براہ راست نشریات

جنت کے مسافر.. پمز سانحے میں 14 نومولود چل بسے، ذمہ دار کون؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
PIMS Hospital Fire

Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

پمز اسلام آباد کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔
یہ سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، طبی عملے کی ذمہ داری، ہنگامی تیاری اور جواب دہی کے نظام پر بڑا سوال ہے۔ ’جنت کے مسافر‘ انہی ننھی جانوں کے المیے اور ہمارے اجتماعی فرض کا نوحہ ہے۔

بے شک اللہ تعالیٰ، جو بلند و برتر ہے، پوری کائنات کا محافظ، پروردگار اور نگہبان ہے۔ 

قرآنِ حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’اللہ ان لوگوں کا کارساز ہے جو ایمان لائے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔‘ (البقرہ: 257)

زندگی کا نظام اگرچہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور تقدیر کے تابع ہے، لیکن انسانوں پر بھی ان کی سمجھ، اختیار اور سپرد کی گئی امانتوں کے دائرے میں زندگی کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ 

رسولِ اکرم ﷺ نے بھی اس عظیم حقیقت کو یوں بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTجنت کے مسافر — اہم نکات
  • اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتش زدگی کے واقعے نے 14 نومولود بچوں کی جان لے لی، جبکہ ایک بچے کو بچا لیا گیا۔
  • واقعے نے ہسپتال کے فائر سیفٹی، ایمرجنسی ردعمل اور عملے کی موجودگی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے۔
  • لواحقین نے نازک ترین لمحے میں مدد میں تاخیر اور عملے کی مبینہ عدم موجودگی کی شکایات کیں۔
  • حکومت نے واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے اعلیٰ سطحی کارروائی کا حکم دیا۔
  • مضمون کا مرکزی سوال یہ ہے کہ جان بچانے کی مقدس ذمہ داری میں غفلت کیسے قابلِ قبول ہو سکتی ہے؟
overseaspost.net

جو لوگ دوسروں کی کوتاہیوں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں، وہی داناؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ 

لیکن افراد ہوں یا قومیں، اپنے احتساب کا یہ وصف ہمیشہ کم یاب رہا ہے۔ 

کوئی درد، حادثہ یا مصیبت پیش آئے تو انسان کو اپنی بے بسی کا احساس ہونے لگتا ہے اور اسی لمحے یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ جسے جو ذمہ داری سونپی گئی تھی، کیا اس نے اسے پوری دیانت اور فرض شناسی کے ساتھ نبھایا؟

مزید پڑھیں

ہماری سرحدوں پر شب و روز پہرہ دینے والے سپاہی ہماری پُرسکون نیندوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ 

وہ زمین، سمندر اور فضا سے ہونے والی ہر دشمنانہ حرکت کے مقابلے میں بیدار رہتے ہیں۔ 

خطرے کی گھڑی میں وہ پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ اپنی جانیں تک نچھاور کر دیتے ہیں تاکہ وطن اور اس کے باسی محفوظ رہیں۔

اسی جذبۂ خدمت کے ساتھ ہسپتالوں میں ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر طبی کارکن مسیحائی کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ 

قرآنِ کریم انسانی جان بچانے کے عمل کو نہایت بلند مقام عطا کرتے ہوئے فرماتا ہے:

’اور جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے تمام انسانیت کو بچا لیا۔‘ (المائدہ: 32)

حادثات اور قدرتی آفات دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک اور جدید ترین اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ 

کسی حادثے کو ہمیشہ روکا نہیں جا سکتا، لیکن کسی ادارے، پیشے اور خدمت کے وقار کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب خطرہ سامنے کھڑا ہو۔ 

ایسے لمحے میں کچھ لوگ اپنی ذاتی سلامتی کی پروا کئے بغیر فرض کی تکمیل کے لیے ڈٹ جاتے ہیں، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب دوسرے قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور ہو جائیں۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXپمز سانحہ — فیکٹ باکس
مقامپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)، اسلام آباد
متاثرہ شعبہمدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری
نرسری میں بچے15 نومولود
جان سے جانے والے14 نومولود، دستیاب اطلاعات کے مطابق
بچایا گیاایک نومولود
ابتدائی وجہاے سی یونٹ میں دھماکا یا شارٹ سرکٹ کی اطلاعات
overseaspost.net

ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ، 26 اگست کی صبح سویرے وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں ایک دل خراش آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا۔ 

بتایا گیا کہ صبح سات بجے سے کچھ پہلے ایک ایئرکنڈیشننگ یونٹ میں دھماکے یا شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ 

آکسیجن پوائنٹس اور انکیوبیٹرز کی موجودگی، جو ان معصوم بچوں کی زندگی کا سہارا تھے، آگ کے تیزی سے پھیلنے کا باعث بنی۔

اس نرسری میں پندرہ نومولود بچے موجود تھے۔ 

کچھ نے دنیا میں آنکھ کھولے ابھی چند ہی گھنٹے گزارے تھے، جبکہ کچھ کی زندگی کو محض دو یا تین دن ہوئے تھے۔ 

اطلاعات کے مطابق چودہ ننھی جانیں دھوئیں اور شعلوں کی لپیٹ میں آکر دم توڑ گئیں، جبکہ صرف ایک بچے کو ایک ڈاکٹر نے بچا لیا۔ 

ان نومولود بچوں میں سے متعدد مسلسل آکسیجن کے محتاج تھے۔ 

آکسیجن کا سلسلہ منقطع ہونے پر بعض دم گھٹنے کا شکار ہوئے اور بعض آگ کی شدت کی نذر ہو گئے۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ سانحہ کیوں اہم ہے؟
جان کی امانتنومولود بچے مکمل طور پر طبی نظام اور عملے کی نگہداشت پر منحصر ہوتے ہیں۔
فائر سیفٹیآکسیجن، انکیوبیٹرز اور حساس آلات والے وارڈ میں آگ سے بچاؤ کا نظام انتہائی مضبوط ہونا چاہئے۔
ایمرجنسی تیاریحادثے کے لمحے فوری انخلا، تربیت یافتہ عملہ اور واضح پروٹوکول زندگی اور موت کا فرق بن سکتے ہیں۔
عوامی اعتمادسرکاری ہسپتال میں آنے والا ہر خاندان ادارے پر اپنی سب سے قیمتی امانت کا بھروسا کرتا ہے۔
اصل سوال: حادثہ کیسے ہوا سے آگے بڑھ کر یہ جاننا ضروری ہے کہ حفاظتی اور انتظامی نظام نے وقت پر کام کیوں نہیں کیا؟
overseaspost.net

ان والدین کے دلوں پر کیا قیامت گزری ہوگی جنہوں نے اپنے بچوں کو محفوظ سمجھ کر ہسپتال کے حوالے کیا تھا، اس کا اندازہ الفاظ میں شاید کبھی نہیں کیا جا سکتا۔

 

لواحقین نے بند دروازوں، انتہائی نازک وقت میں عملے کی مبینہ عدم موجودگی اور مدد کے لیے طویل اور اذیت ناک انتظار کی شکایات کیں۔ 

ایک ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کے لیے بند دروازے کے باہر فریاد کرتی رہی۔ 

ایک دوسری ماں کا سوال تھا کہ جب ان بچوں کو سب سے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت تھی تو ڈاکٹر اور متعلقہ عملہ کہاں تھا؟

باپ باہر کھڑے اپنی قسمت کا نوحہ پڑھتے رہے۔ 

انہی میں ایک سبزی فروش بھی تھا جس کی صرف 3 دن کی جڑواں بیٹیاں نرسری میں زیرِعلاج تھیں۔ وہ رات بھر ہسپتال میں رہنے کے بعد چند لمحوں کے آرام کے لیے گھر گیا، لیکن صبح اسے خبر ملی کہ اس کی دونوں ننھی بیٹیاں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔

جن گھروں میں نومولود بچوں کی آمد کی خوشیاں منانے کی تیاریاں تھیں، وہاں اچانک خاموشی، آنسو اور ماتم اتر آیا۔ 

والدین کو اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر گھر لے جانا تھا، لیکن بعض خاندانوں کو شناخت کے بعد اپنے بچوں کی میتیں وصول کرنا پڑیں۔ زندگی کے استقبال کے لیے تیار گھروں کے دروازوں پر موت نے دستک دے دی۔

OVERSEAS POST | HUMAN STORYوالدین پر گزرنے والی قیامت

جن والدین نے اپنے نومولود بچوں کو محفوظ ہاتھوں میں سمجھ کر نرسری کے سپرد کیا تھا، ان کے لیے یہ حادثہ ناقابلِ تصور صدمہ بن گیا۔

  • لواحقین نے بند دروازوں اور مدد میں تاخیر کی شکایات کیں۔
  • ایک ماں اپنے بچے کے لیے طویل وقت تک وارڈ کے باہر فریاد کرتی رہی۔
  • ایک سبزی فروش کی صرف تین دن کی جڑواں بیٹیاں اس سانحے میں چل بسیں۔
  • جن گھروں میں خوشی کی تیاری تھی، وہاں اچانک ماتم اتر آیا۔
overseaspost.net

حکام کے مطابق چھ فائر اٹینڈرز اور 4 ایمبولینسوں پر مشتمل امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔ آگ کے شعلے تو بجھ گئے، مگر والدین کے دلوں میں اٹھنے والا طوفان شاید برسوں نہ تھم سکے۔

اور اسی کے ساتھ ایک ایسا سوال سامنے آ کھڑا ہوا جسے محض کسی انکوائری رپورٹ کے چند صفحات میں دفن نہیں کیا جا سکتا:

اس انتہائی حساس نرسری کو اس وقت تنہا کیوں چھوڑا گیا، جب وہاں زندگی کی سب سے کمزور اور بے بس صورتیں سانس لے رہی تھیں؟

یہ سوال بھی ناگزیر ہے کہ ہماری ناکامی کہاں ہوئی؟ تعلیم میں؟ پیشہ ورانہ تربیت میں؟ طبی آلات کی دیکھ بھال اور حفاظتی نظام میں؟ نگرانی اور انتظامی نظم و ضبط میں؟ یا پھر اس وسیع تر قومی رویے میں، جہاں ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس بتدریج کمزور ہوتا جا رہا ہے؟

اصل سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی۔ 

اصل سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی ہنگامی صورتِ حال کا سامنا ہو تو کیا ہمارے ہسپتالوں کا عملہ اس کے لیے تیار ہے؟ کیا ہر حساس وارڈ میں واضح ایمرجنسی پروٹوکول موجود ہے؟ کیا آگ بجھانے کے آلات قابلِ استعمال ہیں؟ کیا عملے کی باقاعدہ تربیت اور مشق ہوتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا کسی بھی لمحے ایسا ممکن ہے کہ انتہائی نگہداشت کے محتاج مریضوں کو تنہا چھوڑ دیا جائے؟

اس سانحے کے بعد قوم کو یہ یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ اگلی ہنگامی صورتِ حال میں ایسی غفلت دوبارہ نہیں ہوگی۔

?OVERSEAS POST | ACCOUNTABILITYوہ سوال جن کے جواب ضروری ہیں
  • حادثے کے وقت نرسری میں کون سا عملہ موجود تھا اور کس کی کیا ذمہ داری تھی؟
  • فائر الارم، بجھانے کے آلات اور ہنگامی راستوں نے مؤثر طریقے سے کام کیا یا نہیں؟
  • نومولود بچوں کے فوری انخلا کے لیے تحریری اور عملی پروٹوکول موجود تھا؟
  • آکسیجن پوائنٹس، اے سی یونٹ اور برقی نظام کی آخری حفاظتی جانچ کب ہوئی؟
  • اگر غفلت ہوئی تو کیا ذمہ داری انفرادی ہوگی یا انتظامی سطح تک جائے گی؟
overseaspost.net

پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی کے بارے میں عوامی اعتماد کا کوئی ایسا جامع اور مستند قومی سروے سامنے نہیں جو اطمینان یا عدم اطمینان کی حتمی شرح بیان کر سکے۔ تاہم روزمرہ تجربات، شکایات اور عمومی عوامی تاثر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نظامِ صحت اور خصوصاً سرکاری ہسپتالوں کی خدمات کے بارے میں لوگوں میں سنجیدہ تحفظات موجود ہیں۔

یہ محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں۔ 

اصل مسئلہ اس اعتماد کا ہے جو ایک بیمار انسان، ایک مجبور ماں اور ایک بے بس باپ سرکاری طبی ادارے کے دروازے پر قدم رکھتے ہوئے اپنے دل میں لے کر آتا ہے۔ 

اگر وہ اعتماد ٹوٹ جائے تو عمارتیں، مشینیں اور بڑے بڑے منصوبے بھی نظام کو معتبر نہیں بنا سکتے۔

اس المیے کے برعکس چین اور جاپان میں آنے والے بڑے زلزلوں کے بعض مناظر دنیا بھر میں دیکھے گئے، جہاں عمارتیں لرز رہی تھیں لیکن نومولود بچوں کے وارڈ میں موجود طبی کارکن بچوں کو چھوڑ کر بھاگنے کے بجائے ان کے گرد ڈھال بن گئے۔ 

انہوں نے اپنے جسموں سے ان بے زبان اور بے بس معصوموں کی حفاظت کرنے کی کوشش کی۔

یہی خدمت کا وہ جذبہ ہے جو انسان کو محض ایک ملازم سے ایک حقیقی نگہبان بنا دیتا ہے۔

پاکستان کے وزیرِاعظم نے اس المناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا اور ذمہ داری کے تعین کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔

OVERSEAS POST | INVESTIGATIONتحقیقات میں کیا دیکھا جانا چاہئے؟
آگ کی اصل وجہشارٹ سرکٹ، اے سی یونٹ یا کسی اور تکنیکی خرابی کا حتمی تعین۔
عملے کی ڈیوٹیحادثے کے وقت موجودگی، ردعمل اور انخلا میں کردار کی مکمل جانچ۔
آلات کی حفاظتانکیوبیٹرز، آکسیجن لائنز، برقی نظام اور فائر سیفٹی آلات کا ریکارڈ۔
انتظامی نگرانیسیفٹی آڈٹ، تربیت، مشقوں اور سابقہ شکایات کا جائزہ۔
تحقیقات کا مقصد صرف ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں، بلکہ وہ نظامی کمزوریاں بھی سامنے لانا ہونا چاہئے جو دوبارہ سانحہ پیدا کر سکتی ہیں۔
overseaspost.net

 اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیقات کسی خوف، مصلحت یا دباؤ کے بغیر مکمل ہوں۔

تحقیقات صرف اس چنگاری تک محدود نہیں رہنی چاہئیں جس سے آگ بھڑکی، بلکہ ان تمام گہرے شگافوں تک پہنچنی چاہئیں جو تربیت، نگرانی، طبی آلات کی حفاظت، ایمرجنسی تیاری، انتظامی نظم و ضبط اور احساسِ ذمہ داری میں پیدا ہو چکے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ حادثے کے وقت کون کہاں موجود تھا؟ کس کی کیا ذمہ داری تھی؟ حفاظتی نظام نے کام کیوں نہیں کیا؟ 

آگ پھیلنے سے پہلے اسے روکنے کی کیا سہولت موجود تھی؟ بچوں کے فوری انخلا کے لیے کیا انتظام تھا؟ اور اگر کسی سطح پر غفلت ہوئی تو اس کا ذمہ دار کون تھا؟

ذمہ داری کا تعین محض کسی ایک عہدے دار کو معطل کر دینے پر ختم نہیں ہونا چاہئے۔ 

اگر نظام میں خامی ہے تو نظام درست ہونا چاہئے، اگر تربیت میں کمی ہے تو تربیت بہتر ہونی چاہئے، اگر آلات ناقص ہیں تو انہیں تبدیل ہونا چاہئے، اور اگر غفلت ثابت ہو تو قانون کو بلاامتیاز حرکت میں آنا چاہئے۔

OVERSEAS POST | DUTYمسیحائی صرف پیشہ نہیں، امانت ہے

ہسپتال میں موجود ڈاکٹر، نرس اور طبی کارکن صرف ملازم نہیں، کمزور اور بے بس انسانوں کے نگہبان بھی ہوتے ہیں۔

  • نومولود بچہ اپنی حفاظت کے لیے کسی اور پر مکمل انحصار کرتا ہے۔
  • خطرے کی گھڑی میں تربیت، حوصلہ اور فوری فیصلہ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
  • ہر طبی کارکن کے سامنے کسی ماں کی امید اور کسی باپ کی دعا ہوتی ہے۔
مضمون کا اخلاقی نکتہ: ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے، اس لیے جان کی حفاظت میں غفلت معمولی انتظامی غلطی نہیں سمجھی جا سکتی۔
overseaspost.net

شفا کی خدمت ایک مقدس امانت ہے۔ 

کمزور، بیمار اور بے بس انسانوں کی جانیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے سپرد کی گئی ذمہ داری ہیں۔ ہسپتال کے بستر کے پاس کھڑے ہر طبی کارکن کو یہ حقیقت ہمیشہ اپنے دل میں تازہ رکھنی چاہئے کہ وہ محض ایک ملازم نہیں بلکہ ایک نگہبان ہے، اور اس کی رعیت اس کے سامنے زندگی اور موت کے درمیان کھڑی ہو سکتی ہے۔

اس کے ہاتھ میں کسی ماں کی امید، کسی باپ کی دعا اور کسی معصوم بچے کی پوری دنیا ہوتی ہے۔

پمز کی نرسری میں جان سے گزر جانے والے وہ نومولود بچے شاید بولنے کے قابل بھی نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے دنیا کو دیکھا ہی کتنا تھا؟ چند گھنٹے، ایک دن، دو دن یا تین دن۔ 

نہ انہوں نے کسی سے شکایت کی، نہ کوئی سوال پوچھا اور نہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کر سکے۔

لیکن ان کی خاموشی آج بہت سے سوال پوچھ رہی ہے۔

OVERSEAS POST | REFORMSایسا سانحہ دوبارہ نہ ہو — 5 ضروری اقدامات
  • تمام حساس وارڈز کا فوری اور باقاعدہ فائر سیفٹی آڈٹ۔
  • طبی اور معاون عملے کی لازمی ایمرجنسی ڈرل اور انخلا تربیت۔
  • آکسیجن لائنز، اے سی یونٹس اور برقی نظام کی طے شدہ مدت پر حفاظتی جانچ۔
  • نرسری اور آئی سی یو جیسے شعبوں میں ہر وقت واضح عملہ موجودگی کا نظام۔
  • حادثات اور غفلت کے معاملات میں شفاف رپورٹنگ اور قابلِ عمل جواب دہی۔
overseaspost.net

یہ خاموش فریاد صرف چودہ معصوم جانوں کے لیے انصاف نہیں مانگتی بلکہ ہم سب سے اپنے فرض، اپنی ذمہ داری اور اپنے اجتماعی ضمیر کا حساب بھی مانگتی ہے۔

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ ایک جان کی حفاظت میں غفلت آخر کس طرح قابلِ قبول ہو سکتی ہے؟

یہ ننھے مسافر دنیا میں شاید چند لمحوں کے لیے آئے تھے، لیکن اپنے پیچھے ایسا سوال چھوڑ گئے ہیں جس کا جواب ہمیں دینا ہوگا۔

وہ دنیا کے مسافر کم اور جنت کے مسافر زیادہ تھے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️