ایرانی تجویز میں کئی اہم نکات شامل ہیں، جن میں خطے سے امریکی افواج کا انخلا، ایران پر عائد بحری محاصرہ ختم کرنا، منجمد اثاثوں کی رہائی، پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ کا مکمل اختتام شامل ہے۔
تاہم جوہری پروگرام پر بات چیت کو مؤخر کرنے کی ایرانی شرط، واشنگٹن کے اس مطالبے سے متصادم ہے جس میں وہ فوری اور سخت پابندیوں کا خواہاں ہے۔
ادھر پاکستان مسلسل ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اپریل 2026 سے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈیل یا تصادم: امریکہ، ایران مذاکرات فیصلہ کن لمحات میں داخل
Overseas Post