براہ راست نشریات

114 ملین ٹن کا خزانہ.. سعودی عرب میں معدنیات اور یورینیم کی دریافت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
rare earth elements

سعودی عرب کے مدینہ منورہ ریجن میں واقع جبل صاید میں تقریباً 114 ملین ٹن معدنی خام کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں نایاب زمینی عناصر، خصوصاً بھاری Rare Earth Elements، کے ساتھ یورینیم کی امید افزا مقدار موجود ہے۔
تاہم 114 ملین ٹن سے مراد خالص یورینیم یا نایاب معدنیات نہیں بلکہ ان عناصر پر مشتمل خام ہے۔
اب مزید مطالعات اس ذخیرے کی تجارتی قدر کا تعین کریں گے۔

سعودی عرب میں تیل کے بعد ایک اور قدرتی دولت عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ 

مدینہ منورہ کے علاقے میں واقع جبل صاید میں ہونے والی نئی ارضیاتی تحقیق نے تقریباً 114 ملین ٹن خام کے وسائل کی نشاندہی کی ہے، جس میں نایاب زمینی معدنیات، خصوصاً بھاری Rare Earth Elements، کے بلند ارتکاز کے ساتھ یورینیم کی امید افزا مقدار بھی موجود ہے۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے یہ اعلان ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے 70ویں جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

ان کے مطابق جبل صاید میں جاری تلاش اور ارضیاتی مطالعات کے نتائج اس منصوبے کو دنیا میں زیرِ ترقی اہم نایاب معدنی وسائل کے مقامات میں شامل کرسکتے ہیں۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • جبل صاید، مدینہ منورہ میں تقریباً 114 ملین ٹن معدنی خام کی نشاندہی کی گئی ہے۔
  • خام میں نایاب زمینی عناصر خصوصاً بھاری Rare Earth Elements کے بلند ارتکاز کی اطلاع دی گئی ہے۔
  • مطالعات میں یورینیم کی امید افزا موجودگی کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔
  • 114 ملین ٹن سے مراد خالص یورینیم یا Rare Earths نہیں بلکہ ان عناصر پر مشتمل خام (ore) ہے۔
  • مزید ڈرلنگ، گریڈ اور پیداواری لاگت اس دریافت کی حقیقی تجارتی قدر واضح کریں گے۔
overseaspost.net

تاہم اس خبر کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ 114 ملین ٹن سے مراد یورینیم یا خالص نایاب معدنیات کی مقدار نہیں ہے۔ 

یہ اس خام چٹانی مواد کی تخمینی مقدار ہے جس میں یہ معدنی عناصر پائے گئے ہیں۔ 

ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس خام سے تجارتی بنیادوں پر کتنی مقدار میں مختلف نایاب معدنیات اور یورینیم نکالا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

جبل صاید پہلے ہی اہم کیوں تھا؟

جبل صاید سعودی عرب کے معدنی نقشے پر کوئی نیا نام نہیں۔ 

یہ علاقہ پہلے ہی ملک کے اہم تانبے کے ذخائر کی وجہ سے معروف ہے اور یہاں تجارتی پیمانے پر تانبے کی پیداوار جاری ہے۔

نئی دریافت نے اس علاقے کی اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے کیونکہ اب معاملہ صرف تانبے تک محدود نہیں رہا۔ 

تازہ مطالعات نایاب زمینی عناصر اور یورینیم کی طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں۔

یہی وہ معدنیات ہیں جن کی عالمی معیشت میں اہمیت گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
  • مقام: جبل صاید، مدینہ منورہ ریجن
  • تخمینی خام: تقریباً 114 ملین ٹن
  • اہم عناصر: Rare Earth Elements اور یورینیم
  • پہلے سے معروف معدنیات: تانبا
  • مرحلہ: ارضیاتی تحقیق اور وسائل کا تخمینہ
overseaspost.net

نایاب زمینی معدنیات آخر ہیں کیا؟

نام سے ایسا محسوس ہوسکتا ہے کہ Rare Earth Elements انتہائی نایاب مادے ہیں، لیکن اصل اہمیت ان کے صنعتی استعمال اور انہیں معاشی طور پر قابلِ عمل انداز میں الگ کرنے کی پیچیدگی میں ہے۔

ان عناصر میں نیوڈیمیم، پراسیوڈیمیم، ڈیسپروسیم اور ٹربیئم جیسے نام شامل ہیں۔ 

یہ جدید صنعتی دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

الیکٹرک گاڑیوں کی موٹریں، ونڈ ٹربائن، جدید الیکٹرانکس، طاقتور مستقل مقناطیس، روبوٹکس، دفاعی ٹیکنالوجی اور متعدد ہائی ٹیک مصنوعات ان عناصر پر انحصار کرتی ہیں۔

اسی لیے Rare Earths اب صرف کان کنی کا معاملہ نہیں رہے بلکہ عالمی طاقتوں کی اقتصادی اور اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں۔

سعودی عرب کے لیے موقع کہاں ہے؟

سعودی عرب کی اصل حکمت عملی صرف زمین سے معدنیات نکال کر خام شکل میں فروخت کرنے تک محدود نہیں۔

مملکت ایک ایسی مکمل صنعتی زنجیر بنانا چاہتی ہے جس میں تلاش، کان کنی، پروسیسنگ، معدنی عناصر کو الگ کرنا، ریفائننگ اور بالآخر زیادہ قدر والی تیار مصنوعات شامل ہوں۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ دریافت کیوں اہم ہے؟
  • Rare Earth Elements الیکٹرک گاڑیوں، ونڈ ٹربائن، روبوٹکس، جدید الیکٹرانکس اور دفاعی ٹیکنالوجی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
  • اگر ذخائر تجارتی طور پر قابلِ عمل ثابت ہوئے تو سعودی عرب عالمی Critical Minerals سپلائی چین میں زیادہ اہم مقام حاصل کرسکتا ہے۔
  • یہ پیش رفت وژن 2030 کے تحت تیل سے ہٹ کر معیشت کو متنوع بنانے کی حکمتِ عملی سے جڑی ہے۔
overseaspost.net

کسی معدنی خام کو زمین سے نکالنا ایک کاروبار ہے، لیکن اسی خام سے اعلیٰ خالص معدنی مواد تیار کرکے اسے جدید صنعتوں کے لیے استعمال کے قابل بنانا کہیں زیادہ بڑی اقتصادی قدر پیدا کرسکتا ہے۔

اسی سمت میں سعودی عرب نے امریکی کمپنی MP Materials کے ساتھ تعاون کو بھی آگے بڑھایا ہے، جس کا مقصد نایاب زمینی عناصر کی پروسیسنگ اور علیحدگی کی مقامی صلاحیتوں کو ترقی دینا ہے۔

یورینیم نے دریافت کو مزید اہم کیوں بنادیا؟

جبل صاید کی کہانی کا دوسرا بڑا پہلو یورینیم ہے۔

سعودی عرب طویل مدت سے اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور جوہری توانائی کو مستقبل کے قومی انرجی مکس کا حصہ سمجھتا ہے۔

اگر مقامی سطح پر یورینیم کے قابلِ استعمال اور اقتصادی ذخائر ثابت ہوتے ہیں تو اس سے سعودی عرب کو مستقبل میں اپنے پرامن جوہری پروگرام کے لیے مقامی وسائل کی بنیاد تیار کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

114OVERSEAS POST | EXPLAINER114 ملین ٹن کا اصل مطلب
  • اہم وضاحت: 114 ملین ٹن خالص یورینیم نہیں ہے۔
  • یہ مقدار اس معدنی خام کی ہے جس میں مختلف نایاب زمینی عناصر اور یورینیم کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔
  • اصل قابلِ استخراج مقدار جاننے کے لیے معدنی گریڈ، ریکوری ریٹ، پروسیسنگ اور لاگت کے مزید اعداد درکار ہوں گے۔
overseaspost.net

سعودی وزیر توانائی نے واضح کیا ہے کہ مملکت کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سمیت عالمی اداروں کے ساتھ تعاون اور شفافیت کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔

سعودی عرب روایتی معدنی ذخائر کے علاوہ فاسفیٹ انڈسٹری سے پیدا ہونے والے فاسفورک ایسڈ سے بھی یورینیم حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ 

اس سلسلے میں فرانسیسی کمپنی اورانو کے ساتھ تجرباتی کام بھی کیا گیا ہے۔

114 ملین ٹن کا مطلب اربوں ڈالر ہے؟

یہاں احتیاط ضروری ہے۔

صرف 114 ملین ٹن خام کی موجودگی کی بنیاد پر اس دریافت کی حتمی مالی قیمت طے نہیں کی جاسکتی۔

کسی معدنی ذخیرے کی حقیقی اقتصادی قدر جاننے کے لیے کئی سوالوں کے جواب درکار ہوتے ہیں: 

خام میں مطلوبہ عنصر کا تناسب کتنا ہے؟ 

اسے نکالنے کی لاگت کیا ہوگی؟ 

پروسیسنگ کتنی پیچیدہ ہے؟ 

عالمی منڈی میں متعلقہ معدنیات کی قیمت کیا ہے؟ 

اور ذخیرے کا کتنا حصہ حقیقتاً تجارتی پیمانے پر نکالا جاسکتا ہے؟

REOVERSEAS POST | RARE EARTHSنایاب زمینی عناصر کیا ہیں؟
  • Rare Earth Elements جدید صنعت کے لیے اہم دھاتی عناصر کا ایک گروپ ہیں۔
  • نیوڈیمیم، پراسیوڈیمیم، ڈیسپروسیم اور ٹربیئم جیسے عناصر طاقتور مقناطیس اور ہائی ٹیک مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں۔
  • ان کی اہمیت صرف کان کنی میں نہیں بلکہ پروسیسنگ، علیحدگی اور ریفائننگ کی صلاحیت میں بھی ہے۔
overseaspost.net

اس لیے اس مرحلے پر اسے ’114 ملین ٹن یورینیم‘ یا ’114 ملین ٹن نایاب معدنیات‘ کہنا غلط ہوگا۔

زیادہ درست بات یہ ہے کہ جبل صاید میں تقریباً 114 ملین ٹن ایسے خام وسائل کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں نایاب زمینی عناصر کی بلند اور یورینیم کی امید افزا مقدار موجود ہے۔

تیل کے بعد معدنیات؟

سعودی وژن 2030 میں کان کنی کو معیشت کے اہم ستونوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

مملکت کے پاس پہلے ہی سونا، فاسفیٹ، تانبا، زنک، چاندی، باکسائٹ، میگنیشیم، لوہا، سیسہ اور نکل سمیت متعدد معدنی وسائل موجود ہیں۔

اب Rare Earth Elements اور یورینیم جیسے اسٹریٹجک وسائل اس تصویر کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔

UOVERSEAS POST | ENERGYیورینیم کا سعودی منصوبے سے تعلق
  • یورینیم کی مقامی موجودگی سعودی عرب کے مستقبل کے پرامن جوہری توانائی پروگرام کے تناظر میں اہم ہوسکتی ہے۔
  • مملکت مقامی معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے اور توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی حکمتِ عملی پر کام کررہی ہے۔
  • تجارتی استعمال کا فیصلہ ذخیرے کے معیار، مقدار، لاگت اور ریگولیٹری تقاضوں کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
overseaspost.net

تیل نے گزشتہ کئی دہائیوں میں سعودی عرب کو عالمی توانائی کی سیاست کا مرکزی کردار بنایا۔ اگر مملکت نایاب معدنیات کی تلاش سے آگے بڑھ کر ان کی پروسیسنگ اور عالمی سپلائی چین میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو آنے والی دہائیوں میں اس کی اقتصادی اہمیت صرف تیل پیدا کرنے والے ملک تک محدود نہیں رہے گی۔

خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا، چین اور دوسری بڑی معیشتیں Critical Minerals کی محفوظ سپلائی چین بنانے کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں، سعودی عرب اپنے معدنی ذخائر، سستی توانائی، سرمایہ کاری کی صلاحیت، صنعتی انفراسٹرکچر اور جغرافیائی محل وقوع کو ایک ساتھ استعمال کرسکتا ہے۔

اصل کہانی ابھی شروع ہوئی ہے

جبل صاید کی نئی دریافت بلاشبہ بڑی خبر ہے، لیکن اسے فوری طور پر ایک مکمل معاشی انقلاب قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

اگلا مرحلہ زیادہ اہم ہے۔

مزید ڈرلنگ اور ارضیاتی مطالعات یہ واضح کریں گے کہ مختلف نایاب عناصر اور یورینیم کی اصل مقدار کتنی ہے، ان کا معیار کیا ہے اور انہیں نکالنا تجارتی طور پر کس حد تک فائدہ مند ہوگا۔

OVERSEAS POST | LOCATIONجبل صاید پہلے ہی کیوں اہم ہے؟
  • جبل صاید سعودی عرب کے معدنی نقشے پر پہلے ہی ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
  • یہ علاقہ تانبے کی کان کنی کے لیے معروف ہے۔
  • Rare Earths اور یورینیم کے نئے اشارے اس علاقے کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
overseaspost.net

اگر یہ نتائج مثبت رہے اور سعودی عرب معدنیات کو صرف خام شکل میں برآمد کرنے کے بجائے ملک کے اندر ان کی پروسیسنگ اور اعلیٰ قدر کی مصنوعات بنانے میں کامیاب ہوگیا تو جبل صاید محض ایک کان نہیں رہے گا۔

یہ سعودی عرب کی اس بڑی حکمت عملی کا حصہ بن سکتا ہے جس میں مملکت تیل کی عالمی طاقت سے آگے بڑھ کر توانائی، معدنیات اور جدید صنعتوں کی عالمی طاقت بننے کی کوشش کررہی ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع

اہم وضاحت: 114 ملین ٹن سے مراد معدنی خام ہے، خالص یورینیم یا خالص Rare Earths نہیں۔

overseaspost.net