افغانستان میں بچوں کی غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
امدادی وسائل کی کمی کے باعث ہر سات ضرورت مند ماؤں اور بچوں میں سے صرف ایک تک مدد پہنچ رہی ہے۔
لاکھوں افغانوں کی جبری واپسی، خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی امداد میں کمی نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
غذائی قلت کے بیشتر سنگین مریض
دو سال سے کم عمر بچے، مہنگی خوراک، لاکھوں افغانوں کی جبری واپسی اور امدادی فنڈز میں کمی نے بحران کو جان لیوا بنا دیا
کابل کے قصبہ کلینک کی ایک بنچ پر 40 سالہ حلیمہ اپنے کمزور بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے۔
بچے کے قریب غذائیت سے بھرپور مخصوص خوراک کا ایک چھوٹا سا پیکٹ رکھا ہے۔
بظاہر یہ معمولی پیکٹ ہے، لیکن شدید غذائی قلت کے شکار افغان بچوں کے لیے اس میں صرف خوراک نہیں بلکہ زندگی کی امید بند ہے۔
حلیمہ ان خوش قسمت ماؤں میں شامل ہے جن کے بچے تک کسی نہ کسی طرح غذائی امداد پہنچ گئی۔
افغانستان میں علاج اور خوراک کے منتظر ہر 7 ضرورت مند ماؤں اور بچوں میں سے صرف ایک کو مدد مل پا رہی ہے، جبکہ باقی 6 کو امدادی مراکز سے خالی ہاتھ واپس جانا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں
خالی ہاتھ لوٹتے خاندان
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کے افغانستان میں سربراہ جان ایلیئف کے مطابق ملک میں غذائی بحران روزانہ بدتر ہو رہا ہے، امدادی ادارے وسائل کی کمی کے باعث اسے روکنے کے قابل نہیں رہے۔
ان کے بقول طبی مراکز آنے والے ضرورت مند خاندانوں کو کچھ دیے بغیر واپس بھیجنے پر مجبور ہیں۔
یہ فیصلہ کسی ڈاکٹر یا امدادی کارکن کی مرضی سے نہیں ہوتا۔
مراکز کے پاس محدود غذائی پیکٹ، کم ادویات اور ضرورت سے کہیں کم عملہ موجود ہے۔
اہم نکات ⌄
- ہر سات ضرورت مند ماؤں اور بچوں میں سے صرف ایک کو امداد مل رہی ہے۔
- شدید غذائی قلت کے 80 فیصد سنگین مریض دو سال سے کم عمر بچے ہیں۔
- افغانستان کے ایک تہائی صوبوں میں بچوں کی غذائی قلت نازک سطح پر پہنچ چکی ہے۔
- بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
- امدادی اداروں کو ضرورت مند خاندان خالی ہاتھ واپس بھیجنا پڑ رہے ہیں۔
ایک طرف کئی گھنٹے سفر کرکے پہنچنے والی مائیں اپنے بچوں کو گود میں لیے قطاروں میں کھڑی ہوتی ہیں اور دوسری طرف طبی کارکنوں کو طے کرنا پڑتا ہے کہ دستیاب امداد کس بچے کو دی جائے اور کسے واپس بھیجا جائے۔
عالمی ادارہ خوراک کے مطابق افغانستان کے تقریباً ایک تہائی صوبوں میں بچوں کا قد کے مقابلے میں انتہائی کم وزن، جسے ’ویسٹنگ‘ کہا جاتا ہے، نازک سطح تک پہنچ چکا ہے۔
یہ شدید غذائی قلت کی سب سے خطرناک شکل ہے، جس میں بچے کا جسم تیزی سے کمزور ہو کر بیماریوں کے خلاف مزاحمت کھو دیتا ہے۔
سب سے زیادہ خطرہ دو سال سے کم عمر بچوں کو
شدید غذائی قلت کے تقریباً 80 فیصد سنگین مریض دو سال سے کم عمر بچے ہیں۔
زندگی کے ابتدائی دو برس جسم اور دماغ کی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔
اسی مدت میں مناسب خوراک نہ ملے تو اس کے اثرات بچے کی پوری زندگی پر برقرار رہ سکتے ہیں۔
افغانستان غذائی بحران: اہم اعداد ⌄
بہت سے بچوں کو طبی مراکز اس وقت پہنچایا جاتا ہے جب ان کی حالت پہلے ہی انتہائی خراب ہو چکی ہوتی ہے۔
کمزور جسم کے لیے معمولی بخار، دست، نمونیا یا آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماری بھی جان لیوا بن سکتی ہے۔
بعض بچے اتنی تاخیر سے پہنچتے ہیں کہ غذائی علاج شروع ہونے کے باوجود ان کی جان بچانا ممکن نہیں رہتا۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر کے مطابق افغانستان میں تقریباً 37 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا خدشہ ہے جبکہ مجموعی طور پر دو کروڑ 19 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
اس طرح افغانستان کی تقریباً نصف آبادی کسی نہ کسی سطح پر خوراک، علاج، رہائش یا دوسری بنیادی مدد کی محتاج ہو چکی ہے۔
روٹی اور چائے پر پلتی نسل
یونیسف کے مطابق افغانستان میں لاکھوں چھوٹے بچوں کو ایسی متوازن غذا دستیاب نہیں جس میں جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری غذائی اجزا موجود ہوں۔
غربت کے شکار بہت سے خاندان بچوں کو روٹی، چائے، چاول یا دستیاب سستی خوراک دے کر ان کی بھوک دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بحران کیوں سنگین ہورہا ہے؟ ⌄
یہ خوراک پیٹ تو بھر سکتی ہے، مگر بچے کو وہ پروٹین، وٹامن اور معدنی اجزا فراہم نہیں کرتی جو اس کی بڑھتی ہوئی عمر کے لیے ضروری ہیں۔
مسلسل ناقص خوراک سے بچے کا قد رک سکتا ہے، سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور اس کے بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
افغانستان میں بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
آٹا، تیل، دال، دودھ اور انڈے کم آمدنی والے خاندانوں کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے، یعنی انہیں یقین نہیں کہ ان کا اگلا کھانا کہاں سے آئے گا۔
جبری واپسیاں، بے روزگاری اور نیا دباؤ
غذائی بحران کو پڑوسی ممالک سے افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر واپسی نے مزید سنگین بنا دیا ہے۔
2023 کے آخر سے اب تک تقریباً 60 لاکھ افغان شہری پڑوسی ملکوں سے واپس بھیجے جا چکے ہیں۔
ان میں بہت سے خاندان ایسے ہیں جو برسوں یا کئی دہائیوں سے افغانستان سے باہر مقیم تھے۔ واپس پہنچنے پر ان کے پاس نہ مستقل گھر ہے، نہ ملازمت اور نہ اتنی رقم کہ وہ اپنے بچوں کے لیے خوراک خرید سکیں۔
وہ ایسے معاشرے میں دوبارہ زندگی شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں پہلے سے موجود لاکھوں خاندان خود امداد کے منتظر ہیں۔
ایک منٹ میں کہانی ⌄
افغانستان میں لاکھوں بچے غذائی قلت کے خلاف زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ شدید متاثرہ بچوں کی اکثریت دو سال سے کم عمر ہے، لیکن وسائل کی کمی کے باعث ہر سات ضرورت مند ماؤں اور بچوں میں سے صرف ایک کو امداد مل رہی ہے۔ خوراک کی مہنگائی، بے روزگاری اور لاکھوں افغانوں کی واپسی نے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ عالمی ادارہ خوراک کو اگلے چھ ماہ کے لیے 50 کروڑ ڈالر درکار ہیں؛ بصورتِ دیگر مزید خاندان طبی مراکز سے خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہوں گے۔
بڑے پیمانے پر واپسی سے روزگار، اسپتالوں، غذائی مراکز اور محدود سرکاری سہولتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
بہتر فصل کے باوجود مہنگائی، تجارتی رکاوٹوں، بے روزگاری اور کمزور معیشت نے عام خاندان تک خوراک پہنچنے نہیں دی۔
امداد کی کمی یا زندگی کا خاتمہ
افغانستان کا انسانی بحران ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب امریکا اور کئی یورپی ملکوں نے بیرونی امداد میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
عالمی ادارہ خوراک پہلے ہر چار ضرورت مند بچوں میں سے ایک تک پہنچ رہا تھا، لیکن اب اس کے وسائل صرف ہر سات میں سے ایک ضرورت مند ماں یا بچے کی مدد کے لیے کافی ہیں۔
فنڈز کی کمی کے باعث انتہائی متاثرہ علاقوں میں قحط سے بچاؤ کے لیے خوراک کی تقسیم بھی روکنا پڑی ہے۔
ادارے کو آئندہ چھ ماہ کے دوران بحران مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر درکار ہیں۔
یہ رقم محض بین الاقوامی اپیل کا ہندسہ نہیں۔
فنڈز میں ہر کمی کا مطلب کسی بچے کے لیے غذائی پیکٹ کا خاتمہ، کسی حاملہ ماں کے لیے خوراک کی بندش اور کسی بے گھر خاندان کے لیے آٹے کی آخری بوری کا ختم ہو جانا ہے۔
افغانستان کے یہ بچے کسی میدان جنگ میں دکھائی نہیں دیتے، لیکن وہ ہر روز بھوک کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑ رہے ہیں۔
حلیمہ کے بچے کے پاس موجود خوراک کا چھوٹا سا پیکٹ یاد دلاتا ہے کہ اس بحران میں ایک معمولی امدادی پیکٹ بھی ایک پوری زندگی بچا سکتا ہے—مگر لاکھوں بچوں تک یہ امید ابھی نہیں پہنچ رہی۔