اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

امریکا سے منفی اشارے، 3 مرحلوں پر مشتمل ایرانی فارمولے میں کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا امن منصوبہ
آئندہ چند دن مذاکرات کے لیے انتہائی اہم قرار

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے نئے امن منصوبے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس پر واشنگٹن میں ابھی غور جاری ہے اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرامپ اس سے ناخوش ہیں۔

اس منصوبے میں آبنائے ہرمز میں حملے روکنے کے بدلے جنگ کے مکمل خاتمے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کے خاتمے کی تجویز بھی شامل ہے۔ 

دوسرے مرحلے میں ثالثی قوت آبنائے ہرمز کے مسئلے کو حل کرے گی جبکہ تیسرے مرحلے میں جوہری پروگرام اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ جیسے معاملات پر مذاکرات ہوں گے۔

مزید پڑھیں

دوسری جانب نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اس تجویز سے مطمئن نہیں ہیں اور اسے سیاسی طور پر ناکافی سمجھتے ہیں۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ نے قومی سلامتی حکام کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت کی ہے جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اس تجویز کو قبول نہیں کریں گے کیونکہ آبنائے ہرمز کھولنے سے امریکہ کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔

اسی طرح رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجویز ایران کے جوہری پروگرام جیسے بنیادی مسئلے کو نظر انداز کرتی ہے۔

ChatGPT Image 27 أبريل 2026، 09 02 22 م
امریکا نے جوہری پروگرام کو نظر انداز کرنے پر تحفظات ظاہر کیے

جوہری معاملہ: سب سے بڑی رکاوٹ

امریکی وزیر خارجہ روبیو نے کہا ہے کہ اصل مسئلہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے اور کسی بھی معاہدے میں اس حوالے سے واضح ضمانتیں ضروری ہیں۔

ذرائع کے مطابق ثالثی کا عمل تیز ہو گیا ہے اور آئندہ چند دن انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں، کیونکہ ایک عبوری معاہدے کی کوشش جاری ہے جو جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال کرے۔

ہرمز کھولنے سے امریکہ کا دباؤ کم ہو سکتا ہے

ایرانی حکام نے پابندیوں کے باعث معاشی دباؤ اور اشیائے ضروریہ کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے اور متبادل تجارتی راستے اختیار کرنے شروع کر دیے ہیں۔
اسی دوران محدود فوجی کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس کے بعد مذاکرات کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ امریکہ اگلا قدم کیا اٹھائے گا جبکہ دونوں جانب سیاسی اور اسٹریٹیجک خدشات برقرار ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے مذاکرات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ امریکی مفادات کے مطابق ہونا چاہئے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا لازمی ہے۔