اگرچہ امریکی مرکزی کمان CENTCOM نے 39 جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ کیا لیکن ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 50 جہاز ایرانی بندرگاہوں سے آتے جاتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کر گئے۔
خلاف ورزی کرنے والے جہازوں میں مختلف اقسام شامل تھیں، جن میں 36 کارگو اور کنٹینر جہاز، 11 بلک کارگو جہاز اور 6 تیل بردار جہاز شامل ہیں۔28 اپریل کو سب سے زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آئی، جب 10 جہاز دونوں سمتوں میں آبنائے ہرمز سے گزرے، جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
امریکی فوج نے اس سے قبل ’ٹیفانی‘ نامی آئل ٹینکر کو بحر ہند میں روکا تھا، جس پر الزام تھا کہ وہ ایران کے خارگ جزیرے سے لوڈ کیا گیا 20 لاکھ بیرل تیل لے جا رہا تھا۔
ہرمز میں ناکہ بندی ناکام: 56 فیصد جہاز پابندیاں توڑ کر گزر گئے
Overseas Post