الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو ہدایت کی گئی کہ وہ قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں
ذرائع کے مطابق ملاقات میں خطے میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان تنازع اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جبکہ امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔
دوسری جانب نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کر رہا ہے اور اس ضمن میں اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ ایران، امریکا مذاکراتی عمل سے متعلق پاکستان کا مؤقف صرف وہی تصور کیا جائے جو سرکاری ذرائع سے جاری کیا جاتا ہے جبکہ غیر مصدقہ یا غیر نامزد ذرائع کی اطلاعات پاکستان کے سرکاری مؤقف کی عکاسی نہیں کرتیں۔
انہوں نے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو ہدایت کی کہ وہ قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں اور صرف مستند اور سرکاری بیانات کو ہی بنیاد بنائیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور پاکستان کی جانب سے ثالثی کردار کو مزید تقویت دینے کی کوششوں کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔