ورلڈ گولڈ کونسل کے تازہ سروے کے مطابق دنیا بھر کے مرکزی بینک آئندہ ایک سال کے دوران سونے کے ذخائر میں مزید اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ آنے والے برسوں میں عالمی زرمبادلہ ذخائر میں امریکی ڈالر کے حصے میں کمی کی توقع بھی بڑھ رہی ہے۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی، افراطِ زر اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے سونے کو مرکزی بینکوں کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ بنا دیا ہے۔
دنیا کے مرکزی بینک آئندہ 12 ماہ کے دوران اپنے زرمبادلہ ذخائر میں سونے کا وزن بڑھانے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ آنے والے برسوں میں عالمی ذخائر میں ڈالر کا نسبتی حصہ کم ہونے کی توقعات بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔
یہ بات ورلڈ گولڈ کونسل کے تازہ سروے میں سامنے آئی ہے۔
سروے کے مطابق 89 فیصد مرکزی بینکوں کو توقع ہے کہ ایک سال کے اندر عالمی سطح پر سرکاری سونے کے ذخائر میں اضافہ ہوگا، جبکہ ریکارڈ 45 فیصد بینکوں نے کہا کہ وہ خود بھی اپنی سونے کی ہولڈنگز بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب 74 فیصد شرکا کا خیال ہے کہ آئندہ 5 برسوں میں عالمی ذخائر میں ڈالر کا حصہ کم ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں
یہ رجحان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت بلند شرح سود، جغرافیائی کشیدگی، افراطِ زر کے خطرات اور مالیاتی غیر یقینی صورتِ حال سے گزر رہی ہے۔
خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینک اپنے ذخائر کو متنوع بنانے اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کی پالیسی پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق ڈالر اب بھی دنیا کی سب سے بڑی ریزرو کرنسی ہے، تاہم 2025 کی آخری سہ ماہی میں عالمی زرمبادلہ ذخائر میں اس کا حصہ کم ہو کر 56.77 فیصد رہ گیا، جو اس سے پچھلی سہ ماہی میں 56.93 فیصد تھا۔
اس کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں کا حصہ بڑھ کر 6.13 فیصد تک پہنچ گیا۔
مارکیٹ اسٹریٹجسٹ احمد عسیری کے مطابق مرکزی بینکوں کی جانب سے سونا خریدنے اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کا رجحان امریکی کرنسی کی فوری کمزوری نہیں بلکہ خودمختار اثاثوں کے انتظام میں ایک طویل المدتی تبدیلی کی علامت ہے۔
ان کے مطابق ڈالر اب بھی عالمی ذخائر کی مرکزی کرنسی ہے، لیکن پابندیوں، تجارتی اتحادوں کی تبدیلی اور مالیاتی طاقت کے نئے توازن نے کئی ممالک کو ایک ہی اثاثے پر انحصار کم کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کا سروے 5 فروری سے 19 مئی 2026 کے درمیان کیا گیا، جس میں 76 مرکزی بینکوں نے حصہ لیا۔ یہ سروے شروع ہونے کے بعد سے سب سے بڑی شرکت ہے۔
سونا محفوظ پناہ گاہ کیوں بن رہا ہے؟
سروے کے مطابق جن 34 مرکزی بینکوں نے آئندہ 12 ماہ میں سونا بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا، ان میں سے 31 نے اس کی وجہ ذخائر کو متنوع بنانا قرار دی۔
23 بینکوں نے سونے کو افراطِ زر، ڈالر کے خطرے اور مارکیٹ کی بے چینی کے خلاف تحفظ بتایا، جبکہ اتنے ہی بینکوں نے بڑی ریزرو کرنسیوں کی معیشتوں میں بڑھتے خطرات، خاص طور پر امریکی مالیاتی خسارے اور ترقی یافتہ معیشتوں کی سست روی کو اہم وجہ قرار دیا۔
مرکزی بینکوں کے نزدیک سونا صرف قیمت بڑھنے کی وجہ سے اہم نہیں، بلکہ بحرانوں میں اس کی کارکردگی، طویل مدت تک قدر محفوظ رکھنے کی صلاحیت اور پورٹ فولیو کو متنوع بنانے کا کردار اسے خاص بناتا ہے۔
سروے میں 90 فیصد سونا رکھنے والے مرکزی بینکوں نے کہا کہ بحران کے دوران سونے کی کارکردگی اہم یا انتہائی اہم ہے۔
84 فیصد نے اسے طویل مدتی قدر کا ذخیرہ اور افراطِ زر کے خلاف تحفظ قرار دیا، جبکہ 83 فیصد نے اسے سرمایہ کاری کے تنوع کا مؤثر ذریعہ بتایا۔
ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں کے 85 فیصد مرکزی بینکوں نے سونے کو جغرافیائی سیاسی خطرات کے خلاف تحفظ سمجھا، جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ شرح 56 فیصد رہی۔
احمد عسیری کے مطابق سونے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کریڈٹ رسک نہیں، یہ طویل مدت میں اپنی قدر برقرار رکھتا ہے اور بحرانوں میں مضبوط کارکردگی دکھاتا ہے۔
مرکزی بینک سونا کیوں خرید رہے ہیں؟
عالمی غیر یقینی صورتحال، ڈالر کی کمزوری اور معاشی خطرات کے باعث دنیا بھر کے مرکزی بینک اپنے سونے کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔
🥇 ذخائر میں تنوع
34 میں سے 31 مرکزی بینکوں نے زرمبادلہ کے ذخائر میں تنوع پیدا کرنے کے لیے سونے کی خریداری کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔
🛡️ بحران میں محفوظ اثاثہ
90 فیصد مرکزی بینکوں کے مطابق سونا عالمی بحران، مالیاتی بے یقینی اور مہنگائی کے دوران سب سے قابل اعتماد محفوظ سرمایہ ہے۔
📌 سونا خریدنے کی پانچ بڑی وجوہات
- 💰 زرمبادلہ کے ذخائر میں تنوع پیدا کرنا۔
- 🛡️ مہنگائی، ڈالر اور مالیاتی منڈیوں کے خطرات سے تحفظ۔
- 📉 عالمی معاشی اور تجارتی غیر یقینی صورتحال۔
- 📈 سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ۔
- 💵 امریکی ڈالر کی کمزور ہوتی پوزیشن۔
🌍 معاشی خدشات
23 مرکزی بینکوں نے امریکی بجٹ خسارے، عالمی معاشی سست روی اور ریزرو کرنسیوں سے متعلق خطرات کو سونے کی خریداری کی بڑی وجہ قرار دیا، جبکہ 17 بینکوں نے تجارتی جنگوں اور ٹیرف کے خدشات کا بھی ذکر کیا۔
📈 مستقبل کا رجحان
عالمی گولڈ کونسل کے مطابق مرکزی بینک اب سونے کو صرف ایک قیمتی دھات نہیں بلکہ طویل مدتی مالیاتی استحکام، بحران سے تحفظ اور زرمبادلہ کے ذخائر کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اسی لیے سونا اب صرف وقتی پناہ گاہ نہیں بلکہ ریاستی سطح پر طویل المدتی رسک مینجمنٹ کا اہم اثاثہ بن چکا ہے۔
چین، چیکیا اور پولینڈ کی عملی پیش رفت
چین کے مرکزی بینک نے مئی میں مسلسل 19ویں ماہ اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا اور 3 لاکھ 20 ہزار اونس سونا شامل کیا، جس کے بعد اس کے مجموعی ذخائر 74.96 ملین اونس، یعنی تقریباً 2332 ٹن تک پہنچ گئے۔
وسطی یورپ میں چیک نیشنل بینک نے 2023 سے سونا زیادہ تیزی سے خریدنا شروع کیا۔
اس کے ذخائر 2022 کے اختتام پر تقریباً 12 ٹن تھے، جو مئی 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 80.8 ٹن ہو گئے۔ بینک کا ہدف 2028 تک ذخائر کو 100 ٹن تک پہنچانا ہے۔
پولینڈ کے مرکزی بینک نے جنوری 2026 میں سونے کے ذخائر 700 ٹن تک بڑھانے کے منصوبے کی منظوری دی، جس سے وہ دنیا کے 10 بڑے سونا رکھنے والے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق سونا بڑھانے کا ارادہ رکھنے والے نصف مرکزی بینک مقامی کرنسی میں مقامی خریداری پروگراموں کے ذریعے یہ عمل مکمل کریں گے، جبکہ 38 فیصد موجودہ ریزرو اثاثے فروخت کرکے سونا خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ گزشتہ 12 ماہ میں 9 فیصد مرکزی بینکوں نے سونے کا مقامی ذخیرہ بڑھایا، جبکہ 10 فیصد نے بیرون ملک ذخیرہ گاہوں کو متنوع بنایا۔
یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مرکزی بینک اب صرف سونا خریدنے پر نہیں بلکہ اس کی محفوظ تحویل اور کنٹرول پر بھی زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔