ایران جنگ نے عالمی غذائی سپلائی چین کو متاثر کر دیا ہے۔
کھاد، ایندھن اور شپنگ کے بڑھتے اخراجات کے باعث زرعی پیداوار مہنگی ہو رہی ہے، جس سے دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بحران جاری رہا تو غذائی قلت اور بھوک کے شکار افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ خلیج عرب دنیا کے بڑے زرعی خطوں میں شمار نہیں ہوتا لیکن خطے میں جاری جنگ نے عالمی غذائی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔
اس کے اثرات کسانوں، پیکجنگ کمپنیوں، تقسیم کاروں اور صارفین تک پہنچ رہے ہیں، جس سے غذائی تحفظ اور معیارِ زندگی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
جنگ کے باعث توانائی اور کھاد کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جو اناج، سبزیوں اور گوشت کی پیداوار کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
شدید موسمی حالات سے پہلے ہی متاثر کسان اب کھاد اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو مہنگی خوراک کی صورت میں برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
ایک متبادل راستہ یہ ہے کہ کسان کھاد اور دیگر زرعی اشیا کا استعمال کم کر دیں، جس سے پیداوار میں کمی اور غذائی قلت کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ان غریب ممالک میں جو درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عالمی بھوک ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں خلیجی خطہ نائٹروجن کھاد کا ایک بڑا عالمی مرکز بن چکا ہے، جبکہ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد تجارت گزرتی تھی۔
خلیج سلفر کی بھی ایک اہم سپلائر ہے جو کئی اقسام کی کھاد بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
جنگ نے خطے کی برآمدات کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ گئیں اور کسانوں نے دستیاب ذخائر حاصل کرنے کے لیے جلدی خریداری شروع کر دی۔
تنازع نے قدرتی گیس کی فراہمی کو بھی متاثر کیا ہے، جو نائٹروجن کھاد کی تیاری کا بنیادی جزو ہے۔
دنیا کی تقریباً نصف غذائی پیداوار ان کھادوں پر منحصر ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک میں کھاد بنانے والی کمپنیوں نے عارضی طور پر پیداوار کم کر دی ہے، جبکہ یورپ میں گیس مہنگی ہونے سے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
خلیجی کھاد پر سب سے زیادہ انحصار کرنے والے ممالک
2024 کے UNCTAD اعداد و شمار کے مطابق کئی ممالک اپنی سمندری درآمدی کھاد کا بڑا حصہ خلیجی خطے سے حاصل کرتے ہیں، جس سے سپلائی میں رکاوٹ غذائی تحفظ کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
📊 سب سے زیادہ انحصار کرنے والے ممالک
🌾 دیگر ممالک
🔍 یہ اعداد و شمار کیوں اہم ہیں؟
🚢 سپلائی چین کا خطرہ
خلیجی خطے سے کھاد کی درآمد پر انحصار رکھنے والے ممالک بحری راستوں، بندرگاہوں یا توانائی بحران سے فوری متاثر ہو سکتے ہیں۔
🌾 زرعی پیداوار پر دباؤ
کھاد مہنگی یا نایاب ہونے سے مکئی، گندم، چاول اور دیگر فصلوں کی پیداوار کم ہو سکتی ہے، جس سے غذائی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ ہے۔
⚠️ غریب ممالک زیادہ متاثر
محدود مالی وسائل رکھنے والے ممالک متبادل سپلائرز سے مہنگی کھاد خریدنے کی صلاحیت کم رکھتے ہیں، اس لیے غذائی بحران کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
خوراک کی پیداوار پر براہ راست ضرب
جدید زرعی نظام توانائی کے بغیر ممکن نہیں۔ ڈیزل سے چلنے والے ٹریکٹر زمین تیار کرتے ہیں، گیس سے گرم گرین ہاؤسز میں سبزیاں اگائی جاتی ہیں، جبکہ بحری جہاز، ہوائی جہاز اور ٹرک خوراک کو دنیا بھر میں منتقل کرتے ہیں۔
جنگ کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے سے کاشت، آبپاشی، اسپرے اور فصلوں کی کٹائی کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
ایشیا میں بعض کسانوں نے بڑھتی لاگت کے باعث چاول کی کاشت مؤخر یا ترک کر دی ہے، جبکہ فرانس اور آسٹریلیا میں بھی پیداوار کے تخمینے کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پیکجنگ اور ترسیل بھی متاثر
آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں میں خلل سے شپنگ کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور اناج، تیل دار بیجوں اور کھاد کی ترسیل میں تاخیر پیدا ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ دنیا کی تقریباً ایک تہائی نیفتھا فراہم کرتا ہے، جو پلاسٹک پیکجنگ بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے کاغذ اور گتے کی صنعت کو بھی متاثر کیا ہے۔
ملائیشیا میں دودھ کی بوتلوں کے لیے استعمال ہونے والے پلاسٹک رال کی کمی سے بعض اسٹورز کی شیلفیں خالی ہونے لگیں، جبکہ جاپان میں خام مال کی قلت کے باعث بعض مصنوعات کی پیکجنگ تبدیل کرنا پڑی۔
خوراک کی قیمتیں کہاں تک جا سکتی ہیں؟
جنگ سے پہلے عالمی سطح پر غذائی مہنگائی میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی، مگر اب صورتحال بدل رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق اپریل میں عالمی غذائی اشیا کی قیمتیں 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحران برقرار رہا تو اگلے 6 سے 12 ماہ کے دوران دنیا کو خوراک کی قیمتوں کے ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکا میں خوراک اور مشروبات بنانے والی کمپنیوں کے پیداواری اخراجات پہلے ہی بڑھ چکے ہیں، جبکہ گروسری اشیا کی قیمتوں میں چار سال کی سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ یورپ میں بھی ماہرین کرسمس تک صارفین پر اس کے اثرات محسوس ہونے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
غریب ممالک سب سے زیادہ خطرے میں
FAO کے مطابق ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے وہ ممالک جو خوراک اور کھاد کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
امیر ممالک اپنے کسانوں کو سرکاری امداد فراہم کر سکتے ہیں، لیکن کم آمدنی والے ممالک کے لیے صورتحال کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو مزید 45 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر غذائی بحران نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ سکتا ہے۔