محمد محسن اقبال کی یہ علامتی تحریر پاکستان کو ایک 79 سالہ بوڑھے کے روپ میں پیش کرتی ہے جو اپنی پیدائش، ہجرت کے المیے، 1971ء کی جدائی، جنگوں، دہشت گردی، سیاسی بے چینی اور معاشی بحرانوں کی داستان خود سناتا ہے۔
تمام زخموں کے باوجود وہ مایوس نہیں، مگر اپنے بچوں کو متنبہ کرتا ہے کہ قومی مفاد، انصاف اور اتحاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیئے بغیر مستقبل محفوظ نہیں ہوسکتا۔
اکثر ذاتی مفادات قومی مفاد پر غالب آگئے۔ اصول سے زیادہ اقتدار اہم ہوگیا، خدمت سے زیادہ عہدہ قیمتی ٹھہرا اور ملک کے طویل المدتی مفاد کے مقابلے میں وقتی فائدے کو ترجیح دی گئی۔
جب کچھ لوگ مجھے مضبوط بنانے کے لیے دن رات محنت کر رہے تھے، تو کچھ دوسرے ذاتی مفاد کی خاطر میری بنیادوں کو کمزور کرتے رہے۔
میرے وسائل استعمال ہوتے رہے، میرے ادارے آزمائشوں سے گزرتے رہے اور میرے قرضوں کا بوجھ بڑھتا گیا۔
میں نے اپنی سرحدوں کے باہر سے آنے والے سائے بھی دیکھے ہیں۔
ایسے مواقع آئے جب بیرونی طاقتوں نے میری اندرونی کمزوریوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا اور غیر ملکی مفادات ہماری داخلی تقسیموں سے جا ملے۔
لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ باہر کے لوگ میری کمزوریوں سے اسی وقت فائدہ اٹھا سکتے تھے جب میرے اپنے لوگوں نے ان کمزوریوں کو باقی رہنے دیا۔
میرے سب سے گہرے زخم اکثر میرے اپنے بچوں کے ہاتھوں لگے—کبھی تقسیم کے ذریعے، کبھی عدم برداشت سے، کبھی بدعنوانی سے، کبھی تشدد کے ذریعے اور کبھی محدود ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفاد کو پس پشت ڈالنے سے۔
اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔