ایشیائی مارکیٹ میں برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو برینٹ خام تیل 115 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن نے اسٹریٹجک ذخائر سے کروڑوں بیرل تیل جاری کرنے اور ایرانی تیل کی چین منتقلی پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ایشیائی منڈیوں میں آج منگل کے روز کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے مستقبل پر خدشات برقرار ہیں جبکہ تہران کے امریکی تجویز پر ردعمل نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدے 52 سینٹ یا 0.50 فیصد اضافے کے ساتھ 104.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس 78 سینٹ یا 0.80 فیصد اضافے کے بعد 98.85 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
دونوں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز بھی تقریباً 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ’ٹوٹنے کے قریب‘ ہے، جبکہ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات میں کئی اہم معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں، جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایران پر امریکی بحری محاصرہ ختم کرنا، ایرانی تیل کی فروخت بحال کرنا اور جنگی نقصانات کا ازالہ شامل ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری پر بھی زور دیا، جہاں سے دنیا
بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل گزرتی ہے۔
العربیہ کے مطابق مارکیٹ تجزیاتی ادارے ’کے سی ایم ٹریڈ‘ کے چیف تجزیہ کار ٹِم ووٹرر نے ایک ای میل پیغام میں کہا کہ جب تک امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود رہے گی، اس وقت تک تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات کے باعث تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اپنی برآمدات کم کرنا شروع کر دی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق اوپک کی تیل پیداوار اپریل میں دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
دوسری جانب ارامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات میں رکاوٹیں عالمی منڈی کی معمول پر واپسی کو 2027 تک مؤخر کر سکتی ہیں، جبکہ ہر ہفتے تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل کی کمی واقع ہو رہی ہے۔
اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی اسٹریٹجک ذخائر سے 5 کروڑ 33 لاکھ بیرل خام تیل قرض کی بنیاد پر جاری کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا، تاکہ عالمی تیل منڈی کو مستحکم کیا جا سکے۔
جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی اسٹریٹجک ذخائر سے خام تیل کی ایک کھیپ ترکی روانہ کر دی گئی ہے، جو بحیرہ روم کے کنارے واقع اس ملک کو اس نوعیت کی پہلی ترسیل ہے۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان متوقع ملاقات سے چند روز قبل واشنگٹن نے 3 افراد اور 9 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ایرانی تیل کی چین منتقلی میں سہولت فراہم کر رہی تھیں۔