اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

188 ہزار بیرل یومیہ: اوبیک پلس نے پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کر لیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اوبیک پلس تیل پیداوار

اوبیک پلس کے 7 رکن ممالک نے جولائی 2026 سے تیل کی پیداوار میں 188 ہزار بیرل یومیہ اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اقدام آبنائے ہرمز بحران اور عالمی رسد کے خدشات کے باوجود توانائی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اضافہ محدود ہے، تاہم اس کا مقصد مارکیٹ کے اعتماد کو بحال رکھنا اور طلب و رسد میں توازن قائم کرنا ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد اوبیک پلس نے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے جولائی 2026 سے خام تیل کی پیداوار میں 188 ہزار بیرل یومیہ اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ 

اس فیصلے پر سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور سلطنت عمان سمیت 7 بڑے پیداواری ممالک متفق ہوئے ہیں۔

اوبیک پلس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیداوار میں اضافہ مارکیٹ کی صورتحال کا محتاط جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے اور اتحاد مستقبل میں طلب و رسد کے حالات کے مطابق پیداوار بڑھانے، روکنے یا رضاکارانہ کٹوتیوں کو بحال کرنے کی مکمل لچک برقرار رکھے گا۔

مزید پڑھیں

اتحاد نے اعلان کیا کہ رکن ممالک 5 جولائی کو دوبارہ اجلاس منعقد کریں گے، جس میں عالمی منڈی کی صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی تیل منڈی کو رسد کے حوالے سے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 

بلومبرگ کے سروے کے مطابق مئی کے دوران اوپیک کے رکن ممالک کی 

مجموعی پیداوار تقریباً 37 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ 

تنظیم کے 11 اراکین کی پیداوار 1.22 ملین بیرل یومیہ کم ہو کر 16.33 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق ایران میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں پیداوار 710 ہزار بیرل یومیہ گھٹ کر 2.34 ملین بیرل یومیہ رہ گئی، جو گزشتہ 5 برسوں کی کم ترین سطح ہے۔

🛢️ اوپیک پلس

اوپیک پلس کا بڑا فیصلہ
جولائی سے تیل پیداوار میں اضافہ

سعودی عرب، روس اور دیگر بڑے پیداواری ممالک نے عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام کے لیے خام تیل کی پیداوار بڑھانے پر اتفاق کر لیا۔

📈

188K

بیرل یومیہ اضافہ

🌍

7

بڑے ممالک متفق

📅

5 جولائی

اگلا اجلاس

2026

جولائی سے اطلاق

🌐 پیداوار بڑھانے والے ممالک

🇸🇦 سعودی عرب
🇷🇺 روس
🇮🇶 عراق
🇰🇼 کویت
🇰🇿 قازقستان
🇩🇿 الجزائر
🇴🇲 سلطنت عمان

🔍 فیصلے کی اہم وجوہات

📊 مارکیٹ استحکام

اوپیک پلس کے مطابق پیداوار میں اضافہ عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

🌊 آبنائے ہرمز بحران

ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل کی ترسیل کو متاثر کیا اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کی۔

🛢️ کم ترین پیداوار

بلومبرگ کے مطابق مئی 2026 میں اوپیک کی مجموعی پیداوار تقریباً 37 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

🔄 مکمل لچک برقرار

اتحاد نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں مارکیٹ حالات کے مطابق پیداوار بڑھانے، روکنے یا رضاکارانہ کٹوتیوں کی بحالی کا اختیار برقرار رہے گا۔

📉 اہم اعداد و شمار

🛢️ اوپیک پیداوار
16.33 ملین
بیرل یومیہ
📉 مجموعی کمی
1.22 ملین
بیرل یومیہ
🇮🇷 ایران میں کمی
710 ہزار
بیرل یومیہ
⏳ ایران پیداوار
2.34 ملین
بیرل یومیہ

📌 خلاصہ

اوپیک پلس نے رسد کے چیلنجز، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باوجود عالمی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے جولائی 2026 سے تیل پیداوار میں 188 ہزار بیرل یومیہ اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

overseaspost.net

ماہرین کے مطابق فروری 2026 میں شروع ہونے والی ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے خطے سے تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا۔ 

اس صورتحال نے اوبیک پلس کے متعدد اراکین کی برآمدات کو محدود کیا اور عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی کو بڑھا دیا۔

العربیہ کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل مارکیٹنگ، وزارت توانائی عمان، علی الریامی کا کہنا ہے کہ اوبیک پلس کی حالیہ پیداوار میں اضافہ عملی اعتبار سے محدود اور زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے۔ 

ان کے مطابق اتحاد دراصل ممکنہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے بعد پیداوار کی بحالی کے لیے مارکیٹ کو تیار کر رہا ہے۔

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ طویل المدتی تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اوبیک پلس عالمی توانائی منڈی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ رسد میں کمی یا غیر متوقع رکاوٹیں نہ صرف توانائی کی قیمتوں بلکہ عالمی افراطِ زر پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔

oil pump in blue tones 2026 01 11 09 15 14 utc

ادھر اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیص نے واضح کیا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود تنظیم نے عالمی تیل طلب کے حوالے سے اپنا مثبت مؤقف برقرار رکھا ہوا ہے۔ 

ان کے مطابق اوپیک کو توقع ہے کہ 2026 کے دوران عالمی تیل طلب میں تقریباً 1.2 ملین بیرل یومیہ اضافہ ہوگا، جبکہ 2027 تک یہ اضافہ مزید 5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ سکتا ہے۔

ہیثم الغیص نے کہا کہ بڑھتی آبادی، شہری توسیع اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے آنے والی دہائیوں میں توانائی کی طلب کو مسلسل بڑھاتے رہیں گے۔ 

اوپیک کے طویل المدتی تخمینوں کے مطابق 2050 تک عالمی تیل طلب 123 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ مستقبل قریب میں تیل کی طلب اپنے عروج پر پہنچنے کے امکانات نظر نہیں آتے۔