خطے میں کشیدگی برقرار، آبنائے ہرمز میں صورتحال بدستور غیر یقینی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر تہران امریکا سے بات چیت کرنا چاہتا ہے تو اسے صرف ہمیں کال کرنا ہوگی۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب توقع تھی کہ امریکی وفد، جس کی قیادت وٹکوف اور کشنر کر رہے تھے، اسلام آباد پہنچ کر پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔
تاہم باخبر ذرائع کے مطابق دونوں ابھی تک واشنگٹن سے روانہ نہیں ہوئے، جیسا کہ آیکسيس‘ نے رپورٹ کیا اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان کی آج عراقچی سے ملاقات متوقع نہیں تھی۔
دوسری جانب، اگرچہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ امریکی وفد پاکستان میں ایرانی حکام سے براہ راست مذاکرات کرے گا مگر زمینی صورتحال مختلف دکھائی دی۔
کشیدگی میں اضافہ
دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والے پہلے براہ راست مذاکراتی دور کے بغیر کسی نتیجے کے اختتام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
13 اپریل کو امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کر دی جبکہ ایرانی دھمکیوں کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو کر رہ گئی۔
ایران نے پاکستان کے ذریعے اپنے مطالبات بھی برقرار رکھے، جن میں امریکی بحری محاصرے کا خاتمہ، امریکی دھمکیوں کا خاتمہ، جنگ کے تسلسل کو روکنا، اور غیر حقیقت پسندانہ شرائط ’جیسے یورینیم افزودگی مکمل طور پر ترک کرنا‘ سے دستبرداری شامل ہیں۔
ادھر متوقع مذاکرات سے قبل اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، کیونکہ پاکستان امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں جب ٹرمپ نے حال ہی میں جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا تھا، جو اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔