کانگو حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں ایبولا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 600 سے زیادہ ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیں
سرکاری رپورٹ کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ میں تشویشناک تیزی دیکھی جا رہی ہے اور اب تک ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 1795 ہو چکی ہے۔
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایبولا کے 2 نئے مشتبہ کیسز صوبہ تشوبو کے شہر کسانگانی میں رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں پہلے اس وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔
حکام ان نئے کیسز کے پھیلاؤ کے ذرائع کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک مشتبہ کیس کا تعلق صوبہ ایتوری کے علاقے نیا نیا سے ہے، جہاں پہلے بھی وائرس کے کیسز موجود تھے۔
تاہم دوسرے کیس کا کسی معروف متاثرہ علاقے سے جغرافیائی تعلق واضح نہیں ہے، جس کی وجہ سے طبی ماہرین اور حکام شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کانگو میں ایبولا کے اس تازہ ترین پھیلاؤ کا اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا۔
یہ وائرس کئی ہفتوں تک حکام کی نظروں سے اوجھل رہا اور خاموشی سے پھیلتا رہا، جس کی وجہ سے اس پر قابو پانا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وبا ایبولا کی ایک نایاب قسم بونڈیبوگیو وائرس کے باعث پھیلی ہے۔
اس مخصوص وائرس کے خلاف تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں ہے، جس کی وجہ سے طبی امدادی ٹیموں کو مریضوں کی جان بچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر امریکی حکومت نے کانگریس سے ایبولا کے خلاف جنگ کے لیے 1.4 ارب ڈالر سے زائد کی ہنگامی امداد کی درخواست کی ہے۔
یہ فنڈز وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور متاثرہ علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ وائرس پر قابو پانے کی کوششیں فنڈز کی کمی، صحت کے مراکز پر حملوں اور مشرقی کانگو میں جاری تنازعات کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہیں۔
یہ علاقہ ایبولا کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں سیکیورٹی خدشات کے باعث طبی ٹیموں کی رسائی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔