تاریخ کو اکثر نظریات اور نعروں کی عینک سے پڑھا جاتا ہے، لیکن اگر ہم اس کی تہہ میں جائیں تو ’تیل‘ ایک ایسی خاموش حقیقت ہے جس نے نہ صرف جدید دنیا کا نقشہ کھینچا بلکہ اسرائیل کے قیام سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگوں تک سب کچھ اسی کے گرد گھومتا ہے۔
مزید پڑھیں
تیل: بیسویں صدی کا نیا مذہب
انیسویں صدی میں معیشت کا دارومدار کوئلے اور بھاپ پر تھا، لیکن بیسویں صدی میں ’تیل‘ (خام تیل) طاقت کا اصل مرکز بن کر ابھرا۔
سوئس محقق اینڈریاس مالم کے مطابق جدیدیت کا پورا ڈھانچہ اسی فاسل فیول (Fossil Fuel) پر کھڑا ہے۔ جنگِ عظیم دوم، دراصل ایک ایسی جنگ تھی جس کا محور تیل کے ذخائر پر قبضہ تھا۔
جاپان کا پرل ہاربر پر حملہ بھی محض ایک فوجی اقدام نہیں تھا، بلکہ تیل کی سپلائی منقطع ہونے پر ایک مایوسانہ دفاعی اقدام تھا۔
اسی طرح جرمنی کی شکست کا ایک بڑا سبب اس کے پاس تیل کی قلت تھی، جس نے ہٹلر کے جنگی ٹینکوں کو میدانِ جنگ میں بے بس کر دیا تھا۔
عالمی تقسیم اور اسرائیل کا بیج
فروری 1945 میں ہونے والی ’یالٹا کانفرنس‘ تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں دنیا کو بڑی طاقتوں کے مفادات کے مطابق بانٹا گیا۔
مورخ ٹونی جُڈ (Tony Judt) کے مطابق یالٹا نے یورپ سے یہودیوں کے وجود کو ختم کر کے انہیں ایک سیاسی مسئلے کے طور پر دیکھا، جس کا حل انہیں یورپ سے نکال کر فلسطین منتقل کرنا سمجھا گیا۔
اسی دوران تیل کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو ’سیون سسٹرز‘ (Seven Sisters) نامی مغربی کمپنیوں کے حوالے کر دیا گیا، تاکہ یورپ کی تعمیرِ نو کے لیے توانائی کا محفوظ راستہ مل سکے۔
سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز اور امریکی صدر روزویلٹ کی ملاقات بھی اسی تناظر میں تھی۔
ایک طرف امریکہ کو تیل کے محفوظ ذرائع درکار تھے تو دوسری طرف سعودی عرب کو اپنی سلامتی کے لیے ایک نئے محافظ کی ضرورت تھی۔
یہیں سے امریکہ کی دو متضاد پالیسیاں شروع ہوئیں۔ ایک طرف عرب مفادات کے ساتھ دوستی اور دوسری طرف اسرائیل کی غیر مشروط حمایت۔
کاربن جمہوریت: مزدوروں کو زیر کرنے کا حربہ
برطانوی محقق ٹموتھی مچل اپنی کتاب ’کاربن ڈیموکریسی‘ میں ایک حیران کن پہلو اجاگر کرتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کانوں میں مزدوروں کی طاقت بہت زیادہ تھی کیونکہ وہ توانائی کی سپلائی روک کر حکومتوں کو جھکا سکتے تھے۔
مغرب نے کوئلے سے تیل کی طرف منتقلی کا فیصلہ اس لیے بھی کیا تاکہ مزدور طبقے کی یہ طاقت ختم کی جا سکے، کیونکہ تیل کی پائپ لائنیں اور سمندری راستے مزدوروں کی پہنچ سے دُور تھے۔
یوں تیل نے مغرب میں سیاسی استحکام تو پیدا کیا، لیکن اس کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو ہمیشہ تناؤ میں رکھا گیا۔
اسرائیل: ایک رکاوٹ یا سیاسی آلہ کار؟
1956 کا نہرِ سوئس کا بحران اور جمال عبدالناصر کا اقدام اس بات کا ثبوت تھا کہ عرب ممالک اپنی توانائی کے وسائل پر خود مختار ہونا چاہتے ہیں۔
مغربی طاقتیں اور اسرائیل نے مل کر اس خطے میں عدم استحکام پیدا کیا تاکہ یہاں کی ترقی کو روکا جا سکے اور تیل کے بہاؤ پر مغربی کنٹرول برقرار رہے۔
اسرائیل کا قیام اور اس کی جارحانہ فوجی طاقت اسی حکمتِ عملی کا ایک حصہ رہی ہے، جس نے خطے کے وسائل کو جنگوں میں جھونک کر ترقی کے عمل کو پٹری سے اتار دیا۔
آج کا موڑ: اسرائیل یا تیل؟
آج کی دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسرائیل کی حمایت اور عالمی توانائی کے استحکام کا تضاد شدت اختیار کر رہا ہے۔
1973 میں عرب ممالک نے پہلی بار ثابت کیا کہ تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والوں کو جھکایا جا سکتا ہے۔
آج، جب دنیا توانائی کے نئے ذرائع کی طرف دیکھ رہی ہے، کیا اسرائیل کا وجود اب بھی مغرب کے لیے ایک اثاثہ (Asset) ہے یا یہ ایک ایسا بوجھ بن چکا ہے جسے اتار پھینکنے میں ہی توانائی کی منڈیوں کا مفاد ہے؟
یہ آج کے عالمی منظرنامے کا سب سے اہم سوال ہے۔
ہم ایک ایسے تاریخی موڑ پر ہیں جہاں پرانی طاقتوں کے نقشے (جو یالٹا میں کھینچے گئے تھے) اب غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں۔
تیل اب صرف ایک ایندھن نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاسی طاقت ہے جو مستقبل کے اتحادوں اور دشمنیوں کو دوبارہ ترتیب دینے والی ہے۔
اسرائیل کا قیام ہو یا ایران کے خلاف موجودہ کشیدگی، ان کے پیچھے کارفرما محرکات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ صاف نظر آتا ہے کہ یہ جنگیں صرف زمین یا مذہب کی نہیں، بلکہ اس ’سیاہ سونے‘ کی ہیں جس نے بیسویں صدی کی پوری سیاست کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔