اسی تناظر میں عسکری ماہر بریگیڈیئر حسن جونی نے وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ کشمکش دو متقابل حکمت عملیوں پر مبنی ہے:
ایک جانب امریکی بحری ناکہ بندی، اور دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے کی بندش۔ دونوں فریق ان اقدامات کو مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
جونی کے مطابق امریکی ناکہ بندی ایرانی معیشت پر اثرانداز تو ہوتی ہے مگر مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکی کیونکہ ایران کا ’شیڈو فلیٹ‘ پابندیوں کو جزوی طور پر ناکام بناتے ہوئے کچھ جہازوں کی نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہے۔
کیا امریکہ بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے ڈولفنز کا سہارا لے گا؟
Overseas Post