اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

امریکی وفد کا پاکستان دورہ منسوخ، مذاکرات پھر کھٹائی میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات
ایران کے مؤقف پر ٹرمپ کی ناراضی، مذاکراتی عمل متاثر (فوٹو: العربیہ)

جس وقت عباس عراقچی نے اسلام آباد کا دورہ مکمل کیا، اس وقت توقع کی جا رہی تھی کہ امریکی وفد وٹکوف اور جارید کشنر اسلام آباد پہنچیں گے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کی کوشش کی جا سکے، ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وفد کا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ میں نے وٹکوف اور کشنر سے کہا کہ 18 گھنٹے کا سفر صرف بے سود بیٹھ کر بات کرنے کے لیے نہ کریں، جیسا کہ فوکس نیوز نے نقل کیا ہے۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے مؤقف نے انہیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔

مزید پڑھیں

فیصلہ جنگ کی بحالی نہیں

تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس فیصلے کا مطلب جنگ کا دوبارہ آغاز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی جب چاہیں ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں، اور اشارہ دیا کہ تہران کے ساتھ بات چیت فون کے ذریعے بھی مؤثر انداز میں مکمل کی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بھی لکھا کہ انہوں نے اسلام آباد کے لیے امریکی وفد کا دورہ منسوخ کر دیا، جس کی وجہ طویل سفر میں وقت کا ضیاع اور کام کا دباؤ تھا۔ 

مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کے اندر ’بڑی اندرونی کشمکش اور شدید ابہام‘ پایا جاتا ہے اور واشنگٹن کے پاس ایران کے مقابلے کے لیے ’تمام مضبوط کارڈز‘ موجود ہیں۔

خطے میں کشیدگی برقرار، آبنائے ہرمز میں صورتحال بدستور غیر یقینی

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر تہران امریکا سے بات چیت کرنا چاہتا ہے تو اسے صرف ہمیں کال کرنا ہوگی۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب توقع تھی کہ امریکی وفد، جس کی قیادت وٹکوف اور کشنر کر رہے تھے، اسلام آباد پہنچ کر پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔
تاہم باخبر ذرائع کے مطابق دونوں ابھی تک واشنگٹن سے روانہ نہیں ہوئے، جیسا کہ آیکسيس‘ نے رپورٹ کیا اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان کی آج عراقچی سے ملاقات متوقع نہیں تھی۔

دوسری جانب، اگرچہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ امریکی وفد پاکستان میں ایرانی حکام سے براہ راست مذاکرات کرے گا مگر زمینی صورتحال مختلف دکھائی دی۔

 

645464
تیل کی قیمتیں اُڑان پر: ہرمز بحران نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا

کشیدگی میں اضافہ

دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والے پہلے براہ راست مذاکراتی دور کے بغیر کسی نتیجے کے اختتام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

13 اپریل کو امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کر دی جبکہ ایرانی دھمکیوں کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو کر رہ گئی۔

ایران نے پاکستان کے ذریعے اپنے مطالبات بھی برقرار رکھے، جن میں امریکی بحری محاصرے کا خاتمہ، امریکی دھمکیوں کا خاتمہ، جنگ کے تسلسل کو روکنا، اور غیر حقیقت پسندانہ شرائط ’جیسے یورینیم افزودگی مکمل طور پر ترک کرنا‘ سے دستبرداری شامل ہیں۔

545446464
فوٹو: العربیہ

ادھر متوقع مذاکرات سے قبل اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، کیونکہ پاکستان امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں جب ٹرمپ نے حال ہی میں جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا تھا، جو اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔