اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

جنگ کی اب تک لاگت 25 ارب ڈالر، کانگریس میں شدید تنازع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران جنگ لاگت

امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کی لاگت کا پہلا سرکاری تخمینہ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں پر اب تک امریکہ کو تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے ہیں۔ 

یہ رقم مختصر عرصے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کی عکاسی کرتی ہے۔

خبر رساں اداروں رائٹرز اور دیگر کے مطابق پینٹاگون کے مالی امور کے ذمہ دار جولز ہرسٹ نے وضاحت کی کہ اس لاگت کا بڑا حصہ اسلحہ و گولہ بارود پر صرف ہوا، جبکہ باقی رقم فوجی آپریشنز کے اخراجات اور آلات کی تبدیلی پر خرچ کی گئی۔

مزید پڑھیں

یہ اعداد و شمار ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے سماعت کے دوران پیش کیے گئے، جہاں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو خاص طور پر ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈیموکریٹس نے کانگریس کی پیشگی اجازت کے بغیر جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کی اور موجودہ حکمت عملی کو خطرناک قرار

 دیا اور خبردار کیا کہ محدود فوجی کامیابیاں طویل مدت میں بڑے نقصانات کا سبب بن سکتی ہیں۔

65623
اخراجات کا بڑا حصہ اسلحہ اور فوجی آپریشنز پر خرچ (فوٹو: العربیہ)

دوسری جانب ریپبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی نسبتاً حمایت کی تاہم انہوں نے بھی زور دیا کہ جنگ کو جلد از جلد ختم کیا جائے کیونکہ فوجی وسائل کے تیزی سے استعمال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، ہرمز کی بندش بڑا سبب

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ، جس میں اسرائیل بھی شامل ہے، فروری کے آخر میں شروع ہوئی، جس نے واشنگٹن میں سیاسی تنازع کو جنم دیا، خاص طور پر اس لیے کہ کانگریس سے واضح اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔
بعد میں جنگ روکنے کے لیے پیش کی گئی قراردادیں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ناکام رہیں، جس سے فیصلہ سازی کا اختیار وائٹ ہاؤس کے پاس ہی رہا۔
جنگ کے اثرات صرف براہِ راست اخراجات تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سطح پر معاشی دباؤ بھی بڑھا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کئے جانے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے۔

اسی دوران امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا اور دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد پہلی بار مشرقِ وسطیٰ میں 3 طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کئے، جو کشیدگی میں اضافے کی واضح علامت ہے۔

امریکہ کے اندر بھی جنگی اخراجات سیاسی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں، خاص طور پر انتخابات کے قریب آتے ہی اس بات پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا جنگ جاری رکھنا فائدہ مند ہے یا نہیں۔

Untitled 3
خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ (فوٹو: العربیہ)

اسی تناظر میں دفاعی بجٹ کو 2027 تک تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ڈرونز اور میزائل دفاعی نظام جیسے شعبوں میں فوجی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ 

تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس سے امریکہ ایک نئے اسلحہ جاتی اخراجاتی مقابلے میں داخل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب چین اور روس بھی اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

تمام تر خدشات کے باوجود وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران میں ’ناقابلِ یقین کامیابیاں‘ حاصل کی ہیں۔ 

انتظامیہ پر بغیر اجازت جنگ شروع کرنے پر تنقید

انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری خواہشات اب بھی برقرار ہیں لیکن واشنگٹن اس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کئے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ان کے مطابق تہران کو روکنا ضروری تھا تاکہ اسے ایٹمی ہتھیار بنانے سے باز رکھا جا سکے، جبکہ امریکہ 24 گھنٹے اس کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔
ہیگستھ نے مزید کہا کہ امریکہ کو پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے اور پینٹاگون کا بجٹ ’طاقت کے ذریعے امن‘ قائم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جبکہ امریکی دفاعی صنعت دوبارہ عالمی برتری حاصل کر رہی ہے۔