نیپال میں تباہ کن سیلاب اور گلیشیئر کے ملبے سے بچنے کے لیے 8 سالہ زوئیال غالی جنگل کی طرف بھاگا اور درخت پر چڑھ گیا۔
اگلے دن وہ زخمی حالت میں ملا، جبکہ اس کی ماں اسے مردہ سمجھ بیٹھی تھی۔
اس بچے کی کہانی کے پیچھے 17 ہزار سے زیادہ متاثرہ بچوں، تباہ اسکولوں اور بچھڑے خاندانوں کا بڑا انسانی المیہ موجود ہے۔
26 اگست کی صبح نیپال کے 8 سالہ بچے زوئیال غالی کے لیے بھی دوسرے دنوں جیسی ہی تھی۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ اسکول گیا جبکہ اس کی 28 سالہ ماں ماتی مایا تمانگ گھر میں کپڑا بننے کا کام کرتی رہی۔
کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند ہی لمحوں بعد یہ خاندان ایسی آفت کا سامنا کرنے والا ہے جو ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گی۔
نیپال کے شمالی پہاڑی علاقے راسوا میں لانگ تانگ لیرونگ چوٹی کے قریب گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹا اور برف، چٹانوں، مٹی اور پانی کا خوفناک ریلا وادیوں کی طرف بڑھنے لگا۔ چند لمحوں میں سڑکیں، عمارتیں اور آبادیاں اس کی زد میں آگئیں۔
Zoyal Ghale, who ran into a forest and climbed trees to escape Nepal's deadly floods, was reunited with his mother on Friday after she had begun to fear he and his brother had both perished in their school. https://t.co/Q63LsebRNS https://t.co/Q63LsebRNS
— Reuters Science News (@ReutersScience) August 29, 2026
زوئیال کی ماں کو ابتدا میں لگا کہ شاید زلزلہ آیا ہے۔ وہ فوراً بچوں کے اسکول کی طرف نکلی، جو عام حالات میں 15 سے 20 منٹ کی مسافت پر تھا، مگر وہاں پہنچ کر اسے اپنا علاقہ ہی پہچان میں نہیں آیا۔
سڑکیں غائب ہوچکی تھیں، جگہ جگہ ملبہ اور بڑے پتھر پڑے تھے اور جس اسکول میں اس کے بچے موجود تھے، وہ بھی تباہ ہوچکا تھا۔
مزید پڑھیں
اندھیرا چھایا اور بچہ جنگل کی طرف بھاگ گیا
زوئیال کے مطابق اسکول کے آس پاس اچانک ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا۔
پانی اور ملبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ اسکول سے بھاگا اور قریب موجود جنگل کی طرف چلا گیا۔
جب اسے محسوس ہوا کہ زمین پر رہنا خطرناک ہے تو دونوں بچوں نے
درختوں پر چڑھنے کا فیصلہ کیا۔
ایک 8 سالہ بچے کا یہی فوری فیصلہ اس کی جان بچانے کا سبب بن گیا۔
ماہرین کے مطابق گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والا ملبے اور پانی کا ریلا انتہائی تیز رفتار تھا۔
رائٹرز کے مطابق ایک ماہر نے بعض مقامات پر اس کی رفتار تقریباً 50 میٹر فی سیکنڈ تک بتائی، جبکہ تباہی کا اثر کئی کلومیٹر تک پھیلا۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTنیپال کا المیہ — اہم نکات ⌄
- ✓8 سالہ زوئیال غالی سیلاب سے جان بچانے کے لیے جنگل کی طرف بھاگا اور درخت پر چڑھ گیا۔
- ✓اگلے دن وہ زخمی حالت میں ملا؛ اس کی دائیں ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی اور اسے علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔
- ✓اس کی ماں کئی پناہ گاہوں میں تلاش کے بعد سمجھنے لگی تھی کہ شاید دونوں بیٹے مارے گئے ہیں۔
- ✓ایک فون کال نے کہانی بدل دی اور ماں کو بتایا گیا کہ زوئیال زندہ ہے۔
- ✓یونیسف کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 17 ہزار سے زیادہ بچوں کو فوری انسانی امداد درکار ہے۔
- ✓یہ کہانی ایک بچے کی بقا سے آگے بڑھ کر تباہ شدہ اسکولوں، بچھڑے خاندانوں اور بحالی کے بڑے بحران کی تصویر بن گئی۔
ہاتھ میں صرف 20 روپے
اگلے دن امدادی ٹیموں نے زوئیال کو تلاش کرلیا۔
اس کی دائیں ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی، چہرے پر زخم اور خراشیں تھیں اور وہ اپنے خاندان سے بالکل جدا ہوچکا تھا۔
اسے نواکوت کے ایک چھوٹے اسپتال میں منتقل کیا گیا۔
بچے کے ہاتھ میں صرف 20 نیپالی روپے تھے۔
حکام کے مطابق اسے بچانے والے پولیس اہلکاروں نے اسے دو 10 روپے کے نوٹ اس لیے دیئے تھے تاکہ وہ ان کے ساتھ اسپتال جانے پر آمادہ ہوجائے۔
تباہی کے بیچ یہ چھوٹی سی تفصیل اس سانحے کی شدت بیان کرتی ہے۔
چند گھنٹے پہلے تک جو بچہ اپنے بھائی کے ساتھ اسکول میں تھا، وہ اب ایک اسپتال میں زخمی پڑا تھا اور اسے یہ معلوم تک نہیں تھا کہ اس کی ماں کہاں ہے۔
ماں کو لگا دونوں بچے مر چکے ہیں
دوسری جانب ماتی مایا ایک امدادی مرکز سے دوسرے مرکز تک اپنے بچوں کو تلاش کرتی رہی۔
وہ زندہ بچ جانے والوں کی فہرستیں دیکھتی، لوگوں سے پوچھتی اور عارضی پناہ گاہوں میں جاتی رہی۔
جب کئی مقامات پر بھی اس کے بیٹوں کا کوئی سراغ نہ ملا تو اسے خوف ہونے لگا کہ دونوں بچے اسکول کے ملبے میں مارے گئے ہیں۔
لیکن پھر ایک فون کال نے پوری کہانی بدل دی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXزوئیال غالی: فیکٹ باکس ⌄
رائٹرز کی ایک صحافی اسپتال میں زوئیال سے ملی تھی اور اس کی تصویر بھی بنائی تھی تاکہ خاندان تک اس کی خبر پہنچ سکے۔ اس نے اپنا نمبر اسپتال میں چھوڑ دیا تھا۔
کسی طرح یہ نمبر زوئیال کی ماں تک پہنچا۔
جب اسے بتایا گیا کہ اس کا بیٹا زندہ ہے اور علاج کے لیے کٹھمنڈو منتقل کیا گیا ہے تو ابتدا میں اسے یقین ہی نہیں آیا۔
وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو پہلے ہی زندہ تلاش کرچکی تھی۔
اب بڑے بیٹے کی خبر بھی مل گئی۔
بالآخر جب ماں اسپتال پہنچی اور اس نے زوئیال کو زندہ دیکھا تو اس کے لیے یہ منظر کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
ہر ماں اتنی خوش قسمت نہیں
زوئیال کی کہانی کا انجام خوشگوار رہا، لیکن نیپال کی مجموعی تصویر کہیں زیادہ دردناک ہے۔
حکام کے مطابق 29 اگست تک اس تباہی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے تھے جبکہ ہزاروں لوگ اب بھی لاپتا تھے۔
خراب موسم اور تباہ شدہ سڑکوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں۔
بچوں پر اس آفت کے اثرات خاص طور پر سنگین ہیں۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ کہانی کیوں اہم ہے؟ ⌄
زوئیال کی کہانی تین سطحوں پر نیپال کے بحران کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے:
اصل اہمیت: زوئیال ایک فرد ہے، مگر اس کی کہانی ہزاروں بچوں کے خوف، نقصان اور امید کی نمائندگی کرتی ہے۔
یونیسف کے مطابق راسوا، نواکوت اور دھادنگ سمیت متاثرہ علاقوں میں 17 ہزار سے زیادہ بچوں کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
کم از کم 18 اسکول مکمل تباہ ہوئے جبکہ مزید درجنوں کو نقصان پہنچا۔ تقریباً 10 ہزار اسکول جانے والے بچے فوری تعلیمی مدد کے محتاج ہیں۔
مسئلہ صرف اسکولوں اور گھروں کی تباہی تک محدود نہیں۔
صاف پانی کی کمی، طبی سہولیات کا متاثر ہونا، غذائی قلت، بیماریوں کا خطرہ اور خاندانوں سے جدا ہوجانے والے بچوں کا تحفظ اب نئے بحران بن رہے ہیں۔
یونیسف مقامی حکام کے ساتھ مل کر ایسے بچوں کی شناخت کررہا ہے جو اپنے والدین سے بچھڑ گئے ہیں، جبکہ پانی، صحت، خوراک اور نفسیاتی مدد فراہم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
سیلاب اتر گیا، بحران باقی ہے
پانی کم ہونے کے باوجود خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
پہاڑوں پر ملبے کے باعث نئی جھیلیں بننے کی اطلاعات ہیں اور حکام کو خدشہ ہے کہ اگر یہ اچانک ٹوٹیں تو مزید سیلاب آسکتے ہیں۔
ماہرین ابھی یہ بھی جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ گلیشیئر ٹوٹنے کی اصل وجہ کیا تھی اور موسمیاتی تبدیلی نے اس میں کس حد تک کردار ادا کیا۔
↘ OVERSEAS POST | TIMELINEزوئیال کی کہانی — ٹائم لائن ⌄
حکومت کے مطابق تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر 9 پر اربوں ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔
لیکن زوئیال کے خاندان کے لیے بحالی کا آغاز کسی سڑک، پل یا بجلی گھر سے نہیں بلکہ اسپتال کے ایک بستر سے ہوا، جہاں ایک زخمی بچہ اپنی ماں کا منتظر تھا۔
زوئیال اس لیے بچ گیا کیونکہ وہ بھاگا، جنگل پہنچا اور درخت پر چڑھ گیا۔
مگر نیپال کے ہزاروں دوسرے بچوں کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
کسی کا گھر تباہ ہوا، کسی کا اسکول بہہ گیا، کوئی اپنے والدین سے جدا ہے اور کئی خاندان اب بھی اپنے لاپتا افراد کے واپس آنے کے منتظر ہیں۔
نیپال میں پانی شاید اترنا شروع ہوگیا ہو، لیکن انسانی المیہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
متعدد آراء
جہاں پر بڑی بڑی گاڑیاں اور درخت کھلونوں کی طرح پانی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا وہاں پر ان چھوٹے بچوں کا بچ جانا اللہ تعالی کی قدرت بیان کرتا ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے زندہ رکھتا ہے اور یہ صرف اسی مالک پروردگار کی قدرت ہے
بے شک