امریکی نیوی سیل کے سابق رکن رابرٹ اونیل نے 15 سال قبل ایبٹ آباد میں ہونے والے خفیہ آپریشن کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق اونیل نے بتایا کہ اس مشن کا بنیادی مقصد 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کا انتقام لینا تھا، نہ کہ کوئی شہرت حاصل کرنا۔
اونیل نے بتایا کہ ٹیم کو 3 ہفتے قبل مشن کی اطلاع ملی، مگر ہدف یا مقام پوشیدہ رکھا گیا۔
انہیں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ یہ کوئی مشق نہیں بلکہ حقیقی
آپریشن ہے۔ ٹریننگ کے دوران بن لادن کے کمپاؤنڈ کا ہو بہو ماڈل تیار کر کے مشقیں کی گئیں۔
حادثہ اور مشن کی پیچیدگیاں
انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران بدترین خدشات تب حقیقت بنے جب ٹیم کو لے جانے والا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کمپاؤنڈ کے اندر ہی گر کر تباہ ہو گیا۔
اس حادثے نے آپریشن کے آغاز ہی میں شدید پیچیدگیاں پیدا کر دیں، جس سے مشن کی کامیابی خطرے میں پڑ گئی تھی۔
آخری 9 منٹ
رات 12:30 بجے لینڈنگ کے بعد آپریشن صرف 9 منٹ تک جاری رہا۔
ٹیم نے عمارت پر دھاوا بولا اور بن لادن کے بیٹے سے جھڑپ کے بعد بالا خانے تک پہنچے۔ اونیل نے بتایا کہ بن لادن اپنی اہلیہ کے پیچھے موجود تھا جہاں انہوں نے اسے 3 گولیاں ماریں۔
انٹیلی جنس مواد کا حصول اور واپسی کا سفر
بن لادن کی ہلاکت کے بعد ’جیرونیمو‘ کوڈ ورڈ استعمال کیا گیا اور ٹیم نے وہاں موجود کمپیوٹرز اور حساس دستاویزات قبضے میں لیں۔
تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کو پاکستانی حکام کے ہاتھ لگنے سے بچانے کے لیے دھماکے سے اڑا دیا گیا تاکہ ٹیکنالوجی محفوظ رہ سکے۔
افغان سرحد تک پرخطر واپسی
آپریشن کا سب سے خطرناک مرحلہ 90 منٹ پر محیط واپسی کا فضائی سفر تھا۔
ٹیم کو ہر لمحہ پاکستانی طیاروں کے ذریعے روکے جانے کا خدشہ تھا۔ جب پائلٹ نے افغان فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاع دی، تو یہ پوری ٹیم کے لیے زندگی کا سب سے پرسکون لمحہ تھا۔
اونیل نے اعتراف کیا کہ بن لادن کو سمندر میں دفن کرنے کا فیصلہ ان کے نزدیک درست نہیں تھا، کیونکہ اس سے عوام کو انصاف کا کھلم کھلا احساس نہیں ملا۔
یاد رہے کہ یہ آپریشن 2 مئی 2011 کو صدر باراک اوباما کے حکم پر کیا گیا، جس نے ایک دہائی طویل تعاقب کا خاتمہ کیا۔