امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج پیر کو اپنے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ سیچویشن روم میں اہم اجلاس کریں گے جس میں ایران کے حوالے سے ممکنہ آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
اس تناظر میں ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، پابندیوں کے خاتمے اور جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ثالثوں کو بتایا کہ ایرانی قیادت اس وقت امریکہ کے یورینیم افزودگی اور افزودہ ذخائر کی منتقلی سے متعلق مطالبات پر متفقہ مؤقف اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
ایران نے ہرمز کے بحران کے حل پر توجہ دینے اور جنگ بندی کو طویل مدت تک بڑھانے یا مکمل طور پر جنگ ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے یہ ایرانی تجاویز امریکہ تک پہنچا دی ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس ان پر غور کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہے۔
واشنگٹن میں صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور انہوں نے فتح اور ایرانی یورینیم پر کنٹرول حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب مذاکرات کے حوالے سے گیند ایران کے کورٹ میں ہے، اور اگر ایرانی قیادت چاہے تو ان کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتی ہے۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایرانی قیادت دانشمندی کا مظاہرہ کرے گی جبکہ انہوں نے ایران کے اندرونی اختلافات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کی انتظامیہ کچھ معقول اور کچھ غیر معقول افراد سے نمٹ رہی ہے۔