محمد محسن اقبال
اسلام آباد
سندھ طاس معاہدہ 1960ء سے پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم اور تنازعات کے حل کا بنیادی قانونی فریم ورک رہا ہے۔
جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا، مگر اب اس کی حیثیت پر پیدا ہونے والا تنازع پاکستان کے آبی تحفظ سے کہیں بڑا سوال بن چکا ہے۔
مضمون میں اس معاہدے کی قانونی اہمیت، پن بجلی منصوبوں، ثالثی کے نظام اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں مشترکہ دریاؤں کے مستقبل کا جائزہ لیا گیا ہے۔
پانی زندگی کی اساس ہے۔
اس کی فراوانی ہی سے تہذیبیں پروان چڑھتی ہیں، معیشتیں مضبوط ہوتی ہیں اور معاشرے خوش حال بنتے ہیں۔
قدرت نے انسان کو پانی کے بے شمار ذخائر عطا کئے ہیں، مگر اپنی مسلسل اور قدرتی روانی کے باعث دریا انسانی زندگی کے لیے سب سے اہم آبی وسائل میں شمار ہوتے ہیں۔
پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی دریائی پانی کا تحفظ ایک بنیادی مسئلہ بن گیا تھا، کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد بالائی اور زیریں علاقوں کے درمیان پانی کی تقسیم نہایت حساس معاملہ بن چکی تھی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTسندھ طاس معاہدہ — اہم نکات ⌄
- ✓پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960ء کو طے پایا۔
- ✓معاہدے کے تحت سندھ، جہلم اور چناب مغربی دریا ہیں، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریا ہیں۔
- ✓پاکستان کی زراعت، آب پاشی، غذائی تحفظ اور پن بجلی کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے۔
- ✓معاہدے میں اختلافات کے حل کے لیے مستقل انڈس کمیشن، غیر جانب دار ماہر اور ثالثی عدالت کے راستے موجود ہیں۔
- ✓31 اگست 2026ء کے ثالثی ایوارڈ میں عدالت نے قرار دیا کہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔
- ✓بھارت نے اس فیصلے اور عدالت کے دائرۂ اختیار کو مسترد کیا، جبکہ پاکستان نے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
اسی پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 19 ستمبر 1960ء کو سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔
یہ معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا انتظام نہیں تھا بلکہ دو متخاصم ممالک کے درمیان تعاون، پیش بینی اور باہمی ذمہ داری کی ایک غیر معمولی مثال بھی تھا۔
آج 66 برس بعد، اس معاہدے کی بنیادیں ایک بار پھر سیاسی کشمکش کی زد میں ہیں۔
مزید پڑھیں
پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا نظام محض پانی کا ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی زندگی کی شہ رگ ہے۔ زراعت، آب پاشی، پن بجلی، غذائی تحفظ، دیہی معیشت اور لاکھوں افراد کا روزگار اسی نظام سے وابستہ ہے۔
چنانچہ دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق کسی بھی غیر یقینی صورتِ حال کے اثرات سفارتی تعلقات سے کہیں آگے بڑھ کر براہِ راست انسانی زندگی اور قومی معیشت تک پہنچتے ہیں۔
یہ مسئلہ ایسے وقت میں مزید حساس ہو جاتا ہے جب موسمیاتی تبدیلی سندھ طاس کے آبی نظام پر پہلے ہی غیر معمولی دباؤ ڈال رہی ہے۔
گلیشیئرز کے پگھلاؤ، شدید بارشوں، خشک سالی اور دریائی بہاؤ میں
تبدیلی کے باعث مستقبل کی آبی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
ایسے حالات میں مشترکہ دریائی نظام کو سیاسی دباؤ کا میدان بنانے کے بجائے تعاون اور قانون کے دائرے میں رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
بالائی اور زیریں کنارے کی ریاستوں کے مفادات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXسندھ طاس معاہدہ: فیکٹ باکس ⌄
- دستخط
- 19 ستمبر 1960ء
- فریق
- پاکستان اور بھارت
- تیسرا دستخط کنندہ
- عالمی بینک — مخصوص مقاصد کے لیے
- مغربی دریا
- سندھ، جہلم، چناب
- مشرقی دریا
- راوی، بیاس، ستلج
- بنیادی ادارہ
- مستقل انڈس کمیشن
- تنازعات کے حل کے راستے
- کمیشن، غیر جانب دار ماہر اور ثالثی عدالت
- موجودہ قانونی تنازع
- بھارت کا معاہدہ ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا اعلان اور اس کی قانونی حیثیت
ایک طرف بالائی ریاست کے ترقیاتی اور توانائی کے تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں، تو دوسری طرف زیریں ریاست کے پانی، زراعت اور انسانی زندگی سے وابستہ حقوق بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔
پائیدار آبی انتظام کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں پہلوؤں کو طے شدہ قانونی اصولوں کے تحت متوازن رکھا جائے۔
سندھ طاس معاہدے کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت یہی رہی ہے کہ اس نے شدید سیاسی اختلافات کے باوجود پانی کے معاملے کو قانون اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کے تابع رکھا۔
دونوں ممالک کے درمیان جنگیں ہوئیں، فوجی تصادم ہوئے اور سفارتی تعلقات میں شدید اتار چڑھاؤ آیا، مگر معاہدہ برقرار رہا۔
یہی اس کی اصل طاقت تھی۔
≋ OVERSEAS POST | EXPLAINERچھ دریا، دو حصے — نظام کیسے بنا؟ ⌄
سندھ طاس معاہدے نے دریائی نظام کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا، لیکن بعض محدود استعمال دونوں ملکوں کے لیے شرائط کے ساتھ برقرار رکھے۔
اس تجربے نے ثابت کیا کہ سیاسی دشمنی کے باوجود انسانی زندگی سے متعلق بنیادی معاملات کو ادارہ جاتی اور قانونی نظام کے ذریعے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
بھارت کی جانب سے معاہدے کو یک طرفہ طور پر ’التوا‘ میں رکھنے کا فیصلہ اسی تاریخی اصول کو چیلنج کرتا ہے۔
بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد اس اعتماد پر قائم ہوتی ہے کہ فریقین اپنے وعدوں کا احترام کریں گے اور انہیں نیک نیتی سے نافذ کریں گے۔
یہی اصول Pacta Sunt Servanda یعنی ’معاہدوں کی پاسداری لازم ہے‘ کے نام سے بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں میں شمار ہوتا ہے۔
سندھ طاس
معاہدے کی
سب سے بڑی
تاریخی اہمیت
یہ رہی ہے کہ
اس نے شدید
سیاسی اختلافات
کے باوجود
پانی کے معاملے
کو قانون اور
ادارہ جاتی
طریقۂ کار کے
تابع رکھا
اگر کوئی ریاست محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی پابند معاہدے کو یک طرفہ طور پر غیر مؤثر قرار دینے کا راستہ اختیار کرے تو اس کے اثرات صرف ایک معاہدے یا ایک خطے تک محدود نہیں رہتے۔
اس سے دنیا بھر میں سرحد پار آبی معاہدوں کی پائیداری، پیش بینی اور اعتبار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
یہاں سندھ طاس معاہدے میں موجود تنازعات کے حل کے طریقۂ کار کی اہمیت بھی نمایاں ہوتی ہے۔
معاہدے نے مختلف نوعیت کے اختلافات کے لیے غیر جانب دار ماہر اور ثالثی عدالت جیسے ادارہ جاتی راستے فراہم کئے ہیں۔
ان کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ پانی جیسے حساس مسئلے کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھتے ہوئے طے شدہ قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔
ان اداروں کا وجود خود اس بات کی دلیل ہے کہ معاہدے کے فریقین نے اختلافات کے باوجود قانون اور ادارہ جاتی عمل پر اعتماد کرنے کا اصول تسلیم کیا تھا۔
ہیگ میں ثالثی عدالت کے حالیہ ایوارڈ نے اس بحث کو ایک اہم قانونی سمت فراہم کی ہے۔ عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اسے یک طرفہ طور پر ’التوا‘ میں رکھنے کا تصور معاہدے کے قانونی ڈھانچے میں موجود نہیں۔
⚖ OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSپاکستان کے لیے یہ معاہدہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
براہِ راست اثر
- زرعی زمینوں کی آب پاشی اور خوراک کی پیداوار دریائے سندھ کے وسیع نظام سے جڑی ہے۔
- پن بجلی، دیہی روزگار اور کئی صنعتی و شہری ضروریات بھی دریائی بہاؤ سے متاثر ہوتی ہیں۔
- پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی منصوبہ بندی اور غذائی تحفظ پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
بڑا خطرہ
- سیاسی کشیدگی اگر آبی انتظام تک پہنچے تو معاملہ سفارت کاری سے بڑھ کر انسانی و معاشی مسئلہ بن سکتا ہے۔
- موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی گلیشیئر، سیلاب اور خشک سالی کے خطرات بڑھا رہی ہے۔
- اعداد و شمار اور بروقت معلومات کا تعطل آبی انتظام کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
مرکزی نکتہ: پاکستان کے لیے سندھ طاس صرف ایک سفارتی معاہدہ نہیں بلکہ زراعت، خوراک، توانائی اور کروڑوں لوگوں کی معاشی زندگی سے جڑا فریم ورک ہے۔
اس فیصلے نے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دی کہ معاہدے کی قانونی حیثیت کسی ایک فریق کے سیاسی اعلان سے تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
یوں ایک بنیادی اصول دوبارہ نمایاں ہوا کہ بین الاقوامی معاہدے سیاسی حالات میں تبدیلی کے باوجود اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھتے ہیں، جب تک ان کے خاتمے یا تبدیلی کے لیے کوئی جائز اور باہمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔
بھارت نے اس مرحلے میں عدالتی کارروائی میں شرکت سے گریز کیا، حالاں کہ اسے تحریری مؤقف پیش کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔
تاہم کسی کارروائی میں عدم شرکت بذاتِ خود معاہدے کے تحت موجود ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرتی۔
اسی طرح کسی قائم شدہ بین الاقوامی تنازعہ حل کرنے کے طریقۂ کار سے الگ رہنے کا فیصلہ اس نظام کی قانونی حیثیت کو خود بخود ختم نہیں کر دیتا۔
ایوارڈ نے مغربی دریاؤں، یعنی سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں سے متعلق ایک اور اہم پہلو بھی واضح کیا۔
بھارت کو معاہدے میں طے شدہ شرائط کے مطابق بہتے پانی پر مبنی پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کے حقوق حاصل ہیں، لیکن ان منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن پر معاہدے کی شرائط لاگو رہتی ہیں۔
اس انتظام کا مقصد بالائی ریاست کے ترقیاتی حقوق اور زیریں ریاست کے آبی مفادات کے درمیان وہ قانونی توازن برقرار رکھنا ہے جو سندھ طاس معاہدے کی بنیادی روح ہے۔
رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق عبوری حکم بھی اسی قانونی نگرانی کی ایک عملی مثال ہے۔ ثالثی عدالت نے غیر جانب دار ماہر کے فیصلے تک ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کے مخصوص حصوں پر مقررہ حدود سے زیادہ کنکریٹ ڈالنے سے متعلق عبوری پابندیاں عائد کیں اور تعمیراتی شیڈول میں تبدیلیوں کی رپورٹنگ کا تقاضا کیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاہداتی ذمہ داریاں محض کاغذی اصول نہیں بلکہ جاری منصوبوں پر عملی اثرات رکھنے والی قانونی ذمہ داریاں بھی ہیں۔
مزید پڑھیں
سندھ طاس کے معاملے کی اہمیت صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں۔
دنیا کے کئی خطوں میں دریا ایک سے زیادہ ممالک سے گزرتے ہیں اور کروڑوں انسان سرحد پار آبی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔
اگر سیاسی کشیدگی کے دوران بالائی ریاستیں یک طرفہ طور پر پانی کے معاہدوں کو غیر مؤثر بنانے لگیں تو زیریں ریاستوں کے لیے آبی تحفظ
مسلسل سیاسی غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسی لیے سندھ طاس کا تجربہ عالمی سطح پر ایک وسیع تر اصول سے جڑا ہوا ہے:
مشترکہ قدرتی وسائل کو طاقت کے بجائے قانون، تعاون اور ذمہ داری کے ذریعے منظم کیا جانا چاہئے۔
66 OVERSEAS POST | TIMELINE66 برس کا سفر — چند اہم موڑ ⌄
1960ء: نو سال کی گفت و شنید کے بعد پاکستان اور بھارت نے عالمی بینک کی معاونت سے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کئے۔
دہائیوں تک: جنگوں، سرحدی کشیدگی اور سفارتی بحرانوں کے باوجود معاہدہ اور اس کے بنیادی ادارہ جاتی طریقے قائم رہے۔
2022ء: عالمی بینک نے کشن گنگا اور رتلے منصوبوں کے تنازع پر غیر جانب دار ماہر اور ثالثی عدالت کے الگ الگ عمل آگے بڑھائے۔
2025ء: بھارت نے معاہدے کو ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا اعلان کیا، جسے پاکستان نے مسترد کیا۔
31 اگست 2026ء: ثالثی عدالت نے معاہدے کی حیثیت اور رتلے منصوبے سے متعلق عبوری اقدامات پر فیصلہ جاری کیا۔
موسمیاتی تبدیلی اس ضرورت کو مزید نمایاں کر رہی ہے۔
آنے والے برسوں میں پانی کی دستیابی، سیلاب اور خشک سالی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے محض معاہدے کافی نہیں ہوں گے۔
شفاف اعداد و شمار کا تبادلہ، بروقت معلومات کی فراہمی، سیلابی رابطہ کاری، خشک سالی سے پیشگی تیاری اور پورے دریائی نظام کی مشترکہ سائنسی نگرانی بھی ناگزیر ہوگی۔
جنوبی ایشیا کے لیے اصل ضرورت پانی کو تنازعے کا ایندھن بنانے کی نہیں بلکہ تعاون کا وسیلہ بنانے کی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اس حقیقت کی علامت رہا ہے کہ دریا سیاسی سرحدوں سے بلند ایک مشترکہ انسانی ضرورت ہیں۔
اس معاہدے نے جنگ اور شدید کشیدگی کے زمانے میں بھی قانون کے لیے ایک راستہ محفوظ رکھا۔
آج اس تاریخی معاہدے کا مستقبل صرف پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کا سوال نہیں، بلکہ اس وسیع اصول کا امتحان بھی ہے کہ کیا سیاسی اختلافات کے باوجود بین الاقوامی معاہدوں کی حرمت برقرار رہ سکتی ہے۔
پانی کو سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنانے کے بجائے زندگی کی امانت سمجھنا ہوگا۔
دریاؤں کا بہاؤ روکا یا موڑا جا سکتا ہے، مگر ان سے وابستہ انسانی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سندھ طاس کے پانیوں سے کروڑوں زندگیوں کی امید وابستہ ہے۔
اس لیے اس نظام کا تحفظ کسی ایک حکومت، ایک دور یا ایک سیاسی مؤقف کا مسئلہ نہیں، یہ آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی ساکھ کا سوال ہے۔
↔ OVERSEAS POST | TWO POSITIONSپاکستان اور بھارت کا مؤقف کیا ہے؟ ⌄
پاکستان کا مؤقف
- معاہدہ بدستور نافذ العمل اور دونوں فریقوں کے لیے پابند ہے۔
- یک طرفہ طور پر اسے ’’التوا‘‘ میں رکھنے کی گنجائش معاہدے میں موجود نہیں۔
- اختلافات کو معاہدے کے اندر موجود قانونی اور ادارہ جاتی طریقوں سے حل کیا جانا چاہئے۔
بھارت کا مؤقف
- بھارت نے ثالثی عدالت کی قانونی حیثیت اور دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔
- نئی دہلی نے 31 اگست 2026ء کے ایوارڈ کو مسترد کیا۔
- بھارت کا کہنا ہے کہ معاہدے کو ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا اس کا فیصلہ برقرار ہے۔
ادارتی نوٹ: یہ کارڈ دونوں حکومتوں کے اعلان کردہ مؤقف الگ الگ پیش کرتا ہے؛ قانونی تنازع میں ثالثی عدالت کا فیصلہ اور بھارت کا اعتراض دونوں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
66 برس پہلے ایک معاہدے نے ثابت کیا تھا کہ شدید کشیدگی کے درمیان بھی قانون کے لیے جگہ نکالی جا سکتی ہے۔
آج ضرورت اس تاریخی سبق کو فراموش نہ کرنے کی ہے۔
اگر دریا زندگی کی علامت ہیں تو ان سے متعلق معاہدے بھی امن، ذمہ داری اور باہمی احترام کی علامت ہونے چاہئیں۔
پانی کو پل ہی رہنے دیا جائے، دیوار نہ بننے دیا جائے۔