غزہ کی پٹی میں زمینی صورتحال کے اشاریے خوراک کے بحران میں غیر معمولی شدت کو ظاہر کر رہے ہیں، جہاں ضرورت اور دستیاب اشیا کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔
سرحدی راستوں پر پابندیوں اور امداد کی ترسیل میں کمی کے باعث عوام شدید غذائی قلت اور ممکنہ قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے غزہ سے نمائندے ایمن الهسی کے مطابق، غزہ اس وقت، وقت کے خلاف دوڑ میں ہے اور صورتحال تیزی سے بڑے پیمانے پر قحط کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ان کے مطابق اگر حالات یہی رہے تو مختصر مدت میں انسانی تباہی مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بار بار
خبردار کیا جا رہا ہے کہ غزہ دوبارہ قحط کی طرف جا رہا ہے، جبکہ زمینی حقائق انسانی صورتحال میں تیزی سے بگاڑ کو ظاہر کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال بھی غزہ میں کئی ماہ تک قحط جیسی صورتحال رہی، جبکہ اس دوران سینکڑوں ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔
حکومتی میڈیا دفتر کے مشیر تیسیر محیسن نے کہا ہے کہ یہ صورتحال ایک منظم پالیسی کے تحت خوراک کی قلت اور آبادی پر دباؤ کا نتیجہ ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو غزہ ’تباہی کے دہانے‘ پر پہنچ جائے گا۔
ضروریات سے کم رسد
اعداد و شمار کے مطابق غزہ کو روزانہ تقریباً 450 ٹن روٹی کی ضرورت ہے، جبکہ صرف 200 ٹن دستیاب ہے، جو مطلوبہ ضرورت کا نصف سے بھی کم ہے۔
اسی طرح طے شدہ معاہدے کے مطابق روزانہ 600 ٹرک داخل ہونے چاہئیں مگر حقیقت میں صرف 38 فیصد ٹرک ہی پہنچ رہے ہیں، جس سے بنیادی اشیا کی شدید کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مارکیٹ میں غذائی ضروریات کا 50 فیصد سے بھی کم دستیاب ہے، جبکہ صرف 30 فیصد آبادی گوشت اور مرغی خریدنے کی استطاعت رکھتی ہے اور تقریباً 99 فیصد لوگ بنیادی طور پر انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔
بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال
لاکھوں بے گھر افراد خیموں میں انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ایندھن کی شدید کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
حکومتی ترجمان کے مطابق ایک خاندان کو دو ماہ میں صرف 8 کلو گیس ملتی ہے، جو ایک ماہ کی ضرورت کے لیے بھی ناکافی ہے، جس کے باعث لوگ مہنگے اور متبادل ذرائع پر مجبور ہیں۔