نیویارک شہر، جو اپنی فلک بوس عمارتوں، وال اسٹریٹ کی گہما گہمی اور اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر کے لیے مشہور ہے، ایک اور منفرد شناخت بھی رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ اسرائیل سے باہر دنیا میں یہودیوں کی سب سے بڑی آبادی والا شہر ہے، لیکن حال ہی میں اسی شہر نے زہران ممدانی نامی ایک مسلمان تارکِ وطن کو اپنا میئر منتخب کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
ایک طرف نیویارک کا یہ ترقی پسند انتخاب ہے اور دوسری طرف چند سو کلومیٹر دُور واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی ہے، جن کا اقتدار قدامت پسند عیسائیوں کے مضبوط اتحاد پر ٹکا ہوا ہے۔
ٹرمپ، جو کبھی مذہبی نہیں رہے، اب ایران کشیدگی کے دوران وائٹ ہاؤس میں پادری بلا کر دعائیں کرواتے ہیں۔ اُن کے وزیرِ جنگ اور فوجی کمانڈر اس لڑائی کو ’خدائی جنگ‘ یا ’آخرت کی معرکہ آرائی‘ قرار دے رہے ہیں۔
یہ مناظر بہت سے ذہنوں میں سوال پیدا کرتے ہیں کہ کیا امریکی سیاست میں مذہب کا کردار اتنا ہی گہرا ہے جتنا کسی مذہبی ریاست میں ہوتا ہے؟
اس کا جواب 240 سال پرانے اُس ’سماجی معاہدے‘ میں چھپا ہے جسے ’آئینِ امریکہ‘ کہتے ہیں۔
ورجینیا کا موسمِ سرما: جب آزادی اور قانون ملے
امریکی آئین کی کہانی 1784 کے ورجینیا سے شروع ہوتی ہے۔
برطانوی راج سے آزادی کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا ریاست کو کسی خاص چرچ کی سرپرستی کرنی چاہیے؟
پیٹرک ہنری جیسے انقلابیوں کا خیال تھا کہ اخلاقیات کے تحفظ کے لیے ریاست کو مسیحی اساتذہ کے لیے ٹیکس لگانا چاہیے، لیکن جیمز میڈیسن اور تھامس جیفرسن نے اس کی مخالفت کی۔
ان کا ماننا تھا کہ ایمان انسان اور خدا کا ذاتی معاملہ ہے، لہٰذا ریاست کو اس کا پابند نہیں بننا چاہیے۔
1786 میں جیفرسن کا ’قانونِ آزادیِ مذہب‘ منظور ہوا، جس نے یہ بنیاد رکھی کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف کسی مذہبی ادارے کی مالی مدد پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
آئین کی دفعہ 6: ایمان کا ٹیسٹ
1787 میں جب فلاڈیلفیا میں آئین سازی کے لیے مندوبین جمع ہوئے تو انہوں نے ایک انقلابی قدم اٹھایا۔
برطانیہ میں ’ٹیسٹ قوانین‘ نافذ تھے، جن کے تحت سرکاری عہدے کے لیے چرچ سے وفاداری لازمی تھی، لیکن امریکی آئین کی دفعہ 6 (Article VI) میں واضح طور پر لکھ دیا گیا کہ ریاستہائے متحدہ کے تحت کسی بھی عہدے یا سرکاری ملازمت کے لیے کوئی مذہبی ٹیسٹ بطور شرط لازمی نہیں ہوگا۔
اُس وقت بھی ولیم لینکاسٹر جیسے ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح تو کوئی یہودی یا مسلمان بھی اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ سکتا ہے۔
لیکن جیمز ایریڈل جیسے قانون دانوں نے دلیل دی کہ مذہبی ٹیسٹ صرف منافقت کو جنم دیتے ہیں۔ ایک بددیانت شخص جھوٹا حلف اٹھا کر عہدہ پا لے گا، جبکہ ایک سچا اور دیانتدار شخص اپنے ضمیر کی خاطر پیچھے ہٹ جائے گا۔
اس طرح وفاداری کا معیار عقیدے کے بجائے آئین کو قرار دیا گیا۔
پہلی ترمیم: آزادی کی ایک سطر
1789 میں جیمز میڈیسن نے وہ مشہور ’پہلی ترمیم‘ پیش کی جو آج امریکی آزادی کا ستون ہے۔
اس کے الفاظ مختصر مگر جامع ہیں کہ کانگریس کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو کسی مذہب کے قیام سے متعلق ہو، یا اس پر آزادانہ عمل درآمد کو روکے۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ کا نہ تو کوئی سرکاری مذہب ہوگا اور نہ ہی ریاست کسی کے ذاتی عقیدے میں مداخلت کرے گی۔
چودہویں ترمیم اور عدالتی جنگیں
ابتدا میں یہ قوانین صرف وفاقی حکومت پر لاگو تھے، لیکن 1868 کی ’چودہویں ترمیم‘ کے بعد عدالتوں نے اسے ریاستوں کے لیے بھی لازمی قرار دے دیا۔
1962 کے مشہور ’انجل بمقابلہ ویٹل‘ کیس میں سپریم کورٹ نے اسکولوں میں سرکاری دعا کو بھی غیر آئینی قرار دے دیا، تاکہ ریاست کا غیر جانبدارانہ کردار برقرار رہے۔
کیا ایک مسلمان صدر بن سکتا ہے؟
آئینی طور پر اس کا جواب ایک واضح ’ہاں‘ ہے۔ جس طرح 1960 میں جان ایف کینیڈی (پہلے کیتھولک صدر) اور حال ہی میں مسلمان اراکینِ کانگریس (جیسے الہان عمر اور کیتھ ایلیسن) منتخب ہوئے۔
امریکی آئین کسی بھی عقیدے کے حامل شہری کو صدر بننے سے نہیں روکتا۔ رکاوٹ آئینی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی ہو سکتی ہے۔
آئین بطور ڈھال
ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں جس طرح مذہبی بیانیہ استعمال کیا جا رہا ہے، وہ بلاشبہ امریکی آئینی روایات کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ امریکی آئین نے غلامی، خانہ جنگی اور عالمی جنگوں کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ آئین صرف اقلیتوں کا تحفظ نہیں کرتا، بلکہ یہ اکثریت کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے نمائندے کا انتخاب ’مذہبی شناخت‘ کے بجائے ’اہلیت‘ کی بنیاد پر کریں۔
بانیانِ امریکہ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ جب مذہب کو سیاست کا آلہ بنایا جاتا ہے، تو دونوں کی روح کو نقصان پہنچتا ہے۔
لہذا انہوں نے مذہب کو سیاست سے الگ رکھ کر ضمیر کی آزادی کو محفوظ کر دیا۔ آج امریکہ کا سیاسی مستقبل خواہ کتنا ہی غیر یقینی کیوں نہ ہو، اس کا آئینی ڈھانچہ اب بھی آمریت اور مذہبی تسلط کے خلاف سب سے مضبوط دفاعی لکیر ہے۔