہلے ایرانی حکام سے اجازت لینا ہوگی۔ 

رپورٹ میں کہا گیا کہ تمام جہازوں کو ای میل کے ذریعے نئے قواعد و ضوابط بھیجے جائیں گے، جبکہ آبنائے کا نیا بحری نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں ایرانی نگرانی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا گیا ہے۔