اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی پانچویں کوشش بھی ناکام

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ جنگی اختیارات امریکی کانگریس ووٹنگ
ٹرمپ کے اختیارات کے خلاف رائے شماری میں 46 کے مقابلے میں 51 ووٹوں سے تجویز مسترد کی گئی (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی ایوانِ اقتدار میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر اس وقت طوفان برپا ہے۔

مزید پڑھیں

خبر رساں اداروں کے مطابق بدھ کے روز امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش ناکام ہو گئی۔

گزشتہ 8 ہفتوں سے جاری ایران جنگ کے دوران یہ پانچواں موقع ہے جب ڈیموکریٹ ارکان نے صدر کے اختیارات کو لگام دینے کی کوشش کی، مگر ایوان میں ریپبلکن اکثریت نے اسے ایک بار پھر مسترد کر دیا۔

سینیٹ میں ہونے والی اس رائے شماری میں 46 کے مقابلے میں 51 ووٹوں سے اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا جس کا مقصد متعلقہ کمیٹی (خارجہ تعلقات کمیٹی) کو نظر انداز کر کے براہِ راست بل پر غور کرنا تھا۔

اس ووٹنگ میں دلچسپ صورتحال اس وقت دیکھی گئی جب پنسلوانیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی کے برعکس ریپبلکنز کا ساتھ دیا، جبکہ کینٹکی سے ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے اپنی پارٹی لائن سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کے حق میں ووٹ ڈالا۔

ٹرمپ جنگی اختیارات امریکی کانگریس ووٹنگ
امریکی کانگریس (فوٹو: انٹرنیٹ)

قرارداد اور ڈیموکریٹس کا موقف

وسکونسن سے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹیمی بالڈون کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کا متن یہ تھا:

’صدر کو ہدایت کی جائے کہ وہ ایران کے اندر یا اس کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں سے امریکی مسلح افواج کو اس وقت تک نکال لیں جب تک کانگریس باقاعدہ اعلانِ جنگ نہ کرے یا فوجی طاقت کے استعمال کی مخصوص اجازت (AUMF) نہ دے دے‘۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹک مائنارٹی لیڈر چک شومر نے ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی میں توسیع خوش آئند ہے، لیکن کانگریس کو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے پہلے اس بڑی غلطی کو روکنا چاہیے۔ 

انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ جنگ صدر ٹرمپ کے لیے ایک دلدل ثابت ہو رہی ہے اور ریپبلکنز کو چاہیے کہ وہ صدر کو اس مہم جوئی سے باہر نکالنے میں ڈیموکریٹس کا ساتھ دیں۔

1973 کا ’وار پاورز ایکٹ‘ اور 60 دن کی ڈیڈ لائن

اس وقت سب سے بڑا قانونی سوال ’وار پاورز ایکٹ 1973‘ کے گرد گھوم رہا ہے۔

امریکی قانون کے مطابق صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر صرف 60 دنوں تک فوجی آپریشن جاری رکھ سکتا ہے۔ چونکہ ٹرمپ نے 2 مارچ کو کانگریس کو باقاعدہ مطلع کیا تھا، اس لیے یہ قانونی مہلت یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے۔

اگر یکم مئی تک جنگ ختم نہیں ہوتی یا کانگریس سے منظوری نہیں لی جاتی تو صدر کے پاس صرف دو ہی راستے ہوں گے:

  1. 30 دن کی توسیع: صدر تحریری طور پر یہ ضمانت دے کہ فوجیوں کی سلامتی اور محفوظ واپسی کے لیے مزید 30 دن ناگزیر ہیں۔
  2. مستقل اجازت نامہ: کانگریس سے فوجی طاقت کے استعمال کا باقاعدہ تفويض (AUMF) حاصل کرنا۔
ٹرمپ جنگی اختیارات امریکی کانگریس ووٹنگ
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خلاف امریکی پرچم اٹھائے مظاہرین احتجاج کررہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

ریپبلکنز کا اعتماد اور مستقبل کی حکمتِ عملی

سینیٹ میں اکثریتی لیڈر جان تھون کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی اب تک ایران میں حاصل ہونے والی امریکی کامیابیوں سے مطمئن ہے۔

جب اُن سے یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ’دیکھیں گے‘ اور بات ٹال دی، تاہم ان کا اشارہ تھا کہ صدر کے پاس یکطرفہ طور پر 30 دن کی توسیع کا اختیار موجود ہے۔

دوسری جانب کچھ ریپبلکنز نے نیویارک ٹائمز کو اشارہ دیا کہ یکم مئی کی تاریخ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس تاریخ کے بعد صدر کو یا تو جنگ ختم کرنی چاہیے یا پھر کانگریس سے باقاعدہ مینڈیٹ حاصل کرنا چاہیے۔

دفاعی جواز اور آئینی پیچیدگیاں

یاد رہے کہ جب 28 فروری کو امریکہ نے اسرائیلی فضائیہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملے شروع کیے تھے تو صدر ٹرمپ نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے تحفظ اور اسرائیل سمیت علاقائی اتحادیوں کے دفاع کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔

ڈیموکریٹس اسے غیر قانونی قرار دیتے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ صدر بطور کمانڈر ان چیف اپنے اختیارات کے اندر کام کر رہے ہیں۔

تاریخی طور پر امریکی صدور ’وار پاورز ایکٹ‘ کی پابندیوں کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔  ماضی میں باراک اوباما نے بھی 2011 میں لیبیا کے معاملے پر ان ڈیڈ لائنز کو نظر انداز کیا تھا۔ 

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بھی ایران کے معاملے پر اسی نقشِ قدم پر چل سکتی ہے، لیکن یکم مئی کے بعد اس جنگ کو بغیر عوامی اور پارلیمانی مینڈیٹ کے جاری رکھنا صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن جائے گا۔