امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ، جس میں اسرائیل بھی شامل ہے، فروری کے آخر میں شروع ہوئی، جس نے واشنگٹن میں سیاسی تنازع کو جنم دیا، خاص طور پر اس لیے کہ کانگریس سے واضح اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔
بعد میں جنگ روکنے کے لیے پیش کی گئی قراردادیں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ناکام رہیں، جس سے فیصلہ سازی کا اختیار وائٹ ہاؤس کے پاس ہی رہا۔
جنگ کے اثرات صرف براہِ راست اخراجات تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سطح پر معاشی دباؤ بھی بڑھا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کئے جانے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری خواہشات اب بھی برقرار ہیں لیکن واشنگٹن اس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کئے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ان کے مطابق تہران کو روکنا ضروری تھا تاکہ اسے ایٹمی ہتھیار بنانے سے باز رکھا جا سکے، جبکہ امریکہ 24 گھنٹے اس کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔
ہیگستھ نے مزید کہا کہ امریکہ کو پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے اور پینٹاگون کا بجٹ ’طاقت کے ذریعے امن‘ قائم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جبکہ امریکی دفاعی صنعت دوبارہ عالمی برتری حاصل کر رہی ہے۔