ماہرینِ ماحولیات نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے رجحان کو سمجھنے کے لیے 2 اہم مواقع مقرر کیے ہیں۔ ایک 2050ء اور دوسرا 2100۔
مزید پڑھیں
یہ پیش گوئیاں حتمی نہیں بلکہ انسانی اقدامات کے نتیجے میں ممکنہ منظرنامے ہیں، جن میں زمین کا درجہ حرارت بڑھنا، سمندروں کی سطح بلند ہونا اور شدید موسمی آفات کا خطرہ شامل ہے۔
درجہ حرارت میں اضافے کے خدشات
انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) کے مطابق صنعتی دور سے قبل کے مقابلے میں 2050 تک عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت
1.6 سے 1.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انتہائی حالات میں یہ اضافہ 2.4 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے، جس سے خشکی کے علاقے سمندروں کی نسبت زیادہ متاثر ہوں گے۔
سمندر کی سطح میں اضافہ
IPCC کی رپورٹ کے مطابق 2050 تک سمندر کی سطح میں 15 سے 29 سینٹی میٹر تک اضافہ متوقع ہے۔
یہ اضافہ ساحلی علاقوں، نشیبی ڈیلٹاز اور چھوٹے جزائر کے لیے شدید خطرہ ہے۔ چین، بھارت، بنگلہ دیش اور خلیج عرب جیسے خطے مستقبل میں سیلاب کے خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
شدید گرمی کی لہریں
گزشتہ ادوار میں جو ہیٹ ویو 10 سال میں ایک بار آتی تھی، وہ 2 ڈگری اضافے کے بعد ہر دہائی میں 5 سے 6 بار آئے گی۔
قاہرہ، بغداد، ریاض اور لاہور جیسے شہروں میں گرمی کا یہ نیا نظام انسانی صحت، توانائی کی کھپت اور کارکردگی کے لیے بڑا چیلنج بن جائے گا۔
سیلاب اور قحط کا دہرا بحران
ماحول میں نمی کی مقدار بڑھنے سے اچانک سیلابوں کا خطرہ بڑھ جائے گا، جبکہ دوسری طرف خشک سالی کا مسئلہ بھی سنگین ہوگا۔
اسی طرح زرعی زمینوں کی نمی ختم ہونے سے گندم، چاول اور مکئی کی فصلیں بری طرح متاثر ہوں گی، جس سے عالمی غذائی تحفظ کے لیے نئے خدشات پیدا ہوں گے۔
جنگلات میں آگ اور آفات
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیات کے مطابق عالمی درجہ حرارت بڑھنے سے 2050 تک دنیا بھر میں شدید آتش زدگی کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
سب سے بڑا خطرہ آفات کا ہے، جہاں گرمی، خشک سالی اور سیلاب ایک ساتھ مل کر انفرا اسٹرکچر، صحتِ عامہ اور معاشی نظام پر ناقابلِ تلافی بوجھ ڈالیں گے۔
2050 کا منظر نامہ ماہرین کی جانب سے ایک واضح انتباہ ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں معمولی فرق بھی انسانی زندگی کے لیے گہرے اثرات رکھتا ہے۔
طبی سہولیات پر دباؤ، بڑھتی ہوئی انشورنس لاگت اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ثابت کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ایک سائنسی بحث نہیں، بلکہ بقا کا معاشی اور سماجی سوال بن چکا ہے۔