اسرائیل اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی اور سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی۔
سرمایہ کاروں میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ اور عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ بھڑکنے والی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو شدید جھٹکا دے دیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے لبنان اور ایران میں نئے حملوں اور اس کے جواب میں ایرانی میزائل کارروائیوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں اور قیمتی دھاتوں میں بڑی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔
آج پیر کے روز امریکی خام تیل WTI کے فیوچر معاہدوں میں 4 ڈالر یا 4.42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمت 94.54 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح برینٹ خام تیل 4.34 ڈالر یا 4.66 فیصد اضافے کے ساتھ 97.43 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچا۔
مزید پڑھیں
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اس تیزی کی بنیادی وجہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تازہ فوجی تصادم اور آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جبکہ ایران اب بھی اس راستے پر بیشتر بحری نقل و حرکت محدود کیے ہوئے ہے۔
تازہ کشیدگی نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی امیدوں کو بھی دھچکا پہنچایا ہے۔
ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے لیے لبنان میں مستقل جنگ بندی ضروری ہوگی۔
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھنے میں آئی۔
جنوبی کوریا کا مرکزی ’کوسپی‘ انڈیکس 8 فیصد سے زیادہ گر گیا، جس کے بعد اسٹاک ایکسچینج حکام کو عارضی طور پر ٹریڈنگ معطل کرنا پڑی۔
سال 2026 کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے جب مارکیٹ میں ہنگامی سرکٹ بریکر نافذ کیا گیا۔
ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص سب سے زیادہ دباؤ کا شکار رہے۔
سام سنگ الیکٹرانکس اور SK Hynix کے حصص ابتدائی کاروبار میں 10 فیصد سے زائد گر گئے، اگرچہ بعد میں کچھ نقصانات پورے کر لیے گئے۔
جاپان میں بھی سرمایہ کار خوفزدہ دکھائی دیے۔
نکئی انڈیکس 3.7 فیصد گر گیا جبکہ ٹاپکس انڈیکس میں بھی دو فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 160 کی سطح سے اوپر ٹریڈ کرتا رہا۔
ادھر سونے کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز کمی دیکھی گئی۔
اسپاٹ گولڈ 0.22 فیصد کمی کے ساتھ 4268 ڈالر فی اونس پر آگیا جبکہ امریکی گولڈ فیوچر بھی 0.52 فیصد نیچے آگئے۔
گزشتہ ہفتے سونا تقریباً 5 فیصد گر چکا ہے۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی روزگار کے مضبوط اعداد و شمار کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بلند رکھنے یا مزید سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کے خدشات نے سونے پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اس کے علاوہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی سطح پر افراطِ زر کے خدشات بھی دوبارہ سر اٹھانے لگے ہیں۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 0.4 فیصد، پلاٹینم 0.5 فیصد نیچے آیا جبکہ پیلیڈیم تقریباً مستحکم رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، افراطِ زر اور مالیاتی منڈیوں پر مزید گہرے ہوں گے۔