اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

خفیہ نظام: 7 ہفتوں کی جنگ میں آبنائے ہرمز کس نے اور کیسے عبور کی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
بحری نقشے پر آبنائے ہرمز کی ناکابندی اور 'شیڈو فلیٹ' کے خفیہ راستوں کی نشاندہی
ایران کے جزیرہ قشم کے ساحل سے دُور آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر جہاز (فوٹو: الجزیرہ)

28 فروری سے شروع ہونے والی امریکی و اسرائیلی جنگ اور ایران کے خلاف بحری ناکابندی کے باوجود عالمی توانائی کی اہم ترین شریان آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 7 ہفتوں پر محیط جنگ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کشیدہ ترین حالات میں بھی جہاز رانی کا ایک خفیہ اور متبادل نظام ہرمز میں سرگرم عمل رہا۔

جنگ اور ناکابندی کے دوران جہاز رانی

تحقیقات کے مطابق یکم مارچ سے 15 اپریل 2026 تک کے عرصے میں ہرمز سے 202 بحری سفر ریکارڈ کیے گئے۔ 

اِن میں خام تیل کے ٹینکرز، کارگو جہاز اور کنٹینر بردار بحری جہاز شامل تھے۔ اگرچہ یہ ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بہت کم ہے، مگر یہ اہم ترین گزر گاہ مسلسل فعال رہی۔

’شیڈو فلیٹ‘: پابندیوں کا متبادل نظام

بحری نقشے پر آبنائے ہرمز کی ناکابندی اور 'شیڈو فلیٹ' کے خفیہ راستوں کی نشاندہی
امریکی دباؤ برقرار، خوراک کے ذخائر 3 ماہ میں ختم ہونے کا خدشہ (فوٹو: انٹرنیٹ)

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں میں 77 ایسے تھے جن کا براہِ راست یا بالواسطہ تعلق ایران سے تھا۔

ان میں 61 جہاز بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ یہ ’شیڈو فلیٹ‘جعلی پرچموں اور فرضی کمپنیوں کے ذریعے عالمی پابندیوں کو چکما دینے میں کامیاب رہا۔

صورتحال کی 3 مراحل میں تقسیم

رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے مرحلے (یکم مارچ تا 6 اپریل) میں 126 جہاز گزرے۔ دوسرے مرحلے (7 تا 13 اپریل) یعنی جنگ بندی کے دوران 49 جہازوں نے سفر کیا۔

آخری مرحلے (13 تا 15 اپریل) میں امریکی ناکابندی کے باوجود 25 جہازوں نے گزرنے میں کامیابی حاصل کی۔

امریکی ناکابندی کو شکست دینے کی کوششیں

13 اپریل کو جب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر مکمل بحری ناکابندی کا اعلان کیا تو اس کے ابتدائی 36 گھنٹوں کے دوران کم از کم 2 جہازوں نے ناکابندی کو توڑتے ہوئے خلیج سے باہر نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔

یہ جہاز بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود اپنی منزلوں کی جانب گامزن رہے۔

ایرانی آئل فیلڈز خطرہ امریکی ناکابندی تیل بحران
آبنائے ہرمز (فوٹو: اے ایف پی)

مشکوک سرگرمیاں اور جعلی پرچموں کا جال

ڈیجیٹل تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ کئی جہازوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے خودکار شناختی نظام (AIS) کو بند رکھا۔

اسی طرح بعض جہازوں نے جزیرہ قشم اور جزیرہ لارک کے قریب غیر معمولی راستے اختیار کیے۔ ان جہازوں میں سے 16 نے ایسے ممالک کے پرچم لگا رکھے تھے جنہیں بین الاقوامی طور پر جعلی تسلیم کیا جاتا ہے۔

توانائی کے ٹینکرز کا غلبہ

اگرچہ پوری صورت حال میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، مگر ہرمز سے گزرنے والی کل تعداد کا 36.2 فیصد (68 جہاز) توانائی کی مصنوعات لے جانے والے ٹینکرز تھے۔

حیران کن طور پر 72 فیصد خشک مال بردار جہازوں کا تعلق کسی نہ کسی طرح ایران سے جڑا ہوا تھا، جو ناکابندی کے باوجود فعال رہے۔

آبنائے ہرمز کا موجودہ منظر نامہ یہ ثابت کرتا ہے کہ 47 برس کی پابندیوں نے ایران کو تجارتی بقا کے متبادل طریقے سکھا دیے ہیں۔ 

اگرچہ روایتی اور قانونی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے، مگر ایک زیر زمین لاجسٹک نیٹ ورک اب بھی پوری دنیا کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے، جس پر جنگی اثرات اور ناکابندی کی منطق کا اطلاق روایتی پیمانوں سے مختلف ہے۔