اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ڈیل یا تصادم: امریکہ، ایران مذاکرات فیصلہ کن لمحات میں داخل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران مذاکرات
امریکہ، ایران مذاکرات میں پیش رفت، سفارتی حل کی امید، آئندہ دن فیصلہ کن

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نمایاں بہتری کے اشارے ملے ہیں۔

امریکی ایلچی وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت جاری ہے، جبکہ باخبر ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں حالیہ عرصے کے دوران قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ 

پاکستانی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سفارتی سطح پر حقیقی موقع پیدا ہو رہا ہے، جو ممکنہ طور پر تعطل کے خاتمے اور کسی بڑے بریک تھرو کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن مذاکرات کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہوں گے کیونکہ اسی دوران حتمی سمت کا تعین متوقع ہے۔

تاہم اس پیش رفت کے باوجود اختلافات بدستور موجود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کی جانب سے پیش کئے گئے 

نظرثانی شدہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی حکومت کے لیے ’غیر تسلی بخش‘ قرار دیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں اور ایرانی پیشکش قابل قبول نہیں۔

54564646
آئندہ چند دنوں کو فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے

دوسری جانب ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے اپنے 14 نکاتی منصوبے پر امریکی ردعمل موصول ہو چکا ہے، جس کا فی الوقت جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اس مرحلے پر جوہری پروگرام سے متعلق براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔

پاکستان فعال
ثالث کے طور پر
کردار ادا
کر رہا ہے

ایرانی تجویز میں کئی اہم نکات شامل ہیں، جن میں خطے سے امریکی افواج کا انخلا، ایران پر عائد بحری محاصرہ ختم کرنا، منجمد اثاثوں کی رہائی، پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ کا مکمل اختتام شامل ہے۔
تاہم جوہری پروگرام پر بات چیت کو مؤخر کرنے کی ایرانی شرط، واشنگٹن کے اس مطالبے سے متصادم ہے جس میں وہ فوری اور سخت پابندیوں کا خواہاں ہے۔
ادھر پاکستان مسلسل ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اپریل 2026 سے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت اور تعمیری کردار قرار دیا۔

اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجویز پر تنقید کی تاہم انہوں نے حالیہ بیانات میں مذاکرات کو ’انتہائی مثبت‘ بھی قرار دیا اور عندیہ دیا کہ یہ بات چیت بالآخر سب کے لیے بہتر نتائج لا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے حالیہ ترمیم شدہ تجویز میں کچھ لچک دکھائی گئی ہے، جس سے اس بات کی امید پیدا ہوئی ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔