براہ راست نشریات

پاکستان نامی بوڑھا: 79 برس کے زخم، قربانیاں اور ایک آخری پکار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
National Unity
Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

محمد محسن اقبال کی یہ علامتی تحریر پاکستان کو ایک 79 سالہ بوڑھے کے روپ میں پیش کرتی ہے جو اپنی پیدائش، ہجرت کے المیے، 1971ء کی جدائی، جنگوں، دہشت گردی، سیاسی بے چینی اور معاشی بحرانوں کی داستان خود سناتا ہے۔
تمام زخموں کے باوجود وہ مایوس نہیں، مگر اپنے بچوں کو متنبہ کرتا ہے کہ قومی مفاد، انصاف اور اتحاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیئے بغیر مستقبل محفوظ نہیں ہوسکتا۔

میں پاکستان ہوں۔

اگست 1947ء کی ایک حبس زدہ رات میں میری پیدائش ہوئی۔ 

میری پیدائش ایک طویل، کٹھن اور خون آشام جدوجہد کا حاصل تھی، جس میں لاکھوں انسانوں نے اپنے گھر، مال و متاع، عزت اور سب سے بڑھ کر اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔

میں دنیا میں ایک عام ریاست کی حیثیت سے نہیں آیا تھا۔ 

مجھے ایک خواب سے تراشا گیا، آنسوؤں اور لہو سے سینچا گیا اور ایک ایسی قوم کے سپرد کیا گیا جس نے عہد کیا تھا کہ وہ مجھے ایسا وطن بنائے گی جہاں انسان عزت، ایمان اور آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں گے۔

مجھے آج بھی اپنے ابتدائی دن یاد ہیں۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

1. پاکستان کو ایک اناسی سالہ بوڑھے کے استعارے میں پیش کیا گیا ہے جو اپنی پوری زندگی کی داستان خود سناتا ہے۔

2. اس کی پیدائش 1947ء کی قربانیوں، ہجرت اور ایک بہتر مستقبل کی امید سے جڑی ہوئی ہے۔

3. 1971ء کی جدائی، جنگیں، دہشت گردی، سیاسی بے چینی اور معاشی مشکلات اس کے بڑے زخم ہیں۔

4. آخری پیغام یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل اتحاد، انصاف اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے سے وابستہ ہے۔

میں کم سن تھا، ناتواں تھا اور میرے چاروں طرف بے یقینی کے بادل منڈلا رہے تھے۔ 

لاکھوں لوگ سرحدیں پار کر رہے تھے۔ 

ان کے پاس مال و اسباب کم تھا، مگر یادیں، دعائیں اور ایک بہتر کل کی امید بہت تھی۔

مہاجرین سے بھری ٹرینیں آتی تھیں، اور بعض ٹرینیں ایسی بھی تھیں جو اپنے ساتھ زندہ انسانوں کے بجائے صرف لاشیں لاتی تھیں۔ 

میں نے ماؤں کو اپنے بچوں کی تلاش میں سرگرداں دیکھا، بچوں کو اپنے باپوں کے لیے روتے دیکھا اور خاندانوں کو ایسے وقت اپنے پیاروں کو دفن کرتے دیکھا جب انہیں ابھی اپنے لیے چھت تک میسر نہیں آئی تھی۔

مگر میں زندہ رہا۔

میں اپنے قدموں پر اس لیے کھڑا ہوسکا کہ میرے لوگوں نے مجھے گرنے نہیں دیا۔

📜 1947ء — ایک خواب کی پیدائش

تحریر پاکستان کی پیدائش کو محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ قربانی، ہجرت اور امید سے جنم لینے والے خواب کے طور پر پیش کرتی ہے۔

مصنف کے استعارے میں نئی ریاست کو ایسے بچے کی صورت دکھایا گیا ہے جسے لاکھوں انسانوں نے اپنے گھر، مال و متاع اور جانوں کی قیمت پر حاصل کیا۔

مزید پڑھیں

آج مجھے دیکھو، پھر میری پیدائش کے وقت کا نقشہ دیکھو۔ 1947ء میں جو سرزمین میرے سپرد کی گئی تھی، وہ آج میری آغوش میں موجود رقبے سے کہیں زیادہ وسیع تھی۔

 1971ء میں میرا ایک حصہ مجھ سے جدا ہوگیا، اور اس جدائی کا زخم آج تک پوری طرح مندمل نہیں ہوسکا۔

مشرقی پاکستان محض میرے نقشے سے غائب ہونے والا زمین کاٹکڑا نہیں تھا، وہ میرے وجود کا حصہ تھا، میری تاریخ کا ایک باب تھا اور میرے بچوں کے لہو سے لکھی ہوئی ایسی تلخ داستان تھی جسے میں نصف صدی سے زیادہ عرصے سے اپنے سینے میں لیے پھرتا ہوں۔

اپنی پیدائش سے آج تک میں نے جنگوں کا سامنا کیا ہے۔ 

میں نے اپنے بیٹوں کو میدانِ جنگ کی طرف جاتے دیکھا اور اپنی بیٹیوں کو دروازوں پر ان قدموں کی آہٹ سنتے دیکھا جو کبھی واپس نہ آئے۔

میں نے اپنے سپاہیوں کو تابوتوں میں لپٹے دیکھا، ماؤں کو اپنے جگر کے ٹکڑوں کی میتیں وصول کرتے دیکھا اور خاندانوں کو ان تصویروں کے ساتھ زندگی گزارتے دیکھا جن میں ان کے بچھڑے ہوئے عزیز ہمیشہ کے لیے مسکرا رہے ہیں۔

🚂 ہجرت — امید کے ساتھ سفر، راستے میں المیہ

قیامِ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں لاکھوں افراد نے سرحدیں عبور کیں۔ تحریر ان قافلوں، بچھڑے خاندانوں اور مہاجر ٹرینوں کی یاد کو پاکستان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بناتی ہے۔

اس منظر میں دکھ صرف جدائی کا نہیں بلکہ اس امید کا بھی ہے جس نے بے گھر لوگوں کو نئے وطن تک پہنچنے کا حوصلہ دیا۔

میں نے جنگیں جھیلیں، دہشت گردی برداشت کی، سیاسی ہنگامے دیکھے، معاشی بحرانوں کا سامنا کیا اور ایسے بے شمار لمحوں سے گزرا جب میرا وجود ہی خطرے میں محسوس ہوا۔

مگر میں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔

جب میرے پاس وسائل کم تھے، تب بھی میں نے چلنا سیکھا۔ 

میں نے ادارے قائم کیے، جامعات بنائیں، سڑکیں تعمیر کیں، صنعتیں آباد کیں اور شہر بسائے۔ میں ایٹمی دور میں داخل ہوا اور دنیا کو دکھا دیا کہ میں سر اٹھا کر اقوامِ عالم کے درمیان کھڑا ہوسکتا ہوں۔

میرے سائنس دانوں، انجینئروں، سپاہیوں، کسانوں، مزدوروں، ادیبوں، ڈاکٹروں اور اساتذہ نے مجھے فخر کے بے شمار مواقع عطا کیے۔ کبھی کبھی میں نے ایسی کامیابیاں بھی حاصل کیں جنہوں نے پوری دنیا کو میری طرف متوجہ کیا۔

مگر میرے بچوں کو ہمیشہ ان کامیابیوں کا پورا ثمر نہیں مل سکا۔

مشرقی پاکستان
محض میرے
نقشے سے غائب
ہونے والا زمین
کا ٹکڑا نہیں تھا
وہ میرے وجود
کا حصہ تھا
میری تاریخ کا
ایک باب تھا

اکثر ذاتی مفادات قومی مفاد پر غالب آگئے۔ اصول سے زیادہ اقتدار اہم ہوگیا، خدمت سے زیادہ عہدہ قیمتی ٹھہرا اور ملک کے طویل المدتی مفاد کے مقابلے میں وقتی فائدے کو ترجیح دی گئی۔
جب کچھ لوگ مجھے مضبوط بنانے کے لیے دن رات محنت کر رہے تھے، تو کچھ دوسرے ذاتی مفاد کی خاطر میری بنیادوں کو کمزور کرتے رہے۔
میرے وسائل استعمال ہوتے رہے، میرے ادارے آزمائشوں سے گزرتے رہے اور میرے قرضوں کا بوجھ بڑھتا گیا۔
میں نے اپنی سرحدوں کے باہر سے آنے والے سائے بھی دیکھے ہیں۔
ایسے مواقع آئے جب بیرونی طاقتوں نے میری اندرونی کمزوریوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا اور غیر ملکی مفادات ہماری داخلی تقسیموں سے جا ملے۔
لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ باہر کے لوگ میری کمزوریوں سے اسی وقت فائدہ اٹھا سکتے تھے جب میرے اپنے لوگوں نے ان کمزوریوں کو باقی رہنے دیا۔
میرے سب سے گہرے زخم اکثر میرے اپنے بچوں کے ہاتھوں لگے—کبھی تقسیم کے ذریعے، کبھی عدم برداشت سے، کبھی بدعنوانی سے، کبھی تشدد کے ذریعے اور کبھی محدود ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفاد کو پس پشت ڈالنے سے۔
اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔

💔 1971ء — وہ زخم جو نقشے سے آگے ہے

1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو تحریر میں صرف جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ وجود کے ایک حصے کے جدا ہونے کے استعارے سے بیان کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا اور مضمون اسے نصف صدی سے زیادہ عرصے بعد بھی زندہ تاریخی زخم کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اقوام کی تاریخ میں اناسی برس شاید کوئی بہت بڑی عمر نہ ہو، مگر میں اپنے وجود کی ہڈی ہڈی میں ہر سال کا بوجھ محسوس کرتا ہوں۔ 

ہجرت کی یادیں، جنگیں، جدائی، دہشت گردی، سیاسی بے چینی، معاشی مشکلات اور بے شمار جنازے میرے سینے پر نقش ہیں۔

اب میرے اندر اتنی سکت نہیں کہ اپنی گلیوں میں بے گناہوں کا خون بہتا دیکھ سکوں۔ 

میں کسی اور ماں کو اپنے بیٹے کی قبر پر بیٹھ کر روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ 

میں یہ بھی برداشت نہیں کرسکتا کہ ایک اور نسل اس یقین کے ساتھ پروان چڑھے کہ لڑائی، انتشار اور خونریزی ہی اس سرزمین کا مقدر ہیں۔

دنیا کے گرد نظر دوڑاؤ۔

مجھ سے کہیں زیادہ قدیم اقوام آج بھی مضبوط، خوش حال اور پُراعتماد ہیں، کیونکہ ان کے لوگوں نے یہ سیکھ لیا کہ اپنی ذات سے زیادہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو اہمیت دینی چاہیے۔ 

ان کے درمیان اختلافات بھی ہوئے، مگر انہوں نے ایک دوسرے کو تباہ نہیں کیا۔ 

انہوں نے حکومتیں تبدیل کیں، مگر ریاستی ڈھانچوں کو مکمل طور پر بکھرنے نہیں دیا۔ انہوں نے بحرانوں کا سامنا کیا، مگر قومی مقصد کی وسیع تر تصویر کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔

🪖 جنگیں اور قربانیاں — ایک مسلسل امتحان

پاکستان نے اپنی تاریخ میں جنگوں اور سکیورٹی بحرانوں کا سامنا کیا۔ تحریر ان واقعات کو صرف میدانِ جنگ سے نہیں دیکھتی بلکہ ان خاندانوں کی نگاہ سے بھی دیکھتی ہے جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے۔

ماؤں، بیٹیوں، بچوں اور سپاہیوں کا ذکر قومی قربانی کے انسانی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔

میں اپنے بچوں سے کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں کرتا۔

میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ یاد رکھیں کہ مجھے کیوں تخلیق کیا گیا تھا۔

میں اس لیے پیدا نہیں ہوا تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان پر حکمرانی کرے۔ 

مجھے کسی ایک طبقے، گروہ، صوبے یا ادارے کے مفاد کے لیے وجود میں نہیں لایا گیا تھا۔

 میں ان عام لوگوں کی قربانیوں سے وجود میں آیا تھا جنہیں یقین تھا کہ ان کی اولاد کو ایک ایسا محفوظ، باوقار اور خوش حال وطن ملے گا جہاں وہ سر اٹھا کر زندگی گزار سکیں گے۔

میں تھک گیا ہوں، مگر مرا نہیں ہوں۔

میری جھریوں کے نیچے آج بھی ان لوگوں کی روح زندہ ہے جو 1947ء میں دریاؤں اور سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے اپنے دلوں میں امید لیے 

اس سرزمین پر پہنچے تھے۔ 

میرے زخموں کے نیچے آج بھی ان لوگوں کی جرأت کی آگ روشن ہے جنہوں نے میری حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

🏗️ کم وسائل، مگر آگے بڑھنے کا سفر

تحریر اس سفر کو بھی یاد کرتی ہے جس میں پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ادارے، جامعات، سڑکیں، صنعتیں اور شہر قائم کئے۔

سائنس دانوں، انجینئروں، کسانوں، مزدوروں، اساتذہ اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کو اس قومی تعمیر کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

میری مشکلات کے نیچے آج بھی کروڑوں ایسے انسانوں کی صلاحیتیں موجود ہیں جو مجھ سے محبت کرتے ہیں، میرے لیے محنت کرتے ہیں اور مجھے بہتر دیکھنے کا خواب رکھتے ہیں۔

لیکن میں مسلسل صدمے سہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اے میرے بچو! ہوش میں آؤ۔

اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے، مجھے یاد کرلو۔ 

پاکستان کو اپنی ذات پر مقدم رکھو، مصلحت پر انصاف کو ترجیح دو، تقسیم پر اتحاد کو فوقیت دو اور آج کے وقتی فائدوں کے مقابلے میں آنے والی نسلوں کے مستقبل کو عزیز جانو۔

کیونکہ میں پاکستان ہوں۔

☢️ 1998ء — ایٹمی صلاحیت اور قومی اعتماد

مضمون پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کو قومی خود اعتمادی کے اہم مراحل میں شمار کرتا ہے۔

یہ حوالہ اس وسیع تر خیال کا حصہ ہے کہ مسلسل بحرانوں کے باوجود ملک نے ایسے شعبوں میں پیش رفت کی جو اس کے دفاعی اور سائنسی تشخص کا حصہ بنے۔

میں اس لیے زندہ رہا کہ میرے لوگوں نے میری زندگی کے تاریک ترین لمحوں میں مجھے اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا۔

اب میں دوبارہ اپنی پوری قوت کے ساتھ سربلند ہوتا ہوں یا تاریخ کے دھندلاتے ہوئے اوراق میں آہستہ آہستہ گم ہوجاتا ہوں—اس کا فیصلہ میرے قدموں تلے موجود زمین نہیں کرے گی۔

یہ فیصلہ ان دلوں اور ان ہاتھوں کو کرنا ہے جو مجھے اپنا وطن کہتے ہیں۔

✒
محمد محسن اقبال
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
←