اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

پستہ پِس گیا: دنیا میں بہت مہنگا، ایران میں بہت سستا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پستہ قیمتیں ایران
جنگی جھٹکا: پستہ 8 سال کی بلند ترین سطح پر

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے اثرات نے عالمی منڈی میں پستے کی قیمتوں کو 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، جبکہ ایران کے اندر صورتحال اس کے برعکس ہے جہاں قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق مارچ میں پستے کی قیمت 4.57 ڈالر فی پاؤنڈ تک پہنچ گئی، جو مئی 2018 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ 

اس اضافے کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر طلب میں اضافہ اور خلیجی پانیوں میں شپنگ رکاوٹیں ہیں۔

مزید پڑھیں

ایران، جو دنیا میں پستے کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے، اس وقت دوہری مشکل کا شکار ہے، ایک طرف عالمی طلب بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب امریکی محاصرے کے باعث جنوبی بندرگاہوں سے برآمدات تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔

ایرانی پستہ ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد صالحی کے مطابق جنگ کے بعد 65 فیصد سمندری برآمدات رک گئی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی

 منڈی میں سپلائی کم اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ 

محدود مقدار میں برآمدات اب بحیرہ کیسپین اور زمینی راستوں کے ذریعے جاری ہیں مگر یہ مہنگے اور سست ذرائع ہیں۔

ChatGPT Image 26 أبريل 2026، 12 16 54 م

دوسری جانب ایران کے اندر پستے کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک کمی ہوئی ہے کیونکہ برآمدات رکنے سے مقامی منڈی میں سپلائی بڑھ گئی ہے۔ 

ماہرین کے مطابق یہ کمی زیادہ تر تھوک قیمتوں تک محدود ہے، جبکہ صارفین کو اس کا مکمل فائدہ نہیں مل رہا۔

ریکارڈ پیداوار مگر برآمدات میں رکاوٹ

مزید برآں، نوروز اور عیدالفطر کے دوران کمزور طلب کے باعث اندرونِ ملک کھپت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس نے مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی برآمد کنندگان متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں، جن میں روس، ترکی اور وسطی ایشیائی ممالک کے ذریعے یورپ اور ایشیا تک رسائی شامل ہے۔
ابتدائی کھیپ قرغیزستان اور افغانستان کے راستے چین اور بھارت بھیجی جا رہی ہے۔

ایران میں گزشتہ سال پستے کی پیداوار 250 ہزار ٹن تک پہنچ گئی، جو ایک غیر معمولی اضافہ ہے۔ 

تاہم ماہرین کے مطابق سمندری محاصرے کے باعث اس اضافی پیداوار کو عالمی منڈی تک پہنچانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

ChatGPT Image 26 أبريل 2026، 12 12 12 م

اس کے باوجود صنعت سے وابستہ افراد پُرامید ہیں کہ متبادل تجارتی راستوں اور ماضی کے تجربے کی بنیاد پر ایران پستے کی برآمدات کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گا، یہاں تک کہ جنگ اور پابندیوں کے باوجود بھی۔

لاجسٹک جھٹکوں کے باوجود آئندہ سیزن کے حوالے سے مثبت اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ ایران کے ایوانِ صنعت و تجارت کے ایک رکن کے مطابق اس سال وافر بارشوں کی بدولت ملک دوبارہ ریکارڈ پیداوار کی سطح عبور کر سکتا ہے۔

تاہم یہ صورتحال پیداواری حلقوں کے لیے ایک مشکل چیلنج بن سکتی ہے، جہاں ایک طرف پیداوار میں اضافے کی توقع ہے، تو دوسری جانب برآمدات میں رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں۔

سمندری محاصرہ اس مسئلے کا سب سے بڑا سبب قرار دیا جا رہا ہے، جو پستے کی عالمی منڈی تک رسائی میں بنیادی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

ChatGPT Image 26 أبريل 2026، 12 14 09 م

ایرانی ایوانِ صنعت و تجارت کے رکن زین العابدین ہاشمی نے کہا ہے کہ پستے کی پیداوار میں حالیہ اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایرانی باغات دوبارہ بحالی کی جانب گامزن ہیں، جس میں بہتر موسمی حالات اور اہم پیداواری صوبوں میں پیداوار میں اضافہ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران میں پستے کے شعبے کی مجموعی تصویر کے مطابق تقریباً 83 فیصد پیداوار برآمدات کے لیے مختص ہے، جبکہ صرف ایک چھٹا حصہ مقامی سطح پر استعمال کیا جاتا ہے۔