اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

ایران کی نئی ڈیل: جوہری مذاکرات موخر، طویل جنگ بندی پر اتفاق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز بحران
واشنگٹن کا واضح مؤقف: ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیا جائے گا

امریکی اخبار اكسيوس کے مطابق متعدد باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ايران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک نئی ڈیل پیش کی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے علاوہ اور جنگ کا خاتمہ ہے۔ 

اس تجویز میں جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران کی حالیہ تجاویز امریکہ تک پہنچا دی ہیں اور ایران کا موقف ہے کہ پہلے ’آبنائے ہرمز اور محاصرے کے بحران‘ کو حل کیا جائے جبکہ جنگ بندی کو طویل مدت تک بڑھایا جائے۔

مزید پڑھیں

ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ثالثوں کو بتایا کہ ایرانی قیادت کے اندر امریکہ کے جوہری مطالبات یا دیگر شرائط کو تسلیم کرنے کے حوالے سے اتفاقِ رائے موجود نہیں۔

دوسری جانب كسيوس کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس ایران کی نئی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے کتنا تیار ہے۔ 

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج سچویشن روم

 میں قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران سے متعلق آپشنز پر غور کریں گے۔

اسی تناظر میں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے نہ روکے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ اگر ایران جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے تو وہ رابطہ کر سکتا ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ تہران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 

ایران جوہری مذاکرات مؤخر کرنے اور طویل جنگ بندی چاہتا ہے

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی وفد کی عدم موجودگی کے باوجود مذاکرات کے لیے پاکستان واپس پہنچ گئے۔
قبل ازیں امن کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب ٹرمپ نے اپنے وفد کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا جبکہ عراقچی عمان اور پاکستان کے درمیان سفارتی رابطوں میں مصروف رہے۔
ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے فوكس نيوز کو بتایا کہ اگر وہ ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آ سکتے ہیں، ہمارے پاس رابطے کے محفوظ ذرائع موجود ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا ’وہ جانتے ہیں کہ معاہدے میں کیا شامل ہونا چاہئے، یہ بہت سادہ ہے، انہیں جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دیئے جا سکتے، ورنہ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں‘۔

ایران طویل عرصے سے امریکہ سے اپنے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جسے وہ پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے تاہم مغربی ممالک اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کشیدگی
ایران: ہرمز میں صرف ہماری اجازت سے جہاز رانی ہوگی

اگرچہ جنگ بندی نے لڑائی کو بڑی حد تک روک دیا ہے، جو 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی تاہم اب تک جنگ کے خاتمے کا کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، اس تنازع نے ہزاروں جانیں لیں، تیل کی قیمتیں بڑھائیں، مہنگائی کو ہوا دی اور عالمی معیشت پر منفی اثرات ڈالے۔

صدر ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے کے لیے اندرونی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ایران، عسکری کمزوری کے باوجود، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی روکنے کی صلاحیت کے باعث مذاکرات میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند رکھا ہوا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی ترسیل گزرتی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر محاصرہ قائم کر رکھا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں، بلکہ واشنگٹن ایران کی علاقائی اتحادی تنظیموں، جیسے لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کی حمایت کم کروانا چاہتا ہے جبکہ ایران پابندیوں کے خاتمے اور اسرائیلی حملوں کے رکنے کا خواہاں ہے۔