امریکا میں پاکستانی خاندان ایک ہی آمدنی سے دو ملکوں کی بڑھتی مہنگائی کا مقابلہ کر رہے ہیں
امریکا میں نصف صدی کی سب سے بڑی غذائی مہنگائی کے بعد خاندان گوشت کم کرنے، سستے برانڈز اپنانے اور رعایتی اشیا کے مطابق کھانا پکانے پر مجبور ہیں۔
پاکستانی گھرانوں کے لیے یہ مشکل زیادہ سنگین ہے، کیونکہ انہیں مہنگی امریکی زندگی کے ساتھ پاکستان میں اپنے اہلِ خانہ کی مالی مدد بھی جاری رکھنا ہے۔
گھر میں اب سوال یہ نہیں رہا کہ آج کیا کھانے کا دل چاہتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ موجودہ قیمتوں میں کیا کھانا ممکن ہے؟
ان دو سوالات کے درمیان ایک ایسی خاموش معاشی پریشانی جنم لے رہی ہے جو ہمیشہ مہنگائی کے سرکاری اعداد میں نمایاں نہیں ہوتی، لیکن روزانہ خریداری کی ٹرالی، باورچی خانے اور لاکھوں خاندانوں کے دسترخوان پر صاف دکھائی دیتی ہے۔
امریکی ریاست میساچوسٹس میں اپرال جیک ہفتہ وار کھانے کی فہرست بنانے سے پہلے سپر مارکیٹ کی ایپ کھولتی ہیں اور رعایتی اشیا تلاش کرتی ہیں۔
اسٹور پہنچ کر وہ ہفتہ وار اشتہاری پرچہ بھی دیکھتی ہیں، تاکہ کوئی سستی پیشکش نظر انداز نہ ہوجائے۔
مزید پڑھیں
ان کے گھر میں اب رات کا کھانا خاندان کی پسند کے مطابق نہیں، بلکہ اس بات کو دیکھ کر تیار ہوتا ہے کہ کس چیز پر رعایت دستیاب ہے۔
یہ منظر ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک تفصیلی رپورٹ کا مرکزی نکتہ ہے، جس میں متعدد امریکی شہروں کے خاندانوں کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ نصف صدی میں اشیائے خورونوش کی سب سے بڑی قیمت چھلانگ نے لوگوں کی خریداری، کھانے کے انتخاب اور پسندیدہ
برانڈز کو کس طرح بدل دیا ہے۔
مہنگائی کم ہونے کا مطلب قیمتیں کم ہونا نہیں
امریکی شہروں میں گھر پر استعمال ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتیں 2019 کے آغاز سے اب تک تقریباً 33 فیصد بڑھ چکی ہیں۔
اس کے مقابلے میں اس سے پہلے کے ساڑھے 7 برسوں میں قیمتوں میں مجموعی اضافہ صرف 6.4 فیصد تھا۔
یہ بڑا فرق سمجھاتا ہے کہ سرکاری اعداد میں مہنگائی کی رفتار کم ہونے کے باوجود عام صارف کو معاشی دباؤ میں کمی کیوں محسوس نہیں ہوتی۔
فیکٹ باکس FACT BOX دیکھیں +
مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ قیمتیں اپنی پرانی سطح پر واپس آگئی ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار پہلے سے کچھ کم ہوگئی ہے۔
جو چیز 10 ڈالر سے بڑھ کر 15 ڈالر کی ہوچکی ہے، وہ مہنگائی کی شرح کم ہونے سے لازماً دوبارہ 10 ڈالر کی نہیں ہوجاتی۔
امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق جون 2026 پر ختم ہونے والے ایک سال کے دوران گھر میں استعمال ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتیں 2.7 فیصد بڑھیں، جبکہ ریستورانوں اور گھر سے باہر کھانے کی قیمتوں میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا۔
اسی دوران توانائی کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 15.7 فیصد اور پٹرول کی قیمتیں 26.7 فیصد بڑھیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ کسی خاندان کو صرف کھانا نہیں خریدنا ہوتا۔
اسے کرایہ، بجلی، پٹرول، گاڑی کی قسط، انشورنس، بچوں کی تعلیم اور ادویات کے اخراجات بھی پورے کرنا ہوتے ہیں۔
اس لیے اشیائے خورونوش کی بظاہر محدود سالانہ مہنگائی بھی باقی تمام اخراجات کے ساتھ مل کر گھریلو بجٹ پر بھاری بوجھ بن جاتی ہے۔
گوشت متوسط خاندانوں کے لیے عیاشی بننے لگا
گوشت کی قیمتیں اس بحران کی واضح مثال ہیں۔
امریکا میں جون کے دوران ایک پاؤنڈ قیمے کی اوسط قیمت 6.82 ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2019 کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 79 فیصد زیادہ ہے۔
اس غیر معمولی اضافے کے پیچھے مویشیوں کی تعداد میں کمی، مغربی ریاستوں میں خشک سالی اور چارے، ایندھن اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات شامل ہیں۔
امریکا میں گوشت کی سب سے بڑی پیداوار رکھنے والی ریاست ٹیکساس میں بھی بعض خاندانوں نے بیف کی جگہ مرغی اور نسبتاً سستی پراسیس شدہ مصنوعات کا استعمال بڑھا دیا ہے۔
بیف لازانیا، فاہیتا، اسٹیک اور گوشت سے تیار ہونے والے دوسرے روایتی پکوان آہستہ آہستہ روزمرہ کے دسترخوان سے غائب ہو رہے ہیں۔
امریکا میں مقیم
پاکستانیوں نے
جون 2026 میں
تقریباً 29 کروڑ
68 لاکھ ڈالر
پاکستان بھیجے
یہ متبادل وقتی طور پر اخراجات کم کر سکتے ہیں، مگر ان کے ساتھ صحت کے خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں۔
کم آمدنی والے خاندان بعض اوقات تازہ اور متوازن غذا کے بجائے زیادہ نمک، چکنائی اور مصنوعی اجزا رکھنے والی سستی مصنوعات خریدنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
سان فرانسسکو میں جیک چانگ ہفتے میں 5 یا 6 دن حجامت کا کام کرتے ہیں۔
انہیں اپنی شریکِ حیات، 3 بچوں اور بعض اوقات اپنی والدہ کے اخراجات بھی اٹھانا پڑتے ہیں۔
گاہکوں کی تعداد میں کمی، دکان کے کرایے میں اضافے اور گاڑی کی ماہانہ قسط کے بعد ان کا خاندان سستے برانڈز، اسکول میں بچ جانے والے کھانے اور غذائی امداد سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ہوائی میں مسئلہ مزید پیچیدہ ہے، کیونکہ وہاں زیادہ تر غذائی مصنوعات بحری جہازوں کے ذریعے پہنچتی ہیں۔
ایندھن اور جہاز رانی کے اخراجات بڑھنے سے مقامی اشیا عام صارف کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں۔
ایک پیسٹری شیف کو مقامی اسٹرابیری اور دوسری بیریز چھوڑ کر میکسیکو یا کیلیفورنیا سے آنے والی سستی مصنوعات خریدنا پڑ رہی ہیں۔
ایک بجٹ اور دو ملکوں کے اخراجات
اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں کا اثر صرف ان امریکی خاندانوں تک محدود نہیں جن کا ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا۔
امریکا میں مقیم پاکستانی خاندان بھی اس دباؤ سے متاثر ہورہے ہیں، بالخصوص وہ گھرانے جو امریکی اخراجات پورے کرنے کے ساتھ پاکستان میں والدین، بہن بھائیوں یا دوسرے قریبی رشتہ داروں کی مالی مدد بھی کرتے ہیں۔
امریکی اعداد و شمار میں پاکستانی نژاد خاندانوں کے غذائی اخراجات کی الگ اور تازہ پیمائش دستیاب نہیں، تاہم مجموعی اعداد معاشی دباؤ کی شدت ظاہر کرتے ہیں۔
امریکی محکمۂ زراعت کے مطابق کم ترین آمدنی رکھنے والے امریکی گھرانے اپنی ٹیکس سے پہلے آمدنی کا اوسطاً 33 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔
پاکستانی گھرانے کا دسترخوان اپنی مخصوص ضروریات بھی رکھتا ہے۔
باسمتی چاول، آٹا، دالیں، گھی، مصالحے، چائے اور حلال گوشت محض غذائی اشیا نہیں بلکہ ثقافتی شناخت اور گھریلو روایات کا حصہ ہیں۔
ان میں سے کئی مصنوعات خصوصی جنوبی ایشیائی یا اسلامی اسٹورز سے خریدی جاتی ہیں۔ بعض اشیا بیرونِ ملک سے آتی ہیں یا صارف تک پہنچنے سے پہلے طویل فاصلے طے کرتی ہیں، اس لیے ایندھن، نقل و حمل، کسٹم ڈیوٹی، تجارتی محصولات اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کا اثر ان کی قیمتوں پر نسبتاً جلد پڑ سکتا ہے۔
نیویارک، ٹیکساس، کیلیفورنیا یا دوسری ریاستوں میں رہنے والا پاکستانی خاندان اب ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے جو چند برس پہلے عام نہیں تھے۔
مثلاً بریانی میں گوشت کی مقدار کم کرنا، بیف کی جگہ چکن استعمال کرنا، ہفتے میں دال اور سبزی زیادہ مرتبہ پکانا، چاول اور آٹا صرف رعایتی پیشکش کے دوران بڑی مقدار میں خریدنا یا ایک ہی خریداری مکمل کرنے کے لیے امریکی، ایشیائی اور اسلامی اسٹورز کے درمیان چکر لگانا۔
ان تبدیلیوں کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی خاندان اپنا روایتی کھانا مکمل طور پر ترک کر رہے ہیں۔ بیشتر گھرانے وہی پکوان تیار کرتے ہیں، مگر مقدار کم، اجزا سستے اور گوشت کا استعمال محدود کردیا جاتا ہے۔
خاندانی دعوتیں، جو پاکستانی ثقافت اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہیں، زیادہ مہنگی اور نسبتاً کم ہوتی جارہی ہیں۔
قیمے کی قیمت
2019 کے مقابلے
میں 79 فیصد
بڑھ گئی
پاکستان بھیجی جانے والی رقم کا دباؤ
امریکا میں مقیم پاکستانیوں کو ایک ایسے اضافی معاشی بوجھ کا سامنا ہے جو امریکی مہنگائی کے اعداد میں پوری طرح نظر نہیں آتا۔
یہ بوجھ پاکستان میں موجود اہلِ خانہ کو ہر ماہ بھیجی جانے والی رقم ہے۔
جون 2026 میں پاکستان کی سالانہ مہنگائی 11.1 فیصد تک پہنچ گئی۔
اگرچہ مجموعی قیمتوں کا اشاریہ مئی کے مقابلے میں 0.3 فیصد کم ہوا، مگر خوراک اور غیر الکحل مشروبات کی قیمتوں میں صرف ایک ماہ کے دوران 0.96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس صورتِ حال میں پاکستان میں موجود خاندان کو آٹا، چاول، سبزی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور ادویات خریدنے کے لیے پہلے سے زیادہ رقم درکار ہوتی ہے۔
نتیجتاً امریکا میں رہنے والے فرد سے زیادہ رقم بھیجنے کی توقع بڑھ جاتی ہے، جبکہ وہ خود بھی کرائے، پٹرول، انشورنس اور مہنگی خوراک کا سامنا کر رہا ہوتا ہے۔
اس تعلق کی معاشی اہمیت اعداد سے واضح ہوتی ہے۔
جون 2026 میں امریکا میں مقیم پاکستانیوں نے تقریباً 29 کروڑ 68 لاکھ ڈالر پاکستان بھیجے۔
اسی مہینے دنیا بھر سے پاکستان آنے والی مجموعی ترسیلاتِ زر تقریباً 3.5 ارب ڈالر رہیں۔
یوں پاکستانی تارکِ وطن کا بجٹ دو ملکوں کے اخراجات میں تقسیم ہوجاتا ہے:
امریکا میں اپنی زندگی کے اخراجات اور پاکستان میں خاندانی ذمہ داریوں کا بوجھ۔
جب دونوں ملکوں میں قیمتیں بیک وقت بڑھ رہی ہوں تو بچت، ہنگامی اخراجات، بچوں کی تعلیم یا مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے دستیاب رقم مزید محدود ہوجاتی ہے۔
خوراک کی مہنگائی کیوں بڑھی؟
موجودہ غذائی بحران کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں۔
کورونا وبا نے عالمی سپلائی چین متاثر کی، مزدوری اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھائے۔ اس کے بعد خشک سالی، سمندری طوفان، فصلوں کی بیماریوں اور برڈ فلو جیسے عوامل نے پیداوار کم کردی۔
روس اور یوکرین کی جنگ نے تیل، گندم اور کھاد کی عالمی رسد متاثر کی۔
متعدد ممالک کے تجارتی محصولات نے کافی، ٹماٹر، چاکلیٹ اور دوسری درآمدی اشیا مہنگی کردیں۔
اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے توانائی اور جہاز رانی کے خطرات دوبارہ بڑھا دیے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر نہیں کرتیں؛ ان کے اثرات کھاد، زرعی مشینری، پلاسٹک پیکجنگ، کولڈ اسٹوریج اور غذائی مصنوعات کی نقل و حمل تک پہنچتے ہیں۔
! یہ کیوں اہم ہے؟ پڑھیں +
خوراک کی مہنگائی صرف سپر مارکیٹ کے بل میں اضافہ نہیں کرتی، بلکہ خاندان کی صحت، بچوں کی غذائیت، تعلیم کے لیے بچت اور مستقبل کی مالی منصوبہ بندی کو بھی متاثر کرتی ہے۔
مہنگائی کی شرح کم ہونے کے باوجود قیمتیں اپنی پرانی سطح پر واپس نہیں آتیں۔ اسی لیے سرکاری اعداد میں بہتری دکھائی دینے کے باوجود عام صارف کو حقیقی معاشی ریلیف محسوس نہیں ہوتا۔
گوشت، تازہ پھل اور دوسری متوازن غذائیں مہنگی ہونے سے کم اور متوسط آمدنی والے خاندان سستی مگر نسبتاً کم صحت مند مصنوعات استعمال کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق جون 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ 130.3 پوائنٹس رہا۔
اگرچہ یہ مئی کے مقابلے میں 0.3 فیصد کم تھا، مگر ایک سال پہلے کے مقابلے میں اب بھی 1.7 فیصد زیادہ ہے۔
گوشت اور نباتاتی تیل کی قیمتوں میں دباؤ برقرار ہے۔
پاکستان میں خوراک سب سے بڑا مسئلہ کیوں ہے؟
پاکستان میں غذائی قیمتوں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ خوراک اور غیر الکحل مشروبات قومی مہنگائی کی پیمائش میں 34.58 فیصد وزن رکھتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں یہ حصہ 40 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آٹے، چاول، دالوں، سبزیوں یا کوکنگ آئل کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی خاندان کی آمدنی کا بڑا حصہ براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
پاکستانی خاندان کے لیے خوراک کوئی ایسا خرچ نہیں جسے مکمل طور پر ملتوی کیا جاسکے۔
بجلی کا استعمال کچھ کم کیا جاسکتا ہے، نئے کپڑے یا گھر کی کوئی چیز خریدنے کا فیصلہ مؤخر ہوسکتا ہے، لیکن بچوں کے لیے کھانا روزانہ درکار ہوتا ہے۔
اسی لیے اشیائے خورونوش کی مہنگائی کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں پر نسبتاً زیادہ اثر ڈالتی ہے۔
سعودی عرب اور خلیج میں پاکستانی کیسے متاثر ہوتے ہیں؟
سعودی عرب میں جون کے دوران عمومی مہنگائی نسبتاً محدود، یعنی 1.8 فیصد رہی، جبکہ خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں سالانہ 1.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم عمومی شرح کا مستحکم ہونا یہ نہیں بتاتا کہ تمام مصنوعات کی قیمتیں یکساں رہیں۔ مختلف اقسام کی درآمدی اشیا، سبزیوں، گوشت اور بعض مخصوص پاکستانی مصنوعات کی قیمتیں عمومی اوسط سے مختلف رفتار کے ساتھ بڑھ سکتی ہیں۔
PK پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ جانیں +
امریکا میں مقیم پاکستانی خاندانوں کو ایک ہی وقت میں دو ملکوں کی مہنگائی کا سامنا ہے۔ انہیں امریکا میں گروسری، کرایہ، پٹرول اور انشورنس کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ پاکستان میں اپنے اہلِ خانہ کی مالی مدد بھی جاری رکھنا ہوتی ہے۔
- حلال گوشت، باسمتی چاول، آٹا، دالیں، گھی اور مصالحے مہنگے ہونے سے روایتی پاکستانی دسترخوان کا خرچ بڑھ رہا ہے۔
- خاندان بیف کی جگہ چکن، جبکہ گوشت کی جگہ دالوں، چنوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا سکتے ہیں۔
- پاکستان میں 11.1 فیصد مہنگائی کے باعث والدین اور رشتہ داروں کو پہلے سے زیادہ رقم بھیجنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
- اضافی اخراجات بچوں کی تعلیم، اپنا گھر خریدنے اور مستقبل کے لیے کی جانے والی بچت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
- رعایتی پیشکش، ہفتہ وار کھانے کی منصوبہ بندی اور مختلف اسٹورز کی قیمتوں کا موازنہ اب گھریلو بجٹ کا ضروری حصہ بنتا جارہا ہے۔
خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی بھی امریکا میں موجود پاکستانیوں کی طرح دوہری ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔
انہیں اپنی مقامی رہائش، ٹرانسپورٹ، بچوں کی تعلیم اور خوراک کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ پاکستان میں موجود اہلِ خانہ کو رقم بھی بھیجنا ہوتی ہے۔
اگر پاکستان میں مہنگائی بڑھتی ہے تو رشتہ داروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترسیلاتِ زر میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ تارکِ وطن کی اپنی تنخواہ شاید اسی سطح پر برقرار رہے۔
خوراک کا بجٹ اب ہفتہ وار حکمتِ عملی ہے
موجودہ حالات میں اخراجات کم کرنے کا مطلب صرف ہر چیز کا سب سے سستا متبادل خریدنا نہیں، بلکہ باقاعدہ گھریلو حکمتِ عملی بنانا ہے۔
خاندان ہفتہ وار بجٹ مقرر کرسکتے ہیں، کھانوں کی فہرست رعایتی اشیا کے مطابق تیار کرسکتے ہیں، مختلف اسٹورز کی قیمتوں کا موازنہ کرسکتے ہیں اور صرف وہی اشیا بڑی مقدار میں خرید سکتے ہیں جو واقعی استعمال ہوتی ہوں۔
دال، چنے، لوبیا، انڈے اور چکن نسبتاً کم قیمت میں پروٹین فراہم کرسکتے ہیں۔
اسی طرح ہفتے کے کھانوں کی پیشگی منصوبہ بندی اچانک اور غیر ضروری خریداری کو کم کرسکتی ہے۔
خوراک کا ضیاع روکنا بعض اوقات رعایتی پیشکش تلاش کرنے سے بھی زیادہ اہم ہے۔
جو سستی چیز استعمال نہ ہونے کے باعث کوڑے میں چلی جائے، وہ مکمل مالی نقصان ہے۔
جب خوراک ہجرت کی معاشی قیمت بن جائے
امریکا میں پاکستانی خاندان کے لیے مہنگائی صرف کھانے کی نوعیت تبدیل کرنے کا مسئلہ نہیں۔
اس کا تعلق ان مقاصد سے بھی ہے جن کے لیے خاندان نے امریکا میں زندگی اختیار کی تھی:
بچوں کی بہتر تعلیم، اپنا گھر، مالی تحفظ، مستقبل کی بچت اور پاکستان میں والدین کی مدد۔
جب خوراک، مکان، توانائی اور ٹرانسپورٹ آمدنی کا بڑھتا ہوا حصہ لے جائیں تو خاندان کو دوسرے منصوبے مؤخر کرنا پڑتے ہیں۔
باہر کھانا، تفریح، سفر اور غیر ضروری خریداری کم ہوجاتی ہے۔
بچوں کی اعلیٰ تعلیم یا اپنا گھر خریدنے کے لیے کی جانے والی بچت بھی متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ پاکستان رقم بھیجنے کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔
یہ کہانی محض سیب، آٹے، چاول یا گوشت کی قیمتوں کی نہیں۔
یہ اس لمحے کی کہانی ہے جب انسان سپر مارکیٹ میں اپنی پسند کے مطابق فیصلہ کرنے کی آزادی کھونے لگتا ہے اور خوراک روزمرہ زندگی کے فطری حصے کے بجائے ایک مشکل معاشی مساوات بن جاتی ہے۔
جب ’آج رات کیا پکائیں؟‘ کے جواب میں یہ کہنا پڑے کہ ’جو چیز رعایت پر مل گئی‘، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مہنگائی سرکاری جدولوں سے نکل کر گھر کے دسترخوان تک پہنچ چکی ہے۔
🛒
اصل اور بنیادی ذرائع
امریکا میں گروسری کی مہنگائی، پاکستانی خاندانوں پر ممکنہ اثرات، ترسیلاتِ زر، پاکستان کی مہنگائی اور عالمی غذائی قیمتوں سے متعلق بنیادی ذرائع
7 بنیادی ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
امریکا میں گروسری کی مہنگائی، پاکستانی خاندانوں پر ممکنہ اثرات، ترسیلاتِ زر، پاکستان کی مہنگائی اور عالمی غذائی قیمتوں سے متعلق بنیادی ذرائع