براہ راست نشریات

اسے جینے دو.. تشدد کی شکار بچی کو دوسری سزا کیوں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Sexual Violence Pakistan
Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

جنسی تشدد صرف جسم پر حملہ نہیں بلکہ متاثرہ کے اعتماد، تعلیم، مستقبل اور سماجی زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ محمد محسن اقبال اپنے کالم میں اس رویے پر سوال اٹھاتے ہیں جس میں مجرم کے بجائے متاثرہ لڑکی کے کردار اور رویے کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔
مضمون کا مرکزی پیغام واضح ہے: شرمندگی مظلوم کی نہیں، مجرم کی ہونی چاہئے، جبکہ خاندان، معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ کو تحفظ، انصاف اور نئی زندگی کا حوصلہ دیں۔

میں صرف ایک کم سن لڑکی ہوں۔

ممکن ہے میرا نام کبھی کسی اخبار کی سرخی نہ بنے، میری تصویر کبھی ٹیلی وژن کی اسکرین پر دکھائی نہ دے، اور شاید میرے خاندان کے سوا کسی کو کبھی معلوم ہی نہ ہو کہ میرے ساتھ کیا گزری۔ 

لیکن میرے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے آنے والے ہر کل کا مفہوم بدل دیا ہے۔

جرم میرے جسم کے خلاف ہوا، مگر اب سوال میرے کردار، میرے لباس، میری آمدورفت، میری دوستیوں، میری خاموشی اور میرے مستقبل پر اٹھائے جا رہے ہیں۔ 

اس لیے میرے دل میں ایک سوال ہے—ایسا سوال جو صرف مجھ سے نہیں بلکہ میرے خاندان، میرے معاشرے اور میری ریاست سے بھی ہے:

میں اب اپنی زندگی کیسے گزاروں؟

مزید پڑھیں

کیا میں یوں زندگی بسر کروں جیسے اس جرم کی ذمہ دار میں خود ہوں جو میرے خلاف کیا گیا؟ 

کیا جب لوگ مجھے دیکھیں تو میں نظریں جھکا لیا کروں؟ کیا میں اپنی تعلیم، اپنے خواب اور اپنا اعتماد اس لیے ترک کر دوں کہ ایک مجرم نے میری عزتِ نفس کو پامال کیا؟ 

کیا میرا خاندان مجھے بوجھ، باعثِ شرمندگی یا ایسا زخم سمجھے جسے 

گھر کی چار دیواری کے پیچھے چھپا دینا چاہئے؟

یا پھر مجھے حوصلے اور شفقت کے ساتھ یہ بتایا جائے کہ شرمندگی صرف اور صرف مجرم کے حصے میں ہے، مظلوم کے حصے میں نہیں؟

یہ سوال محض خیالی نہیں۔ 

پاکستان کے ہزاروں گھروں میں ایسے سوال خاموشی سے جنم لیتے ہیں اور کئی معصوم دلوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • جنسی تشدد کا جرم متاثرہ کے کردار پر سوال نہیں، مجرم کے عمل پر احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔
  • متاثرہ بچی کو شرمندگی نہیں بلکہ تحفظ، یقین اور حوصلہ درکار ہوتا ہے۔
  • خاندان کا ردِعمل متاثرہ کی بحالی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔
  • کمزور تفتیش، تاخیر اور سماجی دباؤ مجرموں کو سزا سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔
  • بچوں کو جسمانی تحفظ کے ساتھ ڈیجیٹل تحفظ بھی سکھانا ضروری ہے۔
  • مرکزی پیغام: شرمندگی مظلوم کی نہیں، مجرم کی ہے۔
overseaspost.net

سرکاری اعداد و شمار بھی ایک تشویش ناک تصویر پیش کرتے ہیں، اگرچہ یہ حقیقت کا صرف ایک حصہ ہیں۔ 

پارلیمان کے سامنے پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2024 کے درمیان خواتین کے خلاف تشدد کے ایک لاکھ تہتر ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ ہوئے۔ 

ان میں ہزاروں عصمت دری اور اجتماعی زیادتی کے مقدمات، غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد کے واقعات شامل تھے، جبکہ تقریباً نوے ہزار خواتین کے اغوا اور گمشدگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

صرف 2024 میں آزاد مانیٹرنگ کے مطابق صنفی بنیاد پر تشدد کے 32 ہزار سے زائد واقعات سامنے آئے، جن میں پانچ ہزار سے زیادہ عصمت دری کے واقعات شامل تھے۔ 

بچوں کے جنسی استحصال کی صورتِ حال بھی نہایت خوفناک ہے۔ 

غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی کے مطابق ہزاروں بچے اس نوعیت کے جرائم کا شکار ہوئے، جبکہ 2025 میں روزانہ 9 سے زیادہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

متاثرہ کے کردار،
لباس یا نقل و
حرکت پر سوال
اٹھانا بند کیا جائے

لیکن ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہے۔
ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک چہرہ ہے، ایک خاندان ہے، ایک بکھرا ہوا بچپن ہے، یا ایک ایسی نوجوان عورت ہے جو خود سے پوچھ رہی ہے کہ کیا اب بھی اس دنیا میں اس کا کوئی مقام باقی ہے؟
اور شاید سب سے خوفناک عدد جرائم کی تعداد نہیں، بلکہ ان مجرموں کی تعداد ہے جو سزا سے بچ نکلتے ہیں۔
ریپ اور دیگر سنگین جرائم میں سزا کی شرح بدستور تشویش ناک حد تک کم ہے۔
کوئی معاشرہ محض سخت سزاؤں کے اعلان سے اپنی بیٹیوں کو محفوظ نہیں بنا سکتا۔
اگر مجرم کو یقین ہو کہ تفتیش کمزور ہوگی، گواہ غائب ہو جائیں گے، خاندانوں پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا اور انصاف آنے میں برسوں لگ جائیں گے، تو قانون کاغذ پر لکھی ہوئی دھمکی بن جاتا ہے، وہ ڈھال نہیں رہتا جسے مظلوم اپنے سامنے دیکھ سکے۔
اس لیے ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم سوال ہی بدل دیں۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
موضوع

خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی و صنفی تشدد

مرکزی مسئلہ

متاثرہ کو موردِ الزام ٹھہرانا

اہم رکاوٹ

کمزور تفتیش اور انصاف میں تاخیر

ضروری سہارا

خاندانی تحفظ اور نفسیاتی بحالی

ریاستی ذمہ داری

فرانزک شواہد، گواہوں کا تحفظ، مؤثر عدالتیں اور فوری انصاف

مرکزی پیغام

متاثرہ کی عزت، انسانی وقار اور مستقبل برقرار رہتا ہے۔

overseaspost.net

ہمیں کسی مظلوم لڑکی سے یہ پوچھنا بند کرنا ہوگا:
’تم وہاں کیوں گئی تھیں؟‘ 
اور یہ پوچھنا شروع کرنا ہوگا:
مجرم کو تمہیں نقصان پہنچانے کا موقع کیوں ملا؟‘

ہمیں متاثرہ کے کردار اور عزت کو پرکھنے کے بجائے مجرم کے عمل کا احتساب کرنا ہوگا۔ 

عزت کسی خوف زدہ بچے کی خاموشی میں نہیں ہوتی، عزت انصاف میں ہوتی ہے۔

خاندان کی ذمہ داری شاید سب سے مقدس ہے۔

جنسی تشدد کا شکار ہونے والی بیٹی کو شک نہیں، ایک آغوش درکار ہوتی ہے۔ 

اسے تفتیش نہیں، یقین چاہئے۔ 

اسے چھپانے کی نہیں، تحفظ کی ضرورت ہے۔ 

OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSیہ مسئلہ کیوں اہم ہے؟

جنسی تشدد صرف ایک جسمانی جرم نہیں؛ اس کے اثرات متاثرہ کی تعلیم، خود اعتمادی، تعلقات اور مستقبل تک پھیل سکتے ہیں۔

نفسیاتی اثرخوف، خاموشی اور خود کو قصوروار سمجھنے کا دباؤ۔
سماجی اثربدنامی، تنہائی اور خاندان پر دباؤ۔
قانونی اثرتاخیر، کمزور تفتیش اور انصاف سے محرومی۔
overseaspost.net

اگر والدین معاشرے کی سرگوشیوں سے خوف زدہ ہو کر اپنی بیٹی سے منہ موڑ لیں تو ایک جرم کے بعد اس پر ایک اور ظلم ڈھایا جاتا ہے—سماجی تنہائی کا ظلم۔

ریاست کو بھی جواب دینا ہوگا۔

آخر ایک متاثرہ کو پولیس اسٹیشن سے اسپتال، اسپتال سے عدالت اور عدالت سے ایک اور دفتر تک کیوں بھٹکنا پڑے؟ 

اسے اپنی زندگی کا سب سے دردناک باب بار بار اجنبی لوگوں کے سامنے کیوں دہرانا پڑے؟ فرانزک شواہد کیوں ضائع ہوں؟ 

تحقیقات میں تاخیر کیوں ہو؟ 

مقدمات پیچیدہ قانونی کارروائیوں کے نیچے کیوں دب جائیں؟

انسدادِ ریپ کے قوانین، خصوصی عدالتیں، کرائسس سیلز، فرانزک لیبارٹریاں اور زینب الرٹ جیسے نظام اسی وقت بامعنی ہوسکتے ہیں جب وہ فوری، مؤثر اور دیانت دارانہ انداز میں کام کریں۔

رپورٹ ہونے والے واقعات میں اضافہ لازماً اس بات کی علامت نہیں کہ معاشرے میں اچانک برائی بڑھ گئی ہے۔ 

زیادہ آگاہی، ذرائع ابلاغ کی توجہ اور بہتر رپورٹنگ کے نظام نے بعض متاثرین کو اپنی آواز بلند کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔

? OVERSEAS POST | SOCIAL CHANGEسوال بدلنا ہوگا

“تم وہاں کیوں گئی تھیں؟”

“مجرم کو تمہیں نقصان پہنچانے کا موقع کیوں ملا؟”

متاثرہ کے لباس، کردار یا خاموشی پر سوال اٹھانے کے بجائے مجرم کے عمل کا احتساب بنیادی اصول ہونا چاہئے۔

overseaspost.net

لیکن ان اعداد کے نیچے ایک اور تاریک حقیقت بھی چھپی ہے—جرائم کی عدم رپورٹنگ۔

انتقام کا خوف، خاندان کا دباؤ، معاشی محتاجی، سماجی بدنامی اور اداروں پر عدم اعتماد بہت سے متاثرین کو خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ 

اس لیے کم سرکاری اعداد و شمار کو جنسی تشدد کی کم شرح سمجھ لینا ایک خطرناک خوش فہمی ہوگی۔

کچھ اور عوامل بھی ہماری فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔

غربت اور معاشرتی ناہمواری کمزور طبقات کے لیے خطرات بڑھاتی ہیں۔ 

وہ بچے جو محفوظ خاندانی ماحول سے باہر کام کرنے پر مجبور ہیں، آسانی سے درندہ صفت لوگوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ 

طاقت کا ناجائز استعمال اکثر جان پہچان رکھنے والوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور بااثر افراد کی جانب سے بھی ہوتا ہے۔

OVERSEAS POST | FAMILY SUPPORTخاندان کی پہلی ذمہ داری
  • 1
    متاثرہ کی بات پر یقین کیا جائے۔
  • 2
    اسے مجرم یا بدنامی کا سبب نہ سمجھا جائے۔
  • 3
    اس کی رازداری اور جسمانی تحفظ یقینی بنایا جائے۔
  • 4
    ضرورت ہو تو نفسیاتی اور قانونی مدد فراہم کی جائے۔
  • 5
    تعلیم اور معمول کی زندگی سے اسے محروم نہ کیا جائے۔
overseaspost.net

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے غلط استعمال نے خطرے کا ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، جہاں آن لائن گرومنگ، سائبر ہراسانی اور پرتشدد و استحصالی مواد کی آسان ترسیل بچوں کے لیے ایک نئی آزمائش بن چکی ہے۔ 

اب بچوں کو جسمانی تحفظ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل تحفظ بھی درکار ہے۔

لیکن ہمیں یہ تصور بھی نہیں کرنا چاہئے کہ صرف سخت سزائیں اس بیماری کا علاج کر دیں گی۔

ایسی سخت سزا جو شاذونادر ہی نافذ ہو، اس کے مقابلے میں وہ منصفانہ سزا زیادہ مؤثر عبرت بن سکتی ہے جو یقینی اور بروقت ہو۔ 

پاکستان کو صرف سزاؤں میں اضافے کی نہیں بلکہ احتساب کی یقینی کیفیت کی ضرورت ہے: قابل اور غیر جانب دار تفتیش، قابلِ اعتماد فرانزک شواہد، گواہوں کا تحفظ، فوری انصاف اور ایسے سمجھوتوں کا خاتمہ جو خاندانی عزت کے نام پر انصاف کو قربان کر دیتے ہیں۔

تعلیم کا آغاز سانحہ پیش آنے سے پہلے ہونا چاہئے۔

OVERSEAS POST | STATE DUTYریاست کو کیا کرنا چاہئے؟
پولیس

فوری اور غیر جانب دار تفتیش

اسپتال

محفوظ اور بروقت میڈیکل معائنہ

فرانزک

شواہد کا درست تحفظ

عدالت

بلا تاخیر سماعت

گواہ

تحفظ اور دباؤ سے آزادی

متاثرہ

ایک ہی نظام میں مدد اور رہنمائی

overseaspost.net

بچوں کو ان کی عمر اور فہم کے مطابق ذاتی حدود، جسمانی تحفظ، رضامندی اور کسی قابلِ اعتماد بڑے سے بات کرنے کی اہمیت سکھائی جانی چاہئے۔ والدین کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے بچے کن لوگوں سے ملتے ہیں، کہاں جاتے ہیں اور انٹرنیٹ کی دنیا میں کن تجربات سے گزرتے ہیں۔

مذہبی علما، اساتذہ اور معاشرتی رہنماؤں کو بھی واضح اور دوٹوک انداز میں مظلوم کو موردِ الزام ٹھہرانے اور کمزوروں کے خلاف غیرت کے نام کے غلط استعمال کی مذمت کرنی ہوگی۔

اور اب میں پھر اسی کم سن لڑکی کی طرف لوٹتا ہوں۔

وہ پوچھتی ہے:

’میں کیسے جیوں؟‘

ہم سب کی طرف سے اس کا جواب ایک ہی ہونا چاہئے:

جیو۔
تعلیم حاصل کرو۔
خواب دیکھو۔
سر اٹھا کر چلو۔
پھر سے ہنسو۔
اپنا مستقبل تعمیر کرو۔

تم وہ جرم نہیں ہو جو تمہارے خلاف کیا گیا۔

تم اس مجرم کی شرمندگی نہیں ہو۔

تم کسی بکھری ہوئی شہرت کا نام نہیں۔

تم ایک انسان ہو، اور تمہاری عزت اور انسانی وقار آج بھی سلامت ہیں۔

! OVERSEAS POST | JUSTICEسزا کیوں یقینی ہونی چاہئے؟

صرف سخت سزا کافی نہیں؛ سزا کا یقینی اور بروقت ہونا زیادہ مؤثر روک تھام پیدا کرتا ہے۔

  • قابل اور غیر جانب دار تفتیش
  • قابلِ اعتماد فرانزک شواہد
  • گواہوں کا تحفظ
  • صلح یا دباؤ کے ذریعے مقدمہ ختم کرنے کی حوصلہ شکنی
  • مقدمات کے فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ
overseaspost.net

اور اس کے خاندان، معاشرے اور ریاست سے اس کا سوال ایک اور تقاضا کرتا ہے:

’کیا آپ میرے ساتھ کھڑے ہوں گے، یا مجھے دوسری بار بھی اذیت میں مبتلا کریں گے؟‘

کسی قوم کی اصل عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ جرم ہو جانے کے بعد وہ کتنی بلند آواز سے مذمت کرتی ہے، بلکہ اس سے ناپی جاتی ہے کہ جرم سے پہلے وہ معصوموں کی کتنی وفاداری سے حفاظت کرتی ہے، جرم کے بعد مجرم کو کتنی مضبوطی سے قانون کے کٹہرے میں لاتی ہے، اور پھر متاثرہ انسان کی زندگی کو کتنی محبت، عزت اور شفقت کے ساتھ دوبارہ سنوارتی ہے۔

اگر پاکستان اس سوال کا جواب خاموشی کے بجائے انصاف سے، شک کے بجائے ہمدردی سے، اور سمجھوتے کے بجائے احتساب سے دے سکے، تو شاید ایک خوف زدہ کم سن لڑکی کو ایک دن یہ احساس ہونے لگے کہ اس کا مستقبل اس سے چھینا نہیں گیا تھا۔

وہ مستقبل صرف کچھ دیر کے لیے اس سے دور ہوا تھا—اور اس کی قوم نے اسے واپس دلانے میں اس کا ساتھ دیا۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️