اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

کیا امریکہ بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے ڈولفنز کا سہارا لے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز کشیدگی
تربیت یافتہ ڈولفنز بطور متبادل آپشن زیر غور

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت تقریباً مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے، جس کے باعث ایسے غیر روایتی منظرنامے سامنے آئے ہیں جن پر امریکہ عمل کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر یورپی حمایت دستیاب نہ ہو۔ 

ان میں ایک غیر معمولی آپشن تربیت یافتہ ڈولفنز کا استعمال ہے، جو سمندری بارودی سرنگوں  کو صاف کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، یہ اس اہم آبی گزرگاہ میں فوجی آپریشنز کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔  

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اندازوں کے مطابق صرف ایک محفوظ بحری راستہ بنانے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ لگ سکتا ہے جبکہ پورے آبنائے کو صاف کرنے میں 4 ماہ تک کا وقت درکار ہو سکتا ہے کیونکہ بارودی سرنگیں چٹانوں جیسی شکل میں چھپائی جا سکتی ہیں یا ریت میں دفن کی جا سکتی ہیں۔  

ان پیچیدگیوں کے درمیان یورپی ممالک کا کردار نہایت اہم ہے کیونکہ ان کے پاس بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے ایک سو سے زائد خصوصی جہاز موجود ہیں، یہ صلاحیت جو امریکہ کے پاس محدود ہے۔ 

ChatGPT Image 26 أبريل 2026، 08 00 57 م
ایران اور امریکہ کے درمیان ’دباؤ بمقابلہ دباؤ‘ کی حکمت عملی جاری

ایسی صورت میں تربیت یافتہ فوجی ڈولفنز کا استعمال ایک متبادل تکنیکی حل کے طور پر سامنے آیا ہے۔  

امریکہ ماضی میں بھی 1991 اور 2003 کے خلیجی جنگی آپریشنز کے دوران ڈولفنز کا استعمال کر چکا ہے۔ 

ڈولفنز اپنی ذہانت، سیکھنے کی صلاحیت اور جدید تربیت کے باعث نمایاں ہیں جبکہ ان کی قدرتی حسیں کسی بھی مشین یا کمپیوٹر سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔

مزید برآں، ڈولفنز نہ صرف گہرے پانی میں غوطہ لگا سکتی ہیں بلکہ ’ایکو لوکیشن‘ (صوتی بازگشت کے ذریعے مقام کا تعین) کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے وہ پانی کے اندر دفن بارودی سرنگوں کا سراغ لگا سکتی ہیں۔  

ایک بحری راستہ کھولنے میں ڈیڑھ ماہ، مکمل صفائی میں 4 ماہ لگ سکتے ہیں

اسی تناظر میں عسکری ماہر بریگیڈیئر حسن جونی نے وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ کشمکش دو متقابل حکمت عملیوں پر مبنی ہے:
ایک جانب امریکی بحری ناکہ بندی، اور دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے کی بندش۔ دونوں فریق ان اقدامات کو مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
جونی کے مطابق امریکی ناکہ بندی ایرانی معیشت پر اثرانداز تو ہوتی ہے مگر مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکی کیونکہ ایران کا ’شیڈو فلیٹ‘ پابندیوں کو جزوی طور پر ناکام بناتے ہوئے کچھ جہازوں کی نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری طرف، آبنائے ہرمز کی بندش کا اثر صرف ایران یا امریکہ تک محدود نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کو متاثر کرتا ہے، جس سے یہ ایران کے لیے ایک مؤثر اسٹریٹجک دباؤ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔  

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بحری تصادم ’غیر روایتی‘ نوعیت کا ہے، جہاں امریکہ اپنی عسکری برتری کے باوجود براہ راست تصادم سے گریز کر رہا ہے جبکہ ایران غیر متوازن حکمت عملی جیسے بارودی سرنگیں، تیز رفتار کشتیاں اور ساحلی میزائل استعمال کر رہا ہے۔  

آخر میں جونی نے نتیجہ اخذ کیا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال اس وقت ایک ’نازک توازن‘ پر قائم ہے، جہاں نہ امریکہ مکمل کنٹرول حاصل کر سکا ہے اور نہ ہی ایران کو مکمل طور پر روکا جا سکا ہے۔  

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی میڈیا نے پارلیمنٹ کے نائب سربراہ کے حوالے سے کہا کہ ایران کسی بھی صورت میں آبنائے ہرمز کو اس کی سابقہ حالت میں بحال نہیں کرے گا، جو بحران کے طول پکڑنے اور حل کے مزید پیچیدہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔