اہم خبریں
9 June, 2026
--:--:--

119 ارب ڈالر خرچ: بھوک تڑپتی رہی، دنیا ایٹمی ہتھیار بناتی رہی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جوہری ہتھیاروں پر ریکارڈ اخراجات

119 ارب ڈالر کا جوہری خرچ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا امن کے بجائے طاقت کے توازن کی دوڑ میں داخل ہو چکی ہے۔
بڑھتی عالمی کشیدگی کے باعث ایٹمی ہتھیاروں پر سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، جبکہ بھوک، غربت اور انسانی بحران پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
یہ رجحان عالمی امن کے لیے ایک خطرناک اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

دنیا کی جوہری طاقتوں نے 2025 کے دوران اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخائر، میزائل نظاموں اور دفاعی ڈھانچوں پر ریکارڈ 119 ارب ڈالر خرچ کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔ 

اس انکشاف نے عالمی سطح پر ایک نئی جوہری اسلحہ جاتی دوڑ کے خدشات کو مزید تقویت دے دی ہے۔

یہ اعداد و شمار ’انٹرنیشنل کمپین ٹو ابولش نیوکلیئر ویپنز‘ (ICAN) کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی 9 جوہری طاقتوں نے گزشتہ سال اپنے جوہری پروگراموں پر تقریباً 17 ارب ڈالر اضافی خرچ کیے۔ 

مزید پڑھیں

رپورٹ کے مطابق امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا مسلسل اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے اور نئی صلاحیتوں کے حصول میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ آرائی اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نئے عالمی جوہری ہتھیاروں کے مقابلے کو جنم 

دے سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

امریکا سب سے آگے

رپورٹ کے مطابق امریکا نے 2025 میں 69.2 ارب ڈالر جوہری پروگرام پر خرچ کیے، جو دنیا کے تمام دیگر جوہری ممالک کے مجموعی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔ 

امریکا اپنے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں، اسٹریٹجک بمبار طیاروں، آبدوزوں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو جدید بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

ChatGPT Image 9 يونيو 2026، 10 51 48 ص

چین 13.5 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ 

بیجنگ گزشتہ چند برسوں سے اپنے جوہری ذخائر میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور نئے میزائل سائلوز، ہائپرسونک ہتھیاروں اور جدید لانچنگ سسٹمز پر کام کر رہا ہے۔

برطانیہ نے 12.6 ارب ڈالر جبکہ روس نے 9.5 ارب ڈالر خرچ کیے۔ 

یوکرین جنگ اور مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں روس اپنی جوہری صلاحیت کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کی جوہری سرمایہ کاری

رپورٹ میں جنوبی ایشیا کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں پاکستان اور بھارت دونوں اپنے جوہری پروگراموں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ 

اگرچہ دونوں ممالک کے اخراجات امریکا، چین یا روس کے مقابلے میں کم ہیں، تاہم خطے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کے لیے جوہری صلاحیتوں کی مسلسل ترقی جاری ہے۔

ChatGPT Image 9 يونيو 2026، 10 47 32 ص

ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا دنیا کے ان حساس ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے موجود ہیں، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی اسلحہ جاتی دوڑ عالمی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔

پانچ سال میں 470 ارب ڈالر

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 برسوں کے دوران جوہری طاقتوں نے مجموعی طور پر 470 ارب ڈالر سے زائد رقم جوہری ہتھیاروں پر خرچ کی۔ 

اس دوران متعدد ممالک نے نئی نسل کے میزائل، آبدوزیں، بمبار طیارے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار متعارف کرائے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور امریکا نے ایسے منصوبوں کا اعلان کر رکھا ہے جن کے تحت آئندہ کئی دہائیوں بلکہ بعض صورتوں میں رواں صدی کے اختتام تک اربوں ڈالر جوہری نظاموں کی دیکھ بھال اور جدید کاری پر خرچ کیے جائیں گے۔

☢️ ایٹمی ہتھیاروں پر ریکارڈ اخراجات

2025 میں جوہری طاقتوں نے 119 ارب ڈالر خرچ کر دیے

💰
119 ارب
ڈالر مجموعی اخراجات
📈
19%
سالانہ اضافہ
🌍
9
جوہری طاقتیں
470 ارب
5 سالہ اخراجات

🏆 سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک

🇺🇸 امریکا 69.2 ارب ڈالر
🇨🇳 چین 13.5 ارب ڈالر
🇬🇧 برطانیہ 12.6 ارب ڈالر
🇷🇺 روس 9.5 ارب ڈالر

⚠️ عالمی خدشات

🤖 مصنوعی ذہانت اور جوہری نظام
🚀 جدید میزائل اور ہائپرسونک ہتھیار
🌐 نئی عالمی اسلحہ جاتی دوڑ
💣 بڑھتی جغرافیائی کشیدگی
🇵🇰 پاکستان اور 🇮🇳 بھارت

دونوں ممالک خطے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنی جوہری صلاحیتوں کو جدید بنا رہے ہیں۔

💵 119 ارب ڈالر سے کیا ممکن تھا؟

ICAN کے مطابق یہ رقم اقوام متحدہ کے 32 سالہ آپریٹنگ بجٹ کے برابر ہے۔

📊 رپورٹ کا نتیجہ

اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو دنیا نئی جوہری دوڑ کے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔

overseaspost.net

مصنوعی ذہانت اور جوہری خطرات

رپورٹ کی شریک مصنفہ سوزی سنائیڈر نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا کردار صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ 

ان کے مطابق اگر مستقبل میں جوہری فیصلوں، نگرانی کے نظاموں یا جنگی تجزیوں میں AI کا استعمال بڑھا تو غلط اندازوں یا تکنیکی خرابیوں کے نتیجے میں خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اس صورتحال سے خوفزدہ ہوں۔ 

دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں جوہری ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت کا امتزاج غیر متوقع خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔ 

ChatGPT Image 9 يونيو 2026، 10 50 23 ص

انسانی بحرانوں کے مقابلے میں دفاعی اخراجات

رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے بھاری اخراجات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب دنیا بھر میں انسانی امداد، صحت، تعلیم اور غذائی تحفظ کے پروگراموں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

سوزی سنائیڈر کے مطابق جو رقم جوہری طاقتوں نے صرف ایک سال میں خرچ کی، وہ اقوام متحدہ کے 32 سالہ آپریٹنگ بجٹ کے برابر ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جوہری ہتھیاروں پر صرف ایک دن کا خرچ دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زیادہ افراد کے لیے خوراک کا انتظام کر سکتا تھا۔

ChatGPT Image 9 يونيو 2026، 10 44 50 ص

عالمی سلامتی کے لیے بڑا سوال

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو دنیا آنے والے برسوں میں ایک نئی جوہری دوڑ کا سامنا کر سکتی ہے۔ 

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف عالمی سلامتی بلکہ اقتصادی استحکام اور انسانی ترقی کے لیے بھی سنگین چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے جوہری اخراجات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بڑی طاقتیں مستقبل میں ممکنہ تنازعات کے لیے اپنی عسکری تیاریوں کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں، جس سے عالمی امن کے امکانات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

رپورٹ کی تیاری میں العربیہ، الجزیرہ اور دیگر ذرائع سے استفادہ کیا گیا جبکہ تصاویر اے آئی کی تخلیق ہیں۔