مشہور امریکی کالم نگار تھامس فریڈمین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ محاذ آرائی سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جدید تنازعات اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں ناقص سمجھ بوجھ واضح طور پر سامنے آ گئی ہے۔
مزید پڑھیں
فریڈمین نے نیویارک ٹائمز میں شائع اپنے مقالے میں لکھا کہ صدر ٹرمپ اکثر سیاست میں پوکر کے کھیل کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے یوکرینی صدر زیلنسکی اور ایرانی قیادت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ محض غلط فہمی ہے کہ اُن کے پاس کوئی پتے نہیں ہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق خود امریکی صدر کے پاس وہ پتے موجود نہیں ہیں جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس شرط پر جوا کھیل رہے ہیں کہ ایران پر تیل کی سخت پابندیاں اسے امریکی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لے آئیں گی۔
دوسری جانب تہران اپنی معاشی بقا اور آبنائے ہرمز کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ایران توانائی کی عالمی قیمتیں بڑھا کر امریکہ پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ اسے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکے۔
فریڈمین نے سوال اٹھایا کہ کیا ایران امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی طاقت کے سامنے کیسے کھڑا ہے؟
اگر ایسا ہے تو اِس کی وجہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے اثرات کو کم سمجھنا ہے، جس سے حقیقی طور پر عالمی توازن بدل رہا ہے۔
اس تبدیلی کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یوکرین سستے ڈرونز سے روس کے اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسی طرح ایران نے شاہد ڈرونز کے ذریعے خلیج کے ڈیجیٹل ڈھانچے پر حملے کر کے اپنی طاقت دکھائی ہے۔
جدید دور میں مسلح گروہ سستے میزائل بنا کر مہنگے ترین دفاعی نظاموں کو چیلنج کر رہے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی نے چھوٹی قوتوں کو یہ صلاحیت دے دی ہے کہ وہ کم وسائل کے باوجود ڈیجیٹل آلات کے ذریعے بڑے نتائج حاصل کر سکیں۔
مائیکروسافٹ کے سابق ماہر کریگ مونڈی کے حوالے سے بتایا گیا کہ دنیا معلومات کے عہد سے نکل کر مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
اب تربیت یافتہ افراد کی جگہ خودکار ایجنٹس لے رہے ہیں جو پیچیدہ آپریشنز خود کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز اب سستے داموں سائبر حملوں کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
ان آلات کے ذریعے سسٹم کی خامیاں تلاش کرنا آسان ہو گیا ہے، جس سے ان گروہوں کو بھی طاقت مل گئی ہے جن کا پہلے کوئی اثر نہیں تھا۔
فریڈمین نے مشورہ دیا کہ امریکہ اور چین کو مصنوعی ذہانت کے خطرات روکنے کے لیے باہمی تعاون کرنا چاہیے۔
جس طرح سرد جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدے ہوئے تھے، ویسے ہی اب ڈیجیٹل خطرات پر اتفاق رائے ضروری ہے۔
اگر بڑی طاقتوں نے تعاون نہ کیا تو دنیا کو غیر معمولی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
موجودہ دور میں چھوٹے گروہ اور افراد کم لاگت میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلا سکتے ہیں، جس سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔