براہ راست نشریات

کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ تیز ہوگیا: مزید 71 کیسز کی تصدیق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور عالمی ادارہ صحت کی امدادی سرگرمیاں
یہ کانگو کی تاریخ میں 17 ویں بڑی وبائی لہر ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کردی ہے (فوٹو: انٹڑنیٹ)

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق حکام نے ایک ہی دن 71 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ 

یہ کانگو کی تاریخ میں 17 ویں بڑی وبائی لہر ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کردی ہے۔

متاثرہ علاقے اور کیسز کی موجودہ صورتحال

رپورٹ کے مطابق 71 نئے کیسز میں سے 65 کا تعلق ایتوری ریجن اور 

6 کا شمالی کیوو ریجن سے ہے۔

وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 15 مئی سے اب تک کل تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 452 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہلاکتیں 82 ہو گئی ہیں۔

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور عالمی ادارہ صحت کی امدادی سرگرمیاں
71 نئے کیسز میں سے 65 کا تعلق ایتوری ریجن اور 6 کا شمالی کیوو ریجن سے ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

صحت کا بنیادی ڈھانچہ اور سیکیورٹی چیلنجز

حکام کے مطابق وائرس کے زیادہ تر کیسز ملک کے شمال مشرقی علاقے ایتوری میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔

یہ علاقہ انتہائی پسماندہ ہے جہاں صحت کا بنیادی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ بے امنی کے باعث امدادی ٹیموں کو بھی کام کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سرحد پار پھیلاؤ اور پڑوسی ممالک کو خطرہ

ایبولا کے کیسز اب صرف کانگو تک محدود نہیں رہے، بلکہ وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی ہو چکی ہے، جس سے خطے میں طبی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اس صورت حال میں سرحدی نگرانی بڑھانے کی سخت تاکید کی ہے۔

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور عالمی ادارہ صحت کی امدادی سرگرمیاں
وائرس کے زیادہ تر کیسز ملک کے شمال مشرقی علاقے ایتوری میں رپورٹ ہو رہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی ادارہ صحت کی ہنگامی حکمت عملی

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم نے 518 ملین ڈالر کی 6 ماہ پر محیط ہنگامی منصوبہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کانگو اور یوگنڈا میں بیماری پر قابو پانا اور دیگر ممالک کو ممکنہ پھیلاؤ سے بچاؤ کے لیے تیار کرنا ہے۔

ایبولا کی موجودہ لہر کانگو کی تاریخ کی چوتھی بڑی وبائی صورتحال بن چکی ہے۔ 

اس وبا کو مکمل طور پر قابو کرنے کے لیے نہ صرف بھاری مالی وسائل کی فوری فراہمی ضروری ہے بلکہ متاثرہ علاقوں میں مستحکم سیاسی عزم اور موثر طبی نگرانی بھی ناگزیر ہے۔