ایران جوہری مذاکرات مؤخر کرنے اور طویل جنگ بندی چاہتا ہے
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی وفد کی عدم موجودگی کے باوجود مذاکرات کے لیے پاکستان واپس پہنچ گئے۔
قبل ازیں امن کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب ٹرمپ نے اپنے وفد کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا جبکہ عراقچی عمان اور پاکستان کے درمیان سفارتی رابطوں میں مصروف رہے۔
ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے فوكس نيوز کو بتایا کہ اگر وہ ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آ سکتے ہیں، ہمارے پاس رابطے کے محفوظ ذرائع موجود ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا ’وہ جانتے ہیں کہ معاہدے میں کیا شامل ہونا چاہئے، یہ بہت سادہ ہے، انہیں جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دیئے جا سکتے، ورنہ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں‘۔
ایران طویل عرصے سے امریکہ سے اپنے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جسے وہ پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے تاہم مغربی ممالک اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگرچہ جنگ بندی نے لڑائی کو بڑی حد تک روک دیا ہے، جو 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی تاہم اب تک جنگ کے خاتمے کا کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، اس تنازع نے ہزاروں جانیں لیں، تیل کی قیمتیں بڑھائیں، مہنگائی کو ہوا دی اور عالمی معیشت پر منفی اثرات ڈالے۔
صدر ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے کے لیے اندرونی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ایران، عسکری کمزوری کے باوجود، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی روکنے کی صلاحیت کے باعث مذاکرات میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند رکھا ہوا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی ترسیل گزرتی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر محاصرہ قائم کر رکھا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں، بلکہ واشنگٹن ایران کی علاقائی اتحادی تنظیموں، جیسے لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کی حمایت کم کروانا چاہتا ہے جبکہ ایران پابندیوں کے خاتمے اور اسرائیلی حملوں کے رکنے کا خواہاں ہے۔