ملازمت کا ویزا جو جہنم لے گیا، جبری جسم فروشی کے شکنجے میں پاکستانی خواتین
یہ ان خواتین کی کہانی ہے جو ملازمت کے وعدوں، جعلی ویزوں اور بھاری قرض کے جال میں پھنس کر انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوئیں۔
خوف، بدنامی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث بہت سی متاثرہ خواتین مدد کے لیے آواز بھی نہیں اٹھا پاتیں۔
وہ بیوٹی پارلر، ریسٹورنٹ
اور دوسری باعزت ملازمتوں کے وعدے پر
پاکستان سے روانہ ہوئیں
مگر بیرون ملک پہنچ کر بعض خواتین کے پاسپورٹ چھین لئے گئے
انہیں قرض، دھمکی اور بدنامی کے خوف میں جکڑ دیا گیا
رقص یا جسم فروشی پر مجبور کیا گیا
زنیرہ صرف 16 برس کی تھی اور کمپیوٹر انجینئر بننے کا خواب دیکھتی تھی۔
وہ کسی نائٹ کلب میں کام کرنا چاہتی تھی نہ کسی پراسرار دنیا میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
اس کی خواہش صرف اتنی تھی کہ تعلیم مکمل کرے، باعزت ملازمت حاصل کرے اور اپنے خاندان کا سہارا بنے۔
اسی دوران ایک خاتون اس کی زندگی میں آئی۔
اس نے زنیرہ کو تعلیم جاری رکھنے، بیرون ملک ملازمت دلانے اور بہتر مستقبل کے خواب دکھائے۔
ایک غریب خاندان کی بیٹی کے لیے یہ پیشکش ایسی تھی جسے ٹھکرانا آسان نہیں تھا۔
مگر تعلیم اور روزگار کے وعدے سے شروع ہونے والا سفر، زنیرہ کے مطابق، 4 برس تک تشدد، جنسی زیادتی اور جبری جسم فروشی کی شکل اختیار کر گیا۔
جب وہ کسی طرح اس قید سے نکل کر پاکستان واپس پہنچی تو اس کے پاس نہ ڈگری تھی، نہ جمع پونجی، صرف جسم پر تشدد کے نشانات اور ذہن میں برسوں کا خوف باقی تھا۔
مزید پڑھیں
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے زنیرہ کی کہانی 2014 میں شائع کی تھی، مگر بعد میں سامنے آنے والے سرکاری ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے پھنسانے کا طریقہ ختم نہیں ہوا۔ نام اور منزلیں بدلتی رہیں، لیکن جال تقریباً وہی رہا:
اچھی ملازمت کا وعدہ، بظاہر قابلِ اعتماد ایجنٹ، بھاری سفری اخراجات، پاسپورٹ کی ضبطی اور پھر بند دروازوں کے پیچھے استحصال۔
بیوٹی پارلر جو کہیں موجود نہیں تھا
نومبر 2019 میں گوجرانوالہ اور شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی دو خواتین لاہور ایئرپورٹ سے بیرون ملک روانہ ہوئیں۔
انہیں بتایا گیا تھا کہ بیوٹی پارلر میں اچھی تنخواہ پر ملازمت ملے گی۔
ہر خاتون سے ویزے اور سفر کے انتظامات کے نام پر ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کئے گئے۔
📖 مختصر خلاصہ ⌄
ان کے خاندانوں کو امید تھی کہ چند ماہ بعد گھر کے حالات بدلنا شروع ہو جائیں گے، مگر وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے کی سرکاری رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین کو منزل پر پہنچنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جسم فروشی پر مجبور کردیا گیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک مشتبہ شخص 2017 سے بیرون ملک انسانی اسمگلنگ اور جسم فروشی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
پاکستان میں مزید 4 افراد اس کے ایجنٹ اور سہولت کار کے طور پر کام کررہے تھے۔
دونوں خواتین دسمبر 2019 میں پاکستان واپس آنے میں کامیاب ہوئیں، جس کے بعد ایف آئی اے گوجرانوالہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔
اسی سرکاری رپورٹ میں دو مزید پاکستانی خواتین کا ذکر ہے جنہیں عمان منتقل کیا گیا۔
وہاں انہیں ایک بار میں رقص اور بعدازاں جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔
ایف آئی اے کے رابطہ دفتر اور عمانی حکام کی مداخلت کے بعد دونوں کو حفاظتی مرکز منتقل کیا گیا اور جولائی 2020 میں پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔
یہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ کہانیاں نہیں بلکہ پاکستان کے متعلقہ تحقیقاتی ادارے کی دستاویز میں شامل مقدمات ہیں۔
جال بیرون ملک نہیں، محلے سے شروع ہوتا ہے
انسانی اسمگلر کسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر یہ نہیں کہتا کہ وہ ایک مجرم ہے۔
ملازمت کی پیشکش اکثر ایسے شخص کے ذریعے آتی ہے جسے خاندان جانتا ہو یا جس پر آسانی سے اعتماد کیا جاسکے۔
⭐ اہم ترین نکات ⌄
وہ کوئی دور کا رشتہ دار، محلے کی خاتون، ٹریول ایجنٹ، ملازمت دلانے والا دلال یا ایسا شخص ہوسکتا ہے جو بیرون ملک کمپنیوں اور کاروباری افراد سے تعلقات کا دعویٰ کرتا ہو۔
ایجنٹ سب سے پہلے خاندان کی کمزوری تلاش کرتا ہے:
تعلیم مکمل کرنے کی خواہش رکھنے والی لڑکی، قرض میں ڈوبا گھر، روزگار کی محتاج بیوہ یا ایسی نوجوان خاتون جو بیرون ملک ملازمت کو خودمختار زندگی کا راستہ سمجھتی ہو۔
ملازمت بیوٹی پارلر، ریسٹورنٹ، گھریلو خدمت، تقریبات منعقد کرنے والی کمپنی یا ماڈلنگ کے شعبے میں ظاہر کی جاتی ہے۔
بعض صورتوں میں کسی امیر غیر ملکی شخص سے شادی کا خواب دکھایا جاتا ہے۔
خاندان کو دفتر، رہائش یا کام کی جگہ کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں۔
جعلی معاہدہ پیش کیا جاسکتا ہے اور ایسی خواتین کی کامیاب کہانیاں سنائی جاتی ہیں جو مبینہ طور پر اسی ایجنٹ کے ذریعے بیرون ملک گئیں اور اب اپنے گھروں کو رقم بھیج رہی ہیں۔
خاندان زیور بیچ کر یا قرض لے کر ویزے اور ٹکٹ کی رقم ادا کردیتا ہے۔
اسی لمحے استحصال کی پہلی زنجیر تیار ہو جاتی ہے، کیونکہ لڑکی صرف ملازمت کے لیے نہیں جارہی ہوتی بلکہ اس پر وہ قرض بھی ہوتا ہے جس کی واپسی کا پورا خاندان منتظر ہوتا ہے۔
⛓️ استحصال کا جال کیسے بنتا ہے؟ ⌄
پاسپورٹ چھیننے کے بعد اصل چہرہ سامنے آتا ہے
ایئرپورٹ پر متاثرہ خاتون کا استقبال بظاہر معمول کے مطابق کیا جاتا ہے۔
اس کا پاسپورٹ اقامہ، رہائشی اجازت نامے یا ملازمت کا معاہدہ مکمل کرنے کے بہانے لے لیا جاتا ہے۔
بعد میں اسے اس جگہ کے بجائے کسی فلیٹ یا نامعلوم رہائش گاہ پر منتقل کردیا جاتا ہے جہاں کام کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس کے سامنے نیا حساب رکھ دیا جاتا ہے:
ویزا، ٹکٹ، رہائش، کھانا اور ایجنٹ کی فیس۔
اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ بڑی رقم کی مقروض ہے اور قرض ادا کئے بغیر پاسپورٹ واپس ملے گا نہ وطن جانے کی اجازت۔
وہ جتنا کام کرتی ہے، اتنے ہی نئے اخراجات اس کے کھاتے میں شامل ہوتے جاتے ہیں۔
یوں قرض کبھی ختم نہیں ہوتا۔
انکار پر پولیس کے حوالے کرنے، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں جیل بھجوانے یا پاکستان میں خاندان کو بدنام کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
بعض نیٹ ورک تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ایسے معاشرے میں جہاں جبری استحصال کا شکار ہونے والی خاتون کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے، بدنامی کا خوف بند دروازے سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے۔
⚠️ خطرے کی نشانیاں ⌄
شادی بھی فروخت کا پردہ بن سکتی ہے
2019 میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو پاکستانی تفتیش کاروں کی مرتب کردہ ایک فہرست ملی، جس میں 629 پاکستانی لڑکیوں اور خواتین کے نام شامل تھے۔
انہیں چینی مردوں سے شادی کے بعد چین منتقل کیا گیا تھا۔
نیٹ ورک نے غریب خاندانوں، خصوصاً بعض مسیحی گھرانوں کو نشانہ بنایا۔
انہیں بتایا گیا کہ غیر ملکی مرد سے شادی لڑکی اور اس کے خاندان کو غربت سے نکال دے گی۔
لیکن کچھ واپس آنے والی خواتین نے تنہائی، جنسی تشدد اور جسم فروشی پر مجبور کئے جانے کی شکایت کی۔
صحافتی توازن کے لئے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ چینی سفارت خانے نے پاکستانی خواتین کو منظم طور پر جسم فروشی یا اعضا فروشی پر مجبور کرنے کے الزامات کی تردید کی تھی۔
ایک اہم مقدمے میں عدالت نے 31 چینی ملزمان کو بری بھی کردیا۔
تاہم تفتیشی حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ بعض خواتین نے دھمکیوں یا مالی پیشکشوں کے بعد اپنے بیانات واپس لئے۔
ہر بین الاقوامی شادی کو انسانی اسمگلنگ قرار نہیں دیا جاسکتا، مگر جب رشتہ دھوکے، خرید و فروخت، جبر اور جنسی استحصال پر قائم ہو تو شادی ایک قانونی تعلق نہیں بلکہ جرم کا پردہ بن جاتی ہے۔
🛡️ متاثرہ خاتون کیا کرے؟ ⌄
سرکاری اعداد کیا بتاتے ہیں؟
پاکستانی حکومت کے فراہم کردہ اعداد پر مبنی 2025 کی امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران ملک میں انسانی اسمگلنگ کے 37 ہزار 303 متاثرین کی نشاندہی کی گئی۔
ان میں جنسی استحصال سے متعلق 26 ہزار 613 متاثرین شامل تھے، جن میں 21 ہزار 69 خواتین اور 1,046 بچے تھے۔
ان اعداد کو احتیاط سے سمجھنا ضروری ہے۔
یہ پاکستان کے اندر اور بیرون ملک سامنے آنے والے مختلف نوعیت کے مقدمات پر مشتمل ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام متاثرین پاکستانی خواتین تھیں جنہیں بیرون ملک منتقل کیا گیا۔
حکام نے انسدادِ انسانی اسمگلنگ قانون کے تحت 1,607 مقدمات کی تحقیقات کیں، جن میں 523 جنسی استحصال سے متعلق تھے۔
مجموعی طور پر 495 اسمگلروں کو سزا سنائی گئی، لیکن جنسی اسمگلنگ سے متعلق سزاؤں کی تعداد صرف 60 تھی۔
متاثرین اور سزاؤں کے درمیان بڑا فرق ظاہر کرتا ہے کہ بچاؤ کو انصاف میں تبدیل کرنا کتنا مشکل ہے۔
بہت سی خواتین ایجنٹ کا اصل نام نہیں جانتیں، گواہی دینے سے ڈرتی ہیں یا خاندان اور معاشرے کے ردعمل کے خوف سے خاموش رہتی ہیں۔
🔍 کیا معلوم ہے، کیا ثابت نہیں؟ ⌄
جو معلوم ہے
ملازمت کے جھانسے، پاسپورٹ ضبط کرنے، قرض کے دباؤ اور جبری استحصال کے طریقے انسانی اسمگلنگ کے متعدد مقدمات اور بین الاقوامی رپورٹس میں سامنے آچکے ہیں۔جو واضح نہیں
متاثرہ پاکستانی خواتین کی مکمل تعداد، تمام نیٹ ورکس کی شناخت اور ہر انفرادی واقعے کی تفصیلات آزادانہ طور پر دستیاب نہیں ہیں۔’وہ بھاگی کیوں نہیں؟‘
یہ سب سے عام مگر شاید سب سے ظالمانہ سوال ہے۔
ایک ایسی خاتون کیسے بھاگے جس کے پاس پاسپورٹ، فون اور پیسے نہ ہوں؟
وہ کہاں جائے جب اسے مقامی زبان، اپنے پتے یا متعلقہ حکام کا علم نہ ہو؟
وہ پولیس سے مدد کیوں مانگے اگر اسمگلر نے اسے یقین دلا دیا ہو کہ ویزے یا اقامے کی خلاف ورزی پر اسی کو گرفتار کیا جائے گا؟
بعض متاثرین کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے، جبکہ بعض کو خاندان کو نقصان پہنچانے یا نجی تصاویر پھیلانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
کہیں عورت نے ابتدا میں رقص یا تفریحی مقام پر کام کرنے کی رضامندی دی ہو، تب بھی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے پاسپورٹ چھیننے، قید کرنے یا جنسی تعلقات پر مجبور کیے جانے کی اجازت دی تھی۔
کسی ملازمت کی رضامندی، غلامی کی رضامندی نہیں ہوتی۔
واپسی کے بعد دوسری سزا
پاکستان واپس پہنچنے پر بھی متاثرہ خاتون کی آزمائش ختم نہیں ہوتی۔
خاندان پوچھ سکتا ہے کہ وہ گئی کیوں، اتنے عرصے تک رہی کیوں اور پہلے کیوں نہ بھاگی۔
بعض خواتین ذہنی صدمے، بیماری، قرض اور احساسِ جرم کے ساتھ واپس آتی ہیں۔
اگر معاشرہ ان کو مجرم بنا دے تو اسمگلر دوسری بار کامیاب ہوجاتا ہے:
پہلے وہ عورت کا استحصال کرتا ہے اور پھر بدنامی کا خوف اسے خاموش کردیتا ہے۔
⏱️ ایک منٹ میں کہانی ⌄
پاکستانی حکومت نے 105 حفاظتی مراکز، فلاحی گھروں اور بچوں کے تحفظ کی یونٹس موجود ہونے کی اطلاع دی ہے۔
اس کے باوجود سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں نفسیاتی، قانونی اور بحالی کی سہولتیں ناکافی ہیں۔
چند خطرے کی نشانیاں
بیرون ملک ملازمت سے پہلے خاندان کو محتاط ہوجانا چاہئے اگر:
- محدود تجربے کے باوجود غیرمعمولی تنخواہ کا وعدہ کیا جائے۔
- ملازمت کا قابلِ تصدیق معاہدہ یا دفتر کا پتہ نہ دیا جائے۔
- ویزے پر درج پیشہ وعدہ کی گئی ملازمت سے مختلف ہو۔
- نقد رقم مانگی جائے مگر رسید نہ دی جائے۔
- خاندان کو آجر سے براہِ راست رابطہ نہ کرنے دیا جائے۔
- پاسپورٹ ایجنٹ یا آجر کے پاس رکھنے کی شرط عائد ہو۔
- ملازمت سے غیر متعلق ذاتی تصاویر طلب کی جائیں۔
سفر سے پہلے پاسپورٹ، ویزے، معاہدے، ایجنٹ کے شناختی کاغذات اور رہائش کے پتے کی نقول خاندان کے پاس ہونی چاہئیں۔
خطرے میں پھنسی خاتون محفوظ موقع ملنے پر مقامی پولیس، پاکستانی سفارت خانے یا ایف آئی اے سے رابطہ کرسکتی ہے۔
شکایت ایف آئی اے کے سرکاری پورٹل پر بھی درج کی جاسکتی ہے۔
وہ مجرم نہیں، متاثرہ ہے
یہ کہانیاں ان خواتین کی نہیں جنہوں نے جسم فروشی کا انتخاب کیا، بلکہ ان عورتوں کی ہیں جنہیں ملازمت یا شادی کے نام پر دھوکا دے کر آزادی سے محروم کیا گیا۔
یہ فرق صرف الفاظ کا نہیں۔
یہی فرق عورت کو موردِ الزام ٹھہرانے اور اسے فروخت کرنے والے مجرم کا تعاقب کرنے کے درمیان ہے۔
چمکتی روشنیوں اور بلند موسیقی والے کسی مقام پر کھڑی عورت ممکن ہے اپنی مرضی سے رقص نہ کررہی ہو۔
شاید اس کا پاسپورٹ کسی دوسرے شخص کی الماری میں بند ہو، واپسی کا راستہ اسے معلوم نہ ہو اور سب سے بڑا خوف یہ ہو کہ نجات کے بعد اسے سب سے پہلے اسی معاشرے کے سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا جسے اس کی حفاظت کرنی چاہیے تھی۔