محمد محسن اقبال
اسلام آباد
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر انتظامی کارکردگی، علاقائی محرومی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے سوالات کو سامنے لارہی ہے۔
نئے صوبوں کے حامی انہیں عوام کے قریب حکومت اور بہتر جواب دہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ مخالفین مالی اخراجات، آئینی پیچیدگیوں اور مزید تقسیم کے خدشات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مضمون کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے یا مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتیں زیادہ مؤثر حل ہوسکتی ہیں؟
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث وقتاً فوقتاً نئی شدت کے ساتھ ابھرتی رہی ہے۔
اس بحث کے پس منظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک ایسی قوم کو مؤثر انداز میں کیسے چلایا جائے جس کی آبادی اب 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس کا انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک وہی ہے جو 1970ء میں تشکیل دیا گیا تھا۔
اس وقت پاکستان 4 صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—پر مشتمل ہے، جبکہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر بھی مجموعی انتظامی منظرنامے کا حصہ ہیں۔
جنوبی پنجاب یا ہزارہ جیسے مخصوص علاقوں کو صوبائی حیثیت دینے سے لے کر 12، 15 حتیٰ کہ 30 صوبوں تک کی تجاویز اسی احساس سے جنم لیتی ہیں کہ انتظامی بوجھ بڑھ چکا ہے، علاقائی تفاوت گہرا ہے، آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور دور دراز صوبائی دارالحکومت مقامی ضروریات کا بروقت اور مؤثر جواب دینے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔
◆OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات⌄
- پاکستان کی آبادی چوبیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، مگر بنیادی صوبائی ڈھانچہ بڑی حد تک 1970ء والا ہی ہے۔
- نئے صوبوں کی بحث انتظامی بوجھ، علاقائی تفاوت، آبادی کے دباؤ اور عوام سے دور حکمرانی کے پس منظر میں سامنے آتی ہے۔
- حامیوں کے مطابق چھوٹے صوبے فیصلہ سازی کو عوام کے قریب اور وسائل کی تقسیم کو زیادہ متوازن بنا سکتے ہیں۔
- مخالفین بھاری مالی اخراجات، نئی بیوروکریسی، آئینی پیچیدگیوں اور شناختی سیاست کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
- مضمون کا مرکزی سوال یہ ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں یا پہلے مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیار دیا جائے۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے صوبے انتظامیہ اور عوام کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرسکتے ہیں، جو اس وقت بہت سے شہریوں کے لیے ایک ناقابلِ عبور دیوار بن چکا ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ جیسے صوبائی دارالحکومت کئی اضلاع سے سینکڑوں میل دور واقع ہیں۔
اس فاصلے کے باعث صحت، تعلیم، امن و امان، بنیادی سہولتوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے جیسے معاملات میں فوری کارروائی مشکل ہوجاتی ہے۔
مزید پڑھیں
نئے انتظامی یونٹ مقامی حالات اور ضروریات کے مطابق پالیسیاں تشکیل دے سکتے ہیں۔
اس سے پنجاب کی بالادستی کے اس احساس میں بھی کمی آسکتی ہے جو ملک کی تقریباً نصف آبادی کا مسکن ہونے کے باعث بعض حلقوں میں پایا جاتا ہے۔
اسی طرح کم نمائندگی رکھنے والے علاقوں کو صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ
اور وسائل کی تقسیم میں زیادہ مؤثر آواز مل سکتی ہے۔
وہ ادارے اور ترقیاتی فنڈز بھی، جو طویل عرصے سے موجودہ صوبائی دارالحکومتوں کے گرد مرکوز رہے ہیں، زیادہ متوازن انداز میں مختلف علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
سرائیکی اور ہندکو جیسی لسانی و ثقافتی شناختوں کو بھی آئینی اور انتظامی سطح پر زیادہ واضح نمائندگی مل سکتی ہے۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس⌄
چھوٹے انتظامی یونٹوں کے حق میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ نسبتاً محدود دائرۂ اختیار رکھنے والی حکومتوں کی نگرانی آسان ہوگی۔
اس سے موروثی سیاست کی گرفت کم ہونے، متوسط طبقے سے نئی سیاسی قیادت سامنے آنے اور سرکاری اداروں کی جواب دہی مضبوط ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
اس مؤقف کے حامی اکثر بھارت کی مثال پیش کرتے ہیں، جہاں وقت کے ساتھ نئی ریاستیں وجود میں آتی رہیں اور ان کی تعداد اٹھائیس تک پہنچ گئی۔
افغانستان میں بھی صوبائی اکائیوں کی تعداد پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔
حامیوں کے خیال میں جب کسی ملک کی آبادی کئی گنا بڑھ جائے تو دہائیوں پرانے بڑے انتظامی یونٹوں کو جوں کا توں برقرار رکھنا مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی کم اہم نہیں۔
نئے صوبوں کے مخالفین اس منصوبے سے وابستہ بھاری مالی اور انتظامی اخراجات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
ہر نئے صوبے کے لیے گورنر، وزیراعلیٰ، کابینہ، صوبائی اسمبلی، ہائی کورٹ، سیکریٹریٹ، سرکاری رہائش گاہیں، گاڑیاں، سکیورٹی نظام اور مستقل سرکاری ڈھانچہ قائم کرنا پڑے گا۔
یوں نہ صرف سیاسی اور انتظامی طبقہ پھیلے گا بلکہ مستقل نوعیت کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ پاکستان پہلے ہی مالی خسارے، بڑھتے قرضوں اور قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وسائل کی تقسیم سے متعلق اختلافات جیسے مسائل سے دوچار ہے۔
+OVERSEAS POST | PROSنئے صوبوں کے حق میں بڑی دلیلیں⌄
- صوبائی دارالحکومت اور دور دراز اضلاع کے درمیان انتظامی فاصلہ کم ہوسکتا ہے۔
- صحت، تعلیم، امن و امان اور قدرتی آفات پر نسبتاً تیز ردعمل ممکن ہوسکتا ہے۔
- کم نمائندگی رکھنے والے علاقوں کو صوبائی اسمبلیوں اور وسائل کی تقسیم میں زیادہ مؤثر آواز مل سکتی ہے۔
- علاقائی ترقیاتی فنڈز اور ادارے بڑے شہروں کے بجائے مختلف خطوں تک زیادہ متوازن انداز میں پہنچ سکتے ہیں۔
- سرائیکی اور ہندکو جیسی ثقافتی و لسانی شناختوں کو زیادہ واضح انتظامی نمائندگی مل سکتی ہے۔
- چھوٹی حکومتوں کی نگرانی نسبتاً آسان ہونے سے جواب دہی بہتر ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
جنوبی پنجاب،
بہاولپور اور
ہزارہ صوبے کے
مطالبات طویل
عرصے سے
موجود ہیں
مزید برآں، اگر صوبوں کی تقسیم خالصتاً نسلی یا لسانی بنیادوں پر کی گئی تو شناخت کی سیاست مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
اس سے نئے سرحدی تنازعات جنم لے سکتے ہیں اور قومی یکجہتی مضبوط ہونے کے بجائے تقسیم در تقسیم کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔
آئینی اعتبار سے بھی کسی نئے صوبے کا قیام یا کسی موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی آسان مرحلہ نہیں۔
آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت اس نوعیت کی آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے علاوہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی بھی مطلوبہ اکثریت سے منظوری ضروری ہوتی ہے۔
موجودہ منقسم اور شدید سیاسی ماحول میں ایسا اتفاقِ رائے پیدا کرنا ایک نہایت دشوار مرحلہ ہوسکتا ہے۔
تاریخ اور تجربہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ محض نئے انتظامی یونٹ تشکیل دینے سے کمزور ادارے، اشرافیائی گرفت، سیاسی سرپرستی اور ناقص احتساب جیسے بنیادی مسائل خود بخود ختم نہیں ہوجاتے۔
بعید نہیں کہ وہی سیاسی مفادات اور طاقت کے مراکز، جو آج بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں موجود ہیں، کل نئے صوبائی مراکز میں منتقل ہوجائیں۔
سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے بعد سامنے آنے والی طویل انتظامی مشکلات بھی اس امر کی مثال ہیں کہ انتظامی تشکیلِ نو محض نقشہ بدلنے کا نام نہیں۔
نئے نظام کو مکمل طور پر فعال ہونے، اداروں کو ہم آہنگ کرنے اور عوام تک اس کے فوائد پہنچانے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
!OVERSEAS POST | RISKSنئے صوبوں کے بڑے خدشات⌄
- ہر نئے صوبے کے ساتھ گورنر، وزیراعلیٰ، کابینہ، اسمبلی، سیکریٹریٹ اور دیگر مستقل اخراجات بڑھیں گے۔
- مالی طور پر کمزور صوبے مرکز پر مزید انحصار کرسکتے ہیں۔
- لسانی یا نسلی بنیادوں پر تقسیم شناخت کی سیاست اور سرحدی تنازعات کو بڑھا سکتی ہے۔
- نئی انتظامی اکائیاں بننے سے پرانے سیاسی مفادات خود بخود ختم نہیں ہوتے۔
- وفاقی وسائل اور سینیٹ میں نمائندگی کا موجودہ توازن مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
مزید صوبے وفاقی وسائل کی تقسیم اور سینیٹ میں نمائندگی کے نظام کو بھی پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ بعض نئی اور چھوٹی صوبائی اکائیاں مالی اعتبار سے کمزور ثابت ہوکر مرکز پر زیادہ انحصار کی محتاج ہوسکتی ہیں۔
یوں جس مقصد کے لیے نئی تقسیم کی جائے، عین ممکن ہے کہ وہی تقسیم مستقبل میں ایک نئے مالی اور انتظامی انحصار کو جنم دے۔
اس بحث کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے پاکستان کے صوبائی نقشے کی تاریخی تشکیل پر نظر ڈالنا بھی ضروری ہے۔
1947ء میں قیامِ پاکستان کے وقت مغربی حصے میں مغربی پنجاب، سندھ، شمال مغربی سرحدی صوبہ اور بلوچستان شامل تھے، جبکہ بہاولپور، خیرپور، قلات اور دیگر ریاستیں بھی الحاق کے ذریعے اس انتظامی منظرنامے کا حصہ بنیں۔
کراچی کو وفاقی دارالحکومت کے علاقے کی حیثیت سے الگ رکھا گیا، جبکہ بلوچ ریاستوں نے بھی مختصر عرصے کے لیے ایک الگ وفاقی بندوبست اختیار کیا۔
§OVERSEAS POST | CONSTITUTIONنیا صوبہ کیسے بن سکتا ہے؟⌄
کسی نئے صوبے کے قیام یا موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی بھی آئینی منظوری ضروری ہوتی ہے۔
موجودہ سیاسی تقسیم میں ایسا وسیع اتفاقِ رائے پیدا کرنا محض انتظامی نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی اور آئینی مرحلہ ہے۔
1954ء میں ون یونٹ اسکیم کا اعلان کیا گیا اور اکتوبر 1955ء میں اسے نافذ کردیا گیا۔
اس منصوبے کے تحت مغربی پاکستان کے مختلف صوبوں اور ریاستوں کو یکجا کرکے ایک صوبہ، یعنی مغربی پاکستان، تشکیل دیا گیا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد مشرقی پاکستان کے ساتھ سیاسی برابری قائم کرنا، انتظامی اخراجات کم کرنا اور صوبائیت کے رجحانات کو محدود کرنا تھا۔
لیکن جس منصوبے سے انتظامی سہولت اور آئین سازی میں آسانی کی امید کی گئی تھی، وہ رفتہ رفتہ مرکزیت کا استعارہ بن گیا۔
سندھ، شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان میں اس کے خلاف گہری بے چینی پیدا ہوئی، کیونکہ بہت سے حلقوں نے اسے علاقائی شناخت اور تاریخی تشخص پر حملہ قرار دیا۔
مزید پڑھیں
بالآخر تقریباً 15 برس جاری رہنے والا یہ تجربہ 1970ء میں صدر یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے ختم ہوا۔
مغربی پاکستان کو تحلیل کرکے بڑی حد تک 1955ء سے پہلے کی بنیادوں پر چار صوبے بحال کردیے گئے، اگرچہ سابق ریاستوں کے حوالے سے بعض انتظامی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔
1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد یہی 4 صوبے
باقی ماندہ پاکستان کی بنیادی وفاقی اکائیاں بن گئے اور 1973ء کے آئین نے بھی اسی صوبائی ساخت کی توثیق کردی۔
بعد کے برسوں میں انتظامی نقشے میں مختلف نوعیت کی تبدیلیاں ضرور آئیں۔
اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کو باقاعدہ انتظامی شناخت حاصل ہوئی، 2009ء میں گلگت بلتستان کو زیادہ خودمختاری دی گئی اور 2010ء میں شمال مغربی سرحدی صوبے کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا۔
اس آخری تبدیلی نے ہزارہ صوبے کے مطالبے کو بھی مزید تقویت دی۔
⏱OVERSEAS POST | TIMELINEپاکستان کے صوبائی نقشے کی ٹائم لائن⌄
پھر 2018ء میں پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سابق قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا۔
اس تمام عرصے میں سرائیکی یا جنوبی پنجاب صوبے کے قیام، بہاولپور کی سابق حیثیت کی بحالی اور مزید انتظامی تقسیم کے مطالبات مسلسل سامنے آتے رہے، لیکن 1970ء کے بعد آج تک پاکستان میں کوئی نیا مکمل صوبہ وجود میں نہیں آسکا۔
اس بحث کا ایک اور اہم پہلو مقامی حکومتوں کا نظام ہے۔
پاکستان میں بلدیاتی اداروں کی تاریخ بھی سیاسی اور انتظامی اتار چڑھاؤ سے عبارت رہی ہے۔ مضبوط مقامی حکومت کو صوبوں کی تعداد بڑھانے کے مقابلے میں نسبتاً کم خرچ اور زیادہ مؤثر متبادل سمجھا جاتا رہا ہے۔
نوآبادیاتی دور کے پنچایت اور بلدیاتی ادارے آزادی کے بعد کمزور شکل میں ورثے میں ملے، لیکن ابتدائی برسوں میں انہیں خاطر خواہ اہمیت نہ دی جاسکی۔
1959ء میں صدر ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کرایا گیا۔ اس کے تحت یونین، تحصیل، ضلع اور ڈویژن کی سطح پر بلدیاتی کونسلوں کا مربوط نظام قائم کیا گیا۔ ان اداروں کے ارکان نہ صرف مقامی انتظامیہ میں کردار ادا کرتے تھے بلکہ انہیں انتخابی کالج کی حیثیت بھی حاصل تھی۔
◈OVERSEAS POST | HISTORYون یونٹ کا سبق⌄
ون یونٹ کا مقصد مشرقی پاکستان کے ساتھ سیاسی برابری، انتظامی اخراجات میں کمی اور صوبائیت کو محدود کرنا تھا۔
لیکن وقت کے ساتھ یہ منصوبہ مرکزیت کی علامت بن گیا اور سندھ، شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔
1970ء میں اس تجربے کا خاتمہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انتظامی سہولت کے نام پر شناخت اور نمائندگی کو نظرانداز کرنا دیرپا حل نہیں بنتا۔
بعد ازاں سول حکومتوں کے ادوار میں مقامی اداروں کی اہمیت کم ہوئی، لیکن جنرل ضیاء الحق نے 1979ء کے آرڈیننس کے ذریعے منتخب بلدیاتی اداروں کو دوبارہ فعال کیا اور غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے۔
جنرل پرویز مشرف کے 2001ء کے نظامِ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نے اس عمل کو مزید آگے بڑھایا۔
یونین، تحصیل اور ضلع کی سطح پر 3 درجاتی نظام قائم کیا گیا، جس کی سربراہی منتخب ناظمین کرتے تھے۔
انہیں قابلِ ذکر انتظامی اور ترقیاتی اختیارات منتقل کیے گئے جبکہ خواتین اور دیگر طبقات کے لیے مخصوص نشستیں بھی رکھی گئیں۔
⌂OVERSEAS POST | LOCAL GOVERNMENTمقامی حکومتوں کا سفر⌄
تاہم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک عجیب تضاد مسلسل دکھائی دیتا ہے: فوجی ادوار میں بلدیاتی اداروں کو بار بار مضبوط کیا گیا، جبکہ متعدد سول حکومتوں کے دور میں بلدیاتی انتخابات مؤخر ہوئے، منتخب کونسلیں تحلیل کی گئیں یا اختیارات دوبارہ صوبائی سطح پر مرتکز کردیے گئے۔
مضبوط بلدیاتی
نظام نئے صوبوں
کے کئی ممکنہ
فوائد کم خرچ میں
فراہم کرسکتا ہے
2010ء کی اٹھارہویں آئینی ترمیم نے آرٹیکل 140-A کے تحت صوبوں پر لازم قرار دیا کہ وہ منتخب مقامی حکومتیں قائم کریں اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں۔
اس کے بعد صوبائی قوانین بھی بنائے گئے اور مختلف مراحل میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے، لیکن عملی نفاذ اب بھی غیر یکساں رہا ہے۔ انتخابات میں تعطل، محدود اختیارات اور مالی خودمختاری کی کمی جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔
اسی لیے بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان میں حقیقی معنوں میں مضبوط، بااختیار اور مستقل مقامی حکومتیں قائم کردی جائیں تو نئے صوبوں کے حامیوں کی جانب سے بیان کیے جانے والے بیشتر فوائد—عوام کے قریب انتظامیہ، فوری ردعمل، مقامی ترقی اور بہتر جواب دہی—صوبوں کی تعداد بڑھائے بغیر بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
◎OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSمضبوط بلدیات کیوں اہم ہیں؟⌄
- عوام کو بنیادی خدمات کے لیے دور صوبائی دارالحکومتوں پر کم انحصار کرنا پڑے گا۔
- مقامی ترقیاتی ترجیحات مقامی سطح پر طے کی جاسکیں گی۔
- شہری اپنے منتخب نمائندوں کا براہِ راست احتساب زیادہ آسانی سے کرسکیں گے۔
- مالی اور انتظامی اختیار نچلی سطح تک پہنچنے سے نئے صوبوں کی ضرورت سے متعلق دباؤ کسی حد تک کم ہوسکتا ہے۔
- اس راستے میں نئی اسمبلیوں اور بڑے مستقل صوبائی اخراجات کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس راستے میں نہ تو نئے صوبوں کے قیام جیسے بھاری مالی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے اور نہ ہی نسلی یا لسانی بنیادوں پر نئی تقسیم سے وابستہ خطرات اسی شدت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔
آخرکار نئے صوبوں کی بحث دراصل ہماری موجودہ انتظامی ساخت کی حقیقی کمزوریوں، غیر مساوی ترقی اور عوام سے دور حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے۔
اگر نئے اور نسبتاً چھوٹے صوبے خالصتاً نسلی یا لسانی بنیادوں کے بجائے انتظامی کارکردگی، مضبوط اداروں، معاشی پائیداری اور مالی احتیاط کے اصولوں پر قائم کیے جائیں تو وہ بعض موجودہ دباؤ کو کم کرنے میں یقیناً مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پارلیمان اور اس سے باہر موجود سیاسی قوتیں مستقبل میں کسی نئے انتظامی بندوبست پر مکمل یا جزوی اتفاق پیدا کرلیں۔
تاہم اس کے عملی نفاذ کی حد اور شکل کا فیصلہ سیاسی حالات، آئینی تقاضوں اور قومی اتفاقِ رائے پر منحصر ہوگا۔
اس کے باوجود بھاری مالی اخراجات، آئینی پیچیدگیاں اور مزید تقسیم کے ممکنہ خطرات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں مضبوط، مستقل اور بااختیار بنانا زیادہ دانش مندانہ راستہ ہوسکتا ہے۔
پاکستان کی کوئی بھی دیرپا انتظامی تشکیلِ نو اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب اس کے پیچھے وسیع قومی اتفاقِ رائے، دور اندیشی، ادارہ جاتی اصلاحات اور نہایت محتاط منصوبہ بندی موجود ہو۔
⇄OVERSEAS POST | COMPARISONنئے صوبے بمقابلہ بااختیار بلدیات⌄
| پہلو | نئے صوبے | بااختیار بلدیات |
|---|---|---|
| عوام سے قربت | دونوں راستے بہتر کرسکتے ہیں | براہِ راست مقامی سطح پر زیادہ فوری |
| مالی لاگت | نسبتاً زیادہ | نسبتاً کم |
| آئینی پیچیدگی | زیادہ | صوبائی قانون اور مؤثر نفاذ بنیادی مسئلہ |
| شناختی سیاست کا خطرہ | زیادہ ہوسکتا ہے | نسبتاً محدود |
| وسائل کی مقامی ترجیح | نئے صوبائی مرکز کے ذریعے | براہِ راست ضلع/تحصیل/شہر کی سطح پر |
ورنہ اصلاح کے نام پر ہونے والی تقسیم کہیں انہی مسائل کو مزید گہرا نہ کردے جنہیں ختم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا جائے۔
قومیں صرف نقشوں پر لکیریں بدلنے سے نہیں سنورتیں۔
اصل تبدیلی اس وقت آتی ہے جب اقتدار عوام کے دروازے تک پہنچے، ادارے مضبوط ہوں، وسائل منصفانہ طور پر تقسیم ہوں اور حکمرانی جواب دہ ہو۔
پاکستان کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ صوبے کتنے ہونے چاہئیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہر پاکستانی کو مؤثر، منصفانہ، جواب دہ اور قریب تر حکمرانی کیسے فراہم کی جائے؟