اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

کانگریس میں ایران جنگ پر سخت پوچھ گچھ، بڑے انکشافات متوقع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران جنگ
کانگریس میں وزیر دفاع سے ایران جنگ پر پہلی بار باضابطہ پوچھ گچھ (فوٹو: العربیہ)

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ آج بدھ کے روز کانگریس کے سامنے ایران جنگ سے متعلق اپنی پہلی گواہی دینے کے لیے پیش ہوں گے، ایسے وقت میں جب تنازع کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ پر داخلی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

یہ سماعت ایسے ماحول میں ہو رہی ہے جہاں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی ہے۔ 

اراکینِ کانگریس کا کہنا ہے کہ جنگ کی پیشرفت کے حوالے سے شفافیت کا فقدان ہے اور باقاعدہ بریفنگز فراہم نہیں کی گئیں حالانکہ یہ جنگ گزشتہ فروری کے آخر میں امریکی، اسرائیلی مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جیسا کہ خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق متوقع ہے کہ ہیگسیتھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کے ہمراہ، ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے سخت سوالات کا سامنا کریں گے، خصوصاً ڈیموکریٹ اراکین کی جانب سے جو جنگ کے انتظام پر جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

 تنقید کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے قبل کانگریس سے رجوع نہیں کیا گیا حالانکہ امریکی آئین کے مطابق 

جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار مقننہ کو حاصل ہے، جس نے آئینی و سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔

کئی اراکین نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ وزارتِ دفاع پر حملوں کی حقیقت چھپانے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔

سفارتی تعطل اور بند آبنائے ہرمز

بین الاقوامی سطح پر ایران کے ساتھ مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز جو تیل و گیس کی ترسیل کے لیے دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے — جنگ کے آغاز سے عملاً بند ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا ہوئی ہے۔

465465
دونوں جماعتوں کی جانب سے شفافیت کے فقدان پر شدید تنقید (فوٹو: العربیہ)

واشنگٹن ایران کی جانب سے آبنائے کھولنے سے متعلق نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے تاہم اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور دونوں فریقوں کے درمیان بداعتمادی اور سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

جنگ کی بڑھتی لاگت

جنگ کے معاشی اثرات امریکہ کے اندر بھی نمایاں ہو چکے ہیں، جہاں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور آئندہ وسط مدتی انتخابات کے قریب آنے کے باعث سیاسی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا

کانگریس کی سماعت میں فوجی فنڈنگ بھی زیرِ بحث آئے گی، کیونکہ انتظامیہ نے دفاعی بجٹ میں 42 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے، جسے 2027 تک تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے—یہ ایک غیر معمولی سطح ہے۔
یہ مطالبہ فوجی وسائل کے ممکنہ حد سے زیادہ استعمال پر خدشات کو جنم دے رہا ہے، خاص طور پر محدود ذخیرے والے اسٹریٹجک ہتھیاروں کے تیزی سے استعمال کے تناظر میں۔
یہ تمام پیش رفت ایک پیچیدہ علاقائی تناظر میں ہو رہی ہے، جہاں جنگ کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام، خلیج میں بحری سلامتی اور عالمی طاقتوں کے توازن جیسے بڑے مسائل سے جڑا ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کے کچھ یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔

وزیرِ دفاع کی یہ سماعت جنگ کے موجودہ مرحلے میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، جو نہ صرف داخلی سیاسی دباؤ بلکہ فوجی اور معاشی چیلنجز کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

 مذاکرات کی ناکامی اور بڑھتی کشیدگی کے باعث مستقبل کے امکانات کھلے ہوئے ہیں—چاہے وہ تدریجی کمی ہو یا مزید پیچیدگی۔

32131231
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈیوں میں ہلچل (فوٹو: العربیہ)

حل کی کوششوں پر شکوک

یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب جنگ کے خاتمے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہیں اور امریکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے تازہ ترین پیشکش پر شکوک کا اظہار کر رہا ہے۔

ایران نے تقریباً دو ماہ قبل امریکی، اسرائیلی حملوں کے بعد اس اہم بحری راستے پر عملی طور پر ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافے کی تجویز، وسائل پر خدشات

امریکی حکام نے میڈیا رپورٹس کی مکمل تردید بھی نہیں کی، جن میں بتایا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ اس پیشکش کے حوالے سے شکوک رکھتے ہیں۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک سرکاری عشائیے کے دوران، ٹرمپ نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم اور دیگر مہمانوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران فوجی طور پر شکست کھا چکا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ہم جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھتے اور واضح کیا کہ تہران کو امریکہ پر اعتماد نہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کے ذریعے پہنچائے گئے تازہ ایرانی منصوبے میں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے معاملات کو ’سرخ لکیر‘ قرار دیا گیا ہے۔ 

اس منصوبے کے تحت تہران آبنائے پر اپنی گرفت نرم کرے گا جبکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں کم کرے گا اور وسیع تر مذاکرات جاری رہیں گے، جن میں جوہری پروگرام بھی شامل ہوگا۔