اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

ایران کا یوٹرن: جوہری پروگرام، ہرمز اور جنگ سب میز پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا مذاکرات
ڈرونز اور میزائل حملوں نے خطرات میں اضافہ کر دیا

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تہران نے اپنے ترمیم شدہ منصوبے میں نمایاں رعایتیں پیش کر دی ہیں، جن میں سب سے اہم جوہری پروگرام کو براہ راست مذاکرات میں شامل کرنے پر آمادگی شامل ہے حالانکہ پہلے اسے مؤخر کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق ایران نے یورینیم افزودگی کی شرح تقریباً 3.5 فیصد تک محدود کرنے اور اپنے ذخائر کو بتدریج کم کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے، جس کا مقصد عالمی خدشات کو کم کرنا اور معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں

نیا ایرانی منصوبہ طویل مدتی جنگ بندی پر مرکوز ہے، جس کے لیے ایک ماہ کے اندر 3 مراحل پر مشتمل مذاکراتی فریم ورک تجویز کیا گیا ہے۔ 

اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی و علاقائی نگرانی کے تحت بحری آمد و رفت کی بحالی اور امریکی بحری محاصرے کے خاتمے کے بدلے اسے مرحلہ وار کھولنے کی پیشکش بھی شامل ہے۔

ایران نے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے اپنے سابقہ مطالبے سے بھی 

پسپائی اختیار کرتے ہوئے صرف اپنے گرد فوجی دباؤ کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مستقبل میں حملوں سے بچاؤ کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں اور چین و روس کے کردار پر زور دیا ہے۔

ٹرمپ ایران جنگ
ایران نے پہلی بار جوہری پروگرام کو مذاکرات میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی (فوٹو: العربیہ)

باخبر ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ منصوبہ 14 نکات پر مشتمل ہے، جس میں جنگ کے مستقل خاتمے کی بات کی گئی ہے۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے تاہم بعد میں انہوں نے اس پر تحفظات کا اظہار بھی کیا، خاص طور پر جوہری معاملے کو مؤخر کرنے پر۔

تین مراحل پر
مشتمل منصوبہ:
جنگ بندی،
جوہری کنٹرول
اور علاقائی
سیکیورٹی نظام

ذرائع کے مطابق معاہدے کا پہلا مرحلہ 30 دن کے اندر جنگ بندی کو مکمل جنگ کے خاتمے میں تبدیل کرنے، بین الاقوامی نگرانی کے نظام کے قیام اور باہمی عدم جارحیت کی ضمانت پر مشتمل ہے۔
اسی مرحلے میں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے، ایرانی بندرگاہوں سے محاصرہ ختم کرنے اور امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
دوسرے مرحلے میں ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کو ممکنہ طور پر 15 سال تک منجمد کرنے، بعد ازاں محدود سطح ’3.6 فیصد‘ پر بحال کرنے اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل پر فیصلے شامل ہیں جبکہ اس کے بدلے پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی تدریجی واپسی کی بات کی گئی ہے۔

تیسرے مرحلے میں ایران خطے کے ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک مکالمے کے ذریعے ایک جامع علاقائی سیکیورٹی نظام کے قیام کی تجویز پیش کرتا ہے، جس کا مقصد طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔