اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

ہرمز میں ناکہ بندی ناکام: 56 فیصد جہاز پابندیاں توڑ کر گزر گئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز پابندیاں
145 میں سے 81 جہاز امریکی فیصلے کے باوجود آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب

جہاز رانی کے اعداد و شمار کے ایک تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں سے منسلک جہازوں پر امریکی پابندیوں کے نفاذ کے بعد، 145 میں سے 81 جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب رہے، جو مجموعی نقل و حرکت کا تقریباً 56 فیصد بنتا ہے۔

’میرین ٹریفک‘ پلیٹ فارم کے مطابق 53 ایسے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جو یا تو ایرانی بندرگاہوں سے منسلک تھے یا ایران کی طرف جا رہے تھے یا وہاں سے آ رہے تھے یا ایرانی پرچم لہرا رہے تھے، جن میں سے 11 جہاز امریکی پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیں

اس کے علاوہ، 28 مزید جہاز، جو پابندیوں کی فہرست میں شامل تھے مگر ایرانی بندرگاہوں سے منسلک نہیں تھے، بھی آبنائے ہرمز عبور کر گئے، یوں پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی مجموعی تعداد 78 ہو گئی۔

اسی دوران 11 جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں ناکام رہے، جنہیں چین، بھارت، پاکستان اور ترکی کی کمپنیوں کی جانب سے چلایا جا رہا تھا۔

یہ تجزیہ اُن جہازوں کی نقل و حرکت پر مبنی ہے جنہوں نے آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت اپنا ٹریکنگ سسٹم فعال رکھا تاہم کچھ جہازوں نے عبور سے قبل اپنے سگنل بند کر دیے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ChatGPT Image 2 مايو 2026، 01 31 43 م

امریکی مرکزی کمان نے واضح کیا تھا کہ یہ پابندیاں صرف اُن جہازوں پر لاگو ہوتی ہیں جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہوتے یا وہاں سے نکلتے ہیں جبکہ دیگر ممالک کے درمیان گزرنے والے جہاز اس میں شامل نہیں۔

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں کم از کم 15 جنگی جہاز تعینات کئے ہیں، جن میں ایک طیارہ بردار جہاز اور 11 تباہ کن جنگی جہاز شامل ہیں، جیسا کہ سی این این نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا۔

تاہم، فیصلے کے پہلے 24 گھنٹوں میں ہی یہ ظاہر ہو گیا کہ ایران نے امریکی اقدام کو زیادہ اہمیت نہیں دی، کیونکہ 5 ایرانی پرچم بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ مزید 6 جہاز ایرانی بندرگاہوں سے منسلک تھے۔

11 جہاز امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود گزر گئے

اگرچہ امریکی مرکزی کمان CENTCOM نے 39 جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ کیا لیکن ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 50 جہاز ایرانی بندرگاہوں سے آتے جاتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کر گئے۔
خلاف ورزی کرنے والے جہازوں میں مختلف اقسام شامل تھیں، جن میں 36 کارگو اور کنٹینر جہاز، 11 بلک کارگو جہاز اور 6 تیل بردار جہاز شامل ہیں۔28 اپریل کو سب سے زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آئی، جب 10 جہاز دونوں سمتوں میں آبنائے ہرمز سے گزرے، جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
امریکی فوج نے اس سے قبل ’ٹیفانی‘ نامی آئل ٹینکر کو بحر ہند میں روکا تھا، جس پر الزام تھا کہ وہ ایران کے خارگ جزیرے سے لوڈ کیا گیا 20 لاکھ بیرل تیل لے جا رہا تھا۔

اسی طرح ’ٹوسکا‘ نامی کنٹینر جہاز کو بھی خلیج عمان میں ایرانی ساحل سے تقریباً 47 کلومیٹر دور روکا گیا، جو ایرانی پرچم لے کر چل رہا تھا۔

تازہ پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’آبنائے ٹرمپ‘ قرار دیا۔

Untitled
کئی جہازوں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر کے نگرانی سے بچنے کی کوشش کی (فوٹو: الجزیرہ)

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ کسی بھی سمندری ناکہ بندی یا پابندی، جو بین الاقوامی قانون کے خلاف ہو، ناکامی سے دوچار ہوگی۔

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے 64 ویں روز، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن کا کوئی بھی معاہدہ تہران کے لیے نقصان دہ ہونا چاہئے اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئندہ دو ہفتوں میں چین کا ایک اہم دورہ کریں گے۔