ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا
کانگریس کی سماعت میں فوجی فنڈنگ بھی زیرِ بحث آئے گی، کیونکہ انتظامیہ نے دفاعی بجٹ میں 42 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے، جسے 2027 تک تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے—یہ ایک غیر معمولی سطح ہے۔
یہ مطالبہ فوجی وسائل کے ممکنہ حد سے زیادہ استعمال پر خدشات کو جنم دے رہا ہے، خاص طور پر محدود ذخیرے والے اسٹریٹجک ہتھیاروں کے تیزی سے استعمال کے تناظر میں۔
یہ تمام پیش رفت ایک پیچیدہ علاقائی تناظر میں ہو رہی ہے، جہاں جنگ کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام، خلیج میں بحری سلامتی اور عالمی طاقتوں کے توازن جیسے بڑے مسائل سے جڑا ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کے کچھ یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔
وزیرِ دفاع کی یہ سماعت جنگ کے موجودہ مرحلے میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، جو نہ صرف داخلی سیاسی دباؤ بلکہ فوجی اور معاشی چیلنجز کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
مذاکرات کی ناکامی اور بڑھتی کشیدگی کے باعث مستقبل کے امکانات کھلے ہوئے ہیں—چاہے وہ تدریجی کمی ہو یا مزید پیچیدگی۔
حل کی کوششوں پر شکوک
یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب جنگ کے خاتمے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہیں اور امریکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے تازہ ترین پیشکش پر شکوک کا اظہار کر رہا ہے۔
ایران نے تقریباً دو ماہ قبل امریکی، اسرائیلی حملوں کے بعد اس اہم بحری راستے پر عملی طور پر ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافے کی تجویز، وسائل پر خدشات
امریکی حکام نے میڈیا رپورٹس کی مکمل تردید بھی نہیں کی، جن میں بتایا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ اس پیشکش کے حوالے سے شکوک رکھتے ہیں۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک سرکاری عشائیے کے دوران، ٹرمپ نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم اور دیگر مہمانوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران فوجی طور پر شکست کھا چکا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ہم جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھتے اور واضح کیا کہ تہران کو امریکہ پر اعتماد نہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کے ذریعے پہنچائے گئے تازہ ایرانی منصوبے میں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے معاملات کو ’سرخ لکیر‘ قرار دیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت تہران آبنائے پر اپنی گرفت نرم کرے گا جبکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں کم کرے گا اور وسیع تر مذاکرات جاری رہیں گے، جن میں جوہری پروگرام بھی شامل ہوگا۔