امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آج پیر کے روز سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور رہنمائی کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک نے اس حوالے سے درخواست کی تھی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ اقدام ایران، مشرقِ وسطیٰ اور امریکہ کے مفادات کے لئے ہے اور اس کے تحت جہازوں کو خطرناک سمندری راستوں سے محفوظ انداز میں نکالنے میں مدد دی جائے گی تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں بغیر رکاوٹ جاری رکھ سکیں۔
مزید پڑھیں
انہوں نے اس اقدام کو ’انسانی ہمدردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی جہاز ایسے ہیں جو پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے پاس خوراک اور بنیادی ضروریات کم ہوتی جا رہی ہیں۔
تاہم امریکی صدر نے اس مشن کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
بعد ازاں دو امریکی حکام نے واضح کیا کہ ضروری نہیں کہ امریکی بحریہ ہر تجارتی جہاز کو براہِ راست اسکورٹ کرے، بلکہ انہیں محفوظ
راستوں سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی خاص طور پر ان علاقوں سے بچنے کے لیے جہاں ممکنہ طور پر ایرانی بارودی سرنگیں موجود ہو سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق امریکی بحری جہاز قریبی علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر ایرانی حملوں کو روکا جا سکے۔
اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے تحت میزائلوں سے لیس جنگی جہاز، 100 سے زائد لڑاکا طیارے اور 15 ہزار فوجی تعینات کئے جائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد 8 اپریل کو جنگ بندی تو ہوئی، مگر اب تک کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں ہو سکا۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) May 3, 2026
ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی عملی بندش نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کو متاثر کیا ہے جبکہ امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ نافذ کر رکھا ہے۔
تاہم حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے نئے امن منصوبے کی پیشکش اور امریکی ردعمل کے بعد مذاکرات میں پیش رفت کے آثار بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے آئندہ دنوں میں کسی ممکنہ حل کی امید پیدا ہو گئی ہے۔