عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں اور گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ مضبوط امریکی معاشی اعداد و شمار، ڈالر کی مضبوطی، بانڈز کی بڑھتی ہوئی منافع بخش شرح اور شرح سود میں اضافے کے خدشات نے سونے کی طلب کو متاثر کیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی سرمایہ کاروں کے لیے موجودہ کمی بہترین موقع ثابت ہو سکتی ہے۔
رواں سال جنوری میں تقریباً 5600 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد سونے کی قیمتیں اب بھی اس بلند ترین مقام سے کافی نیچے ہیں، حالانکہ منگل کی صبح کے ابتدائی کاروبار میں سونا 4330 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہا اور گزشتہ روز کی سطح کے قریب ہی ٹریڈ کرتا رہا۔
پیر کے روز سونے کی قیمت 4318 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی، جو دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے مضبوط امریکی روزگار کے اعداد و شمار نے اس توقع کو تقویت دی کہ امریکی فیڈرل ریزرو آئندہ مہینوں میں شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سونے پر دباؤ بڑھ گیا۔
مزید پڑھیں
سرمایہ کاری سے متعلق ویب سائٹ انویسٹنگ کے اعداد و شمار کے مطابق سونے کی قیمت میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً 8 فیصد اور گزشتہ 3 ماہ میں 16 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، یعنی فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے سونا مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔
امریکی محکمہ محنت کے ماتحت بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، مئی میں امریکا میں
غیر زرعی شعبے میں 172 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق مالیاتی منڈیاں اس وقت 70 فیصد سے زیادہ امکان ظاہر کر رہی ہیں کہ امریکی مرکزی بینک رواں سال دسمبر میں شرح سود میں اضافہ کرے گا، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ امکان صرف 45 فیصد تھا۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار بھی بڑھ گئی ہے اور گزشتہ سیشن میں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، جس سے سونا رکھنے کی متبادل لاگت میں اضافہ ہوا۔
عام طور پر جب امریکی بانڈز پر منافع بڑھتا ہے تو سرمایہ کار سونے کے بجائے بانڈز خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ سونا کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔
اسی وجہ سے سونے کی طلب کم اور قیمتیں نیچے آ جاتی ہیں۔
ادھر پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 ڈالر فی بیرل سے زیادہ اضافہ ہوا، جس کی وجہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر نئی فضائی کارروائیاں اور لبنان میں حملوں کا دوبارہ آغاز تھا۔
اس پیش رفت نے عالمی افراط زر کے خدشات کو بڑھا دیا۔ تاہم منگل کو قیمتوں میں کچھ کمی آئی اور برینٹ 93 ڈالر فی بیرل سے اوپر مستحکم رہا، جس کی وجہ تہران اور تل ابیب کے درمیان نازک جنگ بندی تھی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ نقل و حمل اور پیداوار کے اخراجات بڑھاتا ہے، جس سے عمومی مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہی صورتحال دنیا کے بڑے مرکزی بینکوں، جیسے امریکی فیڈرل ریزرو، یورپی مرکزی بینک اور بینک آف انگلینڈ، کو افراط زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود بڑھانے پر مجبور کر سکتی ہے۔
سونے کی قیمت میں کمی کی اہم وجوہ
- امریکا میں روزگار کے بہتر اعداد و شمار
- امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں اضافہ
- امریکی ڈالر کی مضبوطی، جس سے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مہنگا ہو جاتا ہے
- تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ماہرین کیا مشورہ دیتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں کمی طویل المدتی سرمایہ کاروں کے لیے ایک موقع بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کار مصطفیٰ فہمی کے مطابق:
- اگر بنیادی گھریلو اور ماہانہ اخراجات پورے کرنے کے بعد اضافی رقم موجود ہو تو سونے یا دیگر محفوظ اثاثوں میں تدریجی سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔
- روزانہ قیمتوں پر نظر رکھنے اور جلد بازی میں فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ سونا متعدد معاشی اور جغرافیائی سیاسی عوامل سے متاثر ہوتا ہے۔
- اگر مقصد دولت کی قدر کو طویل مدت تک محفوظ رکھنا ہے تو قیمتوں میں عارضی کمی پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
- سونے میں قلیل مدتی سٹے بازی سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں اکثر نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
- 2017 میں سونا تقریباً 1200 ڈالر فی اونس تھا، جو 2025 میں 4000 ڈالر سے زیادہ تک پہنچ گیا، یعنی آٹھ برسوں میں تقریباً 250 فیصد اضافہ ہوا۔
ان کے مطابق چھوٹے سرمایہ کاروں کو قرض لے کر سرمایہ کاری کرنے یا قلیل مدتی منافع کی امید میں سٹے بازی سے دور رہنا چاہیے۔
🪙 سونے میں سرمایہ کاری کیسے کریں؟
غلطیوں سے بچیں، خطرات کم کریں اور دانشمندانہ سرمایہ کاری اپنائیں
مقصد طے کریں
تنوع، تحفظ یا طویل مدتی سرمایہ کاری؟
درست ذریعہ منتخب کریں
ETF، فزیکل گولڈ یا مائننگ شیئرز
مرحلہ وار خریداری
قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا خطرہ کم کریں
متوازن پورٹ فولیو
پورا سرمایہ صرف سونے میں نہ لگائیں
📊 کن معاشی اشاریوں پر نظر رکھیں؟
🪙 سونے میں سرمایہ کاری کے 4 بڑے طریقے
① اسپاٹ مارکیٹ
طلب و رسد کی بنیاد پر فوری خرید و فروخت
② فیوچر مارکیٹ
مستقبل کی تاریخ پر مقررہ قیمت کے معاہدے
③ گولڈ ETF
سونا خریدے بغیر قیمتوں سے فائدہ
④ بارز اور سکے
حقیقی ملکیت حاصل کرنے کا آسان طریقہ
⚠️ سرمایہ کاروں کی عام غلطیاں
مالیاتی تجزیہ کار کی تجاویز
- مختصر مدت کی قیاس آرائیوں اور سٹے بازی سے بچیں۔
- خریداری ایک ہی وقت میں کرنے کے بجائے مرحلہ وار کریں تاکہ غلط وقت پر سرمایہ کاری کے خطرات کم ہوں۔
- اگر قیمتیں نمایاں حد تک بڑھ جائیں تو جزوی فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔
- طویل المدتی بنیادوں پر سونا اب بھی ایک پرکشش سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی حمایت کرنے والے بنیادی عوامل موجود ہیں۔
سونے میں غلطیوں سے بچ کر سرمایہ کاری کیسے کریں؟
- اپنی سرمایہ کاری میں سونے کا مقصد طے کریں
سب سے پہلے خود سے پوچھیں کہ آپ سونا کیوں خرید رہے ہیں؟
اگر مقصد پورٹ فولیو میں تنوع پیدا کرنا ہے تو فوری منافع کے بجائے خطرات کم کرنا ہدف ہونا چاہیے۔
اگر مقصد غیر متوقع معاشی یا سیاسی جھٹکوں سے تحفظ ہے تو طویل عرصے تک سونا رکھنے کے لیے تیار رہیں۔
- مناسب سرمایہ کاری کا ذریعہ منتخب کریں
گولڈ ای ٹی ایف فنڈز نئے سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً آسان اور کم لاگت کا ذریعہ ہیں، جبکہ فزیکل سونا براہ راست ملکیت فراہم کرتا ہے مگر اس کے ساتھ ذخیرہ، خرید و فروخت اور تصدیق کے اضافی اخراجات بھی جڑے ہوتے ہیں۔
دوسری جانب گولڈ مائننگ کمپنیوں کے حصص زیادہ منافع دے سکتے ہیں، لیکن ان میں خطرات بھی زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کی کارکردگی صرف سونے کی قیمت پر منحصر نہیں ہوتی۔
- خریداری کو مرحلہ وار بنائیں
سرمایہ کار اگر ایک ہی وقت میں پوری سرمایہ کاری کرنے کے بجائے ہفتوں یا مہینوں میں تقسیم کرکے خریداری کرے تو قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔
- پورٹ فولیو میں سونے کا متوازن حصہ رکھیں
خوف یا جوش میں آکر پورا سرمایہ سونے میں لگانا دانشمندی نہیں۔
سونا ایک متنوع سرمایہ کاری حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
- اہم معاشی اشاریوں پر نظر رکھیں
شرح سود کی توقعات
امریکی ڈالر کی قدر
عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی
گولڈ ای ٹی ایف فنڈز میں سرمایہ کاری کے بہاؤ
سونے میں سرمایہ کاری کے نمایاں طریقے
1۔ اسپاٹ مارکیٹ
بڑے ادارے اور سرمایہ کار عموماً عالمی بینکوں کے ذریعے اسپاٹ مارکیٹ میں سونا خریدتے ہیں، جہاں قیمت کا تعین طلب اور رسد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
لندن اس مارکیٹ کا سب سے اہم عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
2۔ فیوچر مارکیٹ
اس مارکیٹ میں سرمایہ کار مستقبل کی کسی مخصوص تاریخ پر طے شدہ قیمت پر سونا خریدنے یا فروخت کرنے کے معاہدے کرتے ہیں۔
نیویارک کی ’کومیکس‘ دنیا کی سب سے بڑی گولڈ فیوچر مارکیٹ ہے۔
3۔ ایکسچینج ٹریڈڈ مصنوعات
گولڈ ای ٹی ایف اور دیگر ایکسچینج ٹریڈڈ مصنوعات سرمایہ کاروں کو سونا خریدے بغیر اس کی قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
4۔ سونے کی بارز اور سکے
سرمایہ کار براہ راست سونے کی بارز یا سکے خرید کر بھی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، جو سونے کی حقیقی ملکیت حاصل کرنے کا نسبتاً آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
ضروری نوٹ:
یہ مضمون محض ماہرین کے تجزیئے کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کی بنا پر سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنا درست نہیں۔
سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق خود کرلیں۔