ذرائع کے مطابق معاہدے کا پہلا مرحلہ 30 دن کے اندر جنگ بندی کو مکمل جنگ کے خاتمے میں تبدیل کرنے، بین الاقوامی نگرانی کے نظام کے قیام اور باہمی عدم جارحیت کی ضمانت پر مشتمل ہے۔
اسی مرحلے میں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے، ایرانی بندرگاہوں سے محاصرہ ختم کرنے اور امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
دوسرے مرحلے میں ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کو ممکنہ طور پر 15 سال تک منجمد کرنے، بعد ازاں محدود سطح ’3.6 فیصد‘ پر بحال کرنے اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل پر فیصلے شامل ہیں جبکہ اس کے بدلے پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی تدریجی واپسی کی بات کی گئی ہے۔
ایران کا یوٹرن: جوہری پروگرام، ہرمز اور جنگ سب میز پر
Overseas Post